Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

ان لوگوں کے بارئے میں اپ کا کیا خیال ہیں جو کہتے ہیں کہ دین کے تابعداری کرنا علم اور ترقی کے راستے میں روکاوٹ ہیں

د. خالد عبد الرازق

ترجمة /د. أحمد شبل

ان لوگوں کے بارئے میں اپ کا کیا خیال ہیں جو کہتے ہیں  کہ دین کے تابعداری کرنا  علم اور ترقی کے راستے میں روکاوٹ ہیں جو لوگ کفار سے متاثر ہیں  اور انکے فیشن کے وجہ سے دھوکہ میں پڑھے ہیں  اور وہ کہتے ہیں کافر کفر کے وجہ سے ترقی کرتے ہیں  بس اس وجہ سے کفار  مختلف میدانوں میں ترقی کرتے ہیں  اور مسلمانوں کے ممالک پیچھے ہیں  اور مسلمان گمان کرتے ہیں  کہ کافروں کے ترقی اور مسلمانوں کا پیچھے رہنے کا سبب دینداری ہیں بلکہ وہ  دین کو بدنام کرتے ہیں  کہ پیچھے رہنے کا سبب  دینداری ہیں  اور ترقی کے لئے روکاٹ بنتا ہیں  لیکن یہ اندازہ صحیح نہیں ہیں بلکہ یہ صرف گمان اور.

اندازا ہیں جبکہ اس وقت میں ایک فکر جو انسان کے اندر سوچ کا مادہ ہو  تو انسان اسکی   رائے اور موقف اور سوچ اور فکر اس کی  تردید کرتا ہیں  کیونکہ یہ کوئی دلیل اور بنیاد نہیں رکھتا  مگر افسوس کی بات یہ ہیں کہ یہ خیال بہت سے مسلمانوں کے زہنوں کے.اندر واقع ہوا ہیں  مگر مسلمان نوجوان  کفار کے اس سوچ ست متاثر ہیں بلکہ مسلمانوں کا یہ سوچ ہیں  کہ دین تقدم اور.ترقی یہ ناکامی کا سبب ہیں اس وجہ سے یہ.فکر  مسلمانوں کا یورپ میں انقلاب سے پہلے  بعض یہود علماء سے سیکھا  تھا  جنہوں نے مسلمانوں کے کے سوچ پر حملہ کیا تھا  اور دین کے خلاف لڑتے تھے

اور وہ بہت عرصے سے اندھیرئے میں تھے  پھر اس سے علمانیت  پیدا ہوا اور الحاد کے طرف دعوت دینے لگے اور اس کو دین بنایا  اور یہ حالت اس سے مختلف ہیں  جو اسلامی تعلیمات اس کو دعوت دے  اور اسمانی رسالت اس کے زریعہ آیا تھا  وہ اسمانی رسالت   جو اسلامی ثقافت سے بھرا ہوا ہیں  اور انسانیت کو ہاتھ سے پکڑ کر اس دنیاوی اور اخروی ترقی کی طرف کھنچتا ہیں  جو کہ ایک معتدل مزہب ہیں جس میں کچھ بھی باطل نہیں ہیں  اللہ تعالی فرماتے ہیں  اللہ نے جو  کچھ اپ کا دیا ہیں اس میں اخرت ڈھونڈو  اور دنیا کا حصہ بھی مت  بھلنا اور احسان کرو جس طرح اللہ نے اپ کے اوپر احسان کیا ہیں اور زمین میں فساد مت کرو  بیشک اللہ فساد کرنے والوں کے ساتھ محبت نہیں کرتا  اور یہ ایک منھج ہیں  جو صحیح علم کی قدر کرتا ہیں  نہ کہ اس میں غلو کرنا  اور نہ اس کے شان میں کوئی کوتاہی  نہیں پس  اسلام کا حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض کر دی.گئی ہیں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائی  علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہیں  اور اللہ تعالی نے علماء کو مرتبہ.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے  علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہیں  اور اللہ تعالی نے علماء کو مرتبہ اور کسی کو نہیں دیا اللہ تعالی فرماتے ہیں  آیا وہ برابر ہیں جو علم رکھتے ہیں اوع جو علم نہیں رکھتے بیشک خالص لوگ عبرت حاصل کرتے ہیں  دین اسلام انسان کو اخلاق سیھکاتا ہیں   اور اسکے مدد کرتے ہیں  اور ترقی کے لئے انسان کے اخلاق ہیں مثال  صداقت اور امانت وفا ایک دوسرے کے ساتھ معاونت  سخاوت عاجزی بھادری لوگوں کے ساتھ نرمی معاملات کرنا  کاموں میں اعتدال  دین اسلام شر اور  اسکے صفاتوں سے منع کرتے ہیں  جو ترقی کے باب میں مانع ہیں  جس طرح زمین میں فساد کرنا  اسراف کرنا ظلم کرنا  حد سے تجاوز کرنا   جھوٹ خیانت   علم کے لئے بس یہی صحیح منھج ہیں اور یہ کوئی تجلف نہیں ہیں بلکہ بعض لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ ان کو صحیح منھج کا پتہ نہیں  بلکہ یہ تو اللہ تعالی کے منھج سے مدد لینا ہیں کہ اللہ پورے جہان کا خالق اور مدبر ہیں  انسان کا خالق مصور ہیں  اگر ایک امت جتنا  بھی گمراہ ہو   اگر اس منھج خو اختیار کرلے تو پھر کامیابی اسکو ملی گی اور اس کا تجربہ ہوا ہیں . اس زمانہ میں  پہلے مسلمان جو اس منھج پر چلتے تھے  اور انہوں نے پورے  دنیا پر حکومت کی ہیں  اخلاق اور علم کے اعتبار سے  اور انیوں  نے روشنی سے زمین کے اطراف بھر دیئے

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment