Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

ورزش اور وہ کھیل جن سے ورزش ہوتی ہے اُن کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

ڈاکٹر/ خالد عبد الرازق

ترجمہ ڈاکٹر/احمد شبل 

ورزش انسان کے جسم کے اعضاء کے لیے کئی قسم کی منتظم حرکات میں سے ایک حرکت کا نام ہے۔ انسان اسے اپنی صحت ، اور اپنے بدن کی قوت اور مضبوطی کے لیے کرتا ہے۔

اسلام نے انسان کے تمام جوانب اور صحت اور قوت کے لحاظ سے ان کی حفاظت کا اہتمام کیا ہے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وجہ سے ہمیشہ روزہ رکھنے سے منع کیا ہے۔ کیوں کہ انسان اس طرح اپنے آپکو کھانے پینے سے محروم رکھتا ہے، اور اسی طرح ہمیشہ قیام کرنے سے بھی منع فرمایا ہے کہ انسان اپنے آپ کو نیند سے محروم رکھتا ہے ۔

عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے مجھ سے فرمایا: اے عبداللہ! کیا ایسا نہیں ہے کہ تم دن میں روزہ رکھتے ہو اور رات کو قیام کرتے ہو، میں نے کہا کہ بالکل یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ نے فرمایا: ایسا نہ کر، روزہ رکھ بھی اور افطار بھی کر، قیام بھی کیا کرو ، اور سویا بھی کرو، کیوں کہ تمہارے جسم کا تم پر حق ہے، اور تمہاری آنکھوں کا تم پر حق ہے، اور تمہاری بیوی کا تم پر حق ہے، اور تمہارے مہمان کا تم پر حق ہے۔

آپ نے فرمایا: قوی مومن ضعیف مومن سے بہتر ہے، اور اللہ کو بھی زیادہ پسند ہے۔ اور دونوں میں خیر ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ورزش انسان کی صحت کو قوت بخشتا ہے اُس کی صحت کی حفاظت کرتا ہے اور بہت سے امراض سے اُس کو بچاتا ہے، اور اس کا بدن، دل اور دماغ کے مضبوط بنانے میں کردار ہے،

نبی نے بچوں اور بڑوں میں مقابلہ بھی کرایا ہے اور خود بھی اُس میں حصہ لیا ہے۔ ابو داود نے کتاب المراسیل میں سعید بن جبیر سے روایت کی ہے  کہتے ہیں کہ کہ نبی پاک بطحا میں تھے اور یزید بن رکانہ یا رکانہ بن یزید اور اُس کے ساتھ  اعنز نبی پاک کے پاس آئے ۔

اور آپ سے کہا کہ یا محمد! آپ میرے ساتھ مسابقہ کریں گے ۔آپ مجھ سے آگے نہیں جا سکتے ہیں آپ نے فرمایا؛ اگر میں آپ سے آگے جاؤں تو آپ مجھے کیا دیں گے۔ اُس نے کہا! کہ ایک بکری آپ نے اُن کے ساتھ مسابقہ کیا اور آپ جیت گئے اور وہ بکری پکڑ لی ۔ رکانہ نے کہا کہ دوبارہ مسابقہ کریں۔ بار بار کیا ، لیکن آپ جیت گئے۔

رکانہ نے کہا کہ آج تک مجھ سے کوئی جیتا نہیں ہے، لیکن آپ ہر بار میں جیت گئے ہیں۔

اُس نے پھر اسلام قبول کر لیا، تو آپ نے اُس کو بکریاں واپس دے دیں اس کی سند صحیح ہے۔

ابو داؤد نے صحیح سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ وہ آپ کے ساتھ سفر میں تھی اور اُنھوں نے آپ کے ساتھ مسابقہ کیا اور آپ جیت گئیں، پھر بعد میں جب میں فربہ ہو گئی تھی تو آپ نے مسابقہ کرنے کا کہا تو آپ جیت گئے تو آپ نے فرمایا؛ کہ یہ اُس کا بدلہ ہوا۔

اُس سے واضح ہوا کہ ورزش اگرچہ انفرادی ہو یا اجتماعی شرعی مقاصد میں سے ہے، صحت کی حفاظت کے لیے، عقل کی قدرات بڑھانے میں معاون ہے اور بہت سی امراض سے نجات دیتا ہے

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment