Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ذو النورین

پروفیسر ڈاکٹر عبد الرحمٰن حماد الأزہری

آپ کا نام سیدنا عثمان بن عفان بن أبی العاص بن أمیۃ ، آپ کی والدہ ماجدہ أروی بنت کریز بن ربیعۃ  وہ نبی کریم ﷺ کی پھوپھو کی بیٹی تھیں، آپ عام الفیل کے چھ سال بعد 576 ء میں  طائف میں پیدا ہوئے، آپ کے والد ماجد کا انتقال جاہلیت میں ہوا تھا اور آپ کی والدہ ماجدہ أروی بنت کریز مسلمان ہوئیں ان کا انتقال آپ کے زمن خلافت میں ہوا۔ زمانہ جاہلیت میں سیدنا عثمان لوگوں کی محبت میں شہرت رکھتے تھے،  اور آپ اپنی حکمت اور عقل اور رائے میں اعلیٰ مقام رکھتے تھے، اپنی زندگی میں کبھی شراب نہیں پی، اور آپ کا شمار قریش کے شرفاء اور مالداروں میں تھا، سیدنا ابو بکر صدیق کی دعوت پر آپ نے اسلام قبول کیا، آپ کی عمر اس وقت تقریبا چونتیس سال تھی سیدنا ابو بکر صدیق اور سیدنا علی بن ابوطالب اور زید بن حارث  کے بعد پہلے اسلام میں داخل ہونے والوں میں سے ہیں، اس لحاظ سے آپ اسلام میں داخل ہونے والے چوتھے تھے۔ غزوہ بدر بنی کریم ﷺ کا پہلا غزوہ تھا، جب اس کے لئے رسول اللہ ﷺ نے آواز دی تو مسلمان لبیک کہتے ہوئے نکل پڑے ان میں سیدنا عثمان بھی جبکہ ان کی زوجہ خسرہ کے مرض میں مبتلا تھیں،  تو رسول کریم ﷺ نے انہیں اپنی زوجہ کے پاس رہنے کا حکم دیا تو آپ اپنی زوجہ کے ساتھ رہے یہاں تک کہ وہ وصال فرما گئیں، جب مسلمان غزوہ سے فتح وکامرانی کے بعد لوٹے تو رسول کریم ﷺ کو اپنی بیٹی رقیہ کے انتقال کا علم ہوا، تو آپ ﷺ نے سیدنا عثمان کے عقد میں دوسری بیٹی سیدہ ام کلثوم دی اسی وجہ سے سیدنا عثمان کو اوصاف حمیدہ کا مالک اور اعلیٰ اخلاق کا مالک جانا جاتا ہے،  آپ کی سچائی اور حکمت ہی تھی جو اپنی زندگی میں کبھی بتوں کو سجدہ تک نہیں کیا،  عرب کے انساب کی معرفت رکھتے تھے اور اللہ کے راستے میں بہت خرچ فرماتے تھے،  سب سے بڑی بات یہ کہ اس طرف توجہ دلائیں   اہم اور خاص موقعہ عام العسرۃ  (9 ھ) کی طرف  کہ آپ رضی اللہ عنہ نے غزوہ تبوک کا دوتہائی لشکر تیار کیا،  رسول کریم ﷺ نے فرمایا  “عثمانکوآجکےبعد کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا جو آج اس نے کیا “، ہمیں چاہئے کہ ہم اس کار خیر کو دیکھیں جو نہ نماز ہے نہ حج نہ روزہ پھر بھی اس اعلیٰ مرتبہ تک سیدنا عثمان کیسے پہنچے، یہ تو یہ آپ کا کارنامہ اپنی خلافت میں قرآن کریم کو ایک مصحف میں جمع کر کے والیوں کو بھیجنا  ہے، جب بہت سی قراءات اور لہجے سامنے آئے جس کی وجہ سے لوگوں میں لہجوں کے اختلاف ابھرنے لگے۔

آپ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا وصال باسعادت اٹھارہ ذی الحجہ 35 ہجری کو 82 سال کی عمر میں ہوا۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment