Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

نوجوانوں کی طرف سے بڑوں کو التجا

ثناء اللہ پاکستانی

اللہ نے جب لوگوں کو پیدا کیا تو انہیں مختلف صلاحیتوں سے نوازا، پس ایک چھوٹا سا بچہ نوجوان کی طرح نہیں اور نوجوان عمر رسیدہ شخص جیسا نہیں: اللہ کا ارشاد ہے: (اللہ وہ ہے جس نے تمہیں کمزوری سے پیدا کیا، پھر اس نے کمزوری کے بعد تمہیں قوت بخشی پھر قوت کے بعد کمزوری دیتا ہے، اور بڑھاپے تک پہنچاتا ہے، اللہ تخلیق کرتا ہے جو چاہے، وہ علم رکھنے والا اور قدیر ہے۔)

زندگی کے مراحل میں نوجوانی کا مرحلہ اہم ترین ہے، اس لئے اسلام نے اس پر خاص توجہ دی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن بندے کے قدم نہیں ہلیں گے یہاں تک کہ اس سے چار باتوں کے متعلق پوچھا جائے گا، عمر کے متعلق کس چیز میں فنا کی، جوانی کے متعلق کہ اسے کس چیز میں مبتلا رکھا۔ ۔۔۔الخ) انسان کی عمر کا یہ مرحلہ حرکت، نشات اور کام کرنے کا ہوتا ہے۔ اور طبیعی طور پر نوجوان اسی چیز سے متاثر ہوتا ہے جو اسے گھیرے ہوئے وہ چاہے وہ ایجابی ہو یا سلبی، مفید ہو یا نقصان دہ ۔ نوجوانوں کی ایجابی اثر اندازی کے متعلق یہ کہ انہوں نے نبی اکرمﷺ کی مدد ومعاونت کی جس کا اشارہ اس حدیث میں ہے: میں حنیفی عادات پر مبعوث کیا گیا، پس نوجوانوں نے میری نصرت کی، اور شیوخ کبر سن کے لوگوں نے مجھے چھوڑدیا۔

اس لئے قوموں کی امیدیں ہم نوجوانوں سے ہوتی ہیں، ان کے ابھرنے، ان کے بڑھنے اور ان کے نامور ہونے سے ممالک دنیا میں آگے بڑھتے ہیں۔ ہم نوجوان نئی طاقت ہیں اور کل کا عظم ہیں، مگر ہم محتاج ہیں ۔۔۔ حکمت کے اور تجربے کے جو بڑوں کے پاس ہوتا ہے۔ پس ہمارے اوپر نہ ڈالیں، مگر ہمیں وقت دیں تاکہ ہم تجربہ حاصل کریں، اور مہارت حاصل کریں۔ آپ ہمارے نگہبان رہیں، ہمیں ایسے ہی فضول نہ چھوڑدیں ، ہمارا ساتھ دیں ہمارے ساتھ کام کریں اس طرح جس طرح ہمارے داداؤں نے تمہارے ساتھ کام کیا۔ پس اگر وہ تمہارے ساتھ نہ رکتے تو تم بھی ایسا تجربہ ومہارت حاصل نہ کرتے۔

آپ بھی ہمارے ساتھ صبر آزما طریقے سے کام کرو، اور ہماری تصحیح کرو، ہم سب تمہاری نصیحت وتوجیہات کو سنیں گے۔ پس اگر ہم میں سے کسی سے کوتاہی ہوجائے تو یہ نوجوانی کی عمر کا تقاضا ہے، ہماری آراء کو بیوقوفانہ نہ سمجھیں، ہمارے اعمال کی تحقیر نہ کریں، پس جو ہم کرتے ہیں وہ ہمارے چند تجربات کا عکس ہوتا ہے، مگر ہمارے ہاں قابلیت ہے ہے کہ ہم اپنی خطاؤں کو درست کر سکیں، اگر ہمارے پاس نافرمانی ہوجائے تو وہ امر ہونے والا ہے، وہ جلد ہی بھول جائے گا اگر ہمیں کوئی نصیحت کرے، اور ہمیں ہماری غلطیاں بتائے، پس ہمارے لئے آپ کی رضامندی اہم ہے ، پس ہمارے ساتھ آپ کو صبرِ جمیل کرنا پڑے گا، ہم سے بھلائی لیں تمام قوموں اور بندوں کے لئے۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment