Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

عمرالفاروق رضی اللہ عنہ

«اے میرے رب اسلام کو اپنے دو لوگوں میں سے اپنے پسندیدہ سے عزت بخش «

ڈاکٹر/عبدالرحمن حمادالأزھری

اس دعا کے ساتھ رسول اللہﷺ نے حضرت عمرؓ کے اسلام کی امید ظاہر کی۔ تو عمر بن الخطاب کون تھے، آپ کا نسب اور ولادت اور قصہ قبولِ اسلام کیا تھا یہ معلومات یہاں سے میسر ہوسکے گی۔

آپ کا نسب یوں ہے: عمر بن الخطاب بن نفیل بن عبد العزی بن ریاح بن عبد اللہ بن قرط بن زراح بن بن عديْ بن کعب بن لؤی بن غالب بن فھربن مالک بن النضربن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضربن نزاربن معدبن عدنان۔ آپ کا نسب نبی اکرمﷺ سے آپ کے دادا کعب پر جا ملتا ہے۔

آپکی والدہ  کا نام حنتمہ بنت هشام بن المغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم تھیں۔ آپ کا نسب والدہ کی طرف سے نبی اکرمﷺ سے کلاب بن مرّہ پر ملتا ہے۔

آپ کے دادا نفیل بن عبد العزی قریش کے فیصلے کیا کرتے تھے۔

آپ کی ولادت نبی اکرمﷺ کی ولادت اور عام الفیل (ہاتھیوں والے سال) کے تیرہ سال بعد ہوئی۔   آپ کی تربیت قریش خاندان میں ہی ہوئی۔ آپ علم وفضل اور تحریر کے لحاظ سے تمام ہم عصرین پر غالب تھے۔ آپ نے بچپن ہی میں اپنے والد اور ماموں کے ریوڑ چرا کر گلبہ بانی کا کام شروع کرکے باقاعدہ زندگی شروع کی ۔ ساتھ ہی پہلوانی، گھڑ دوڑ وگھڑ سواری، شعروشاعری، عکاظ  مجنہ اور ذی المجاز کے بازاروں میں تجارت بھی کی، یہاں تک کہ آپ کا شمار مکہ کے مالداروں میں ہونے لگا۔

آپ نے6  نبوی میں اسلام قبول کیا، اس وقت آپ کی عمر 26 سال تھی، تقریبا چالیس لوگ اس وقت تک ایمان سے بہرہ ور ہو چکے تھے۔ آپ کے قصہ اسلام میں کئی روایات مشہور ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آپ نے اس وقت ایمان لیا جب آپ نبی اکرمﷺ کو روکنے کی غرض سے جارہے تھے، تو آپ کو معلوم ہوا کہ نبی اکرمﷺ مسجدِ حرام کی طرف نکلے ہوئے ہیں ۔ آپﷺ سے ملنے گئے تو آپﷺ کو دوران نماز قرآن پڑھتے ہوئے پایا تو ترتیبِ قرآن سے تعجب زدہ ہوئے۔ پھر گمان کیا ہے نبی اکرمﷺ شاعر ہیں جیسا کہ اہل قریش بیان کرتے ہیں۔ تو نبی اکرمﷺ نے دورانِ نماز تلاوت کی:

﴿إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلاً مَا تُؤْمِنُونَ﴾ [الحاقّة، الآية: 40_41]،

ترجمہ: 

پھر گمان کیا ہ نبی اکرمﷺ کاہن ہیں، تو آپﷺ نے دورانِ نماز پڑھا:

﴿وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ قَلِيلاً مَا تَذَكَّرُونَ﴾ [الحاقّة، الآية: 42]

ترجمہ:

اس وقت حضرت عمرؓ کے دل میں ایمان داخل ہوگیا ، اور آپ نے زبان سے بھی کلمہ شہادت  ادا کردیا۔ اس کے علاوہ دیگر روایات بھی آپ کے قصہ اسلام میں مشہور ہیں۔

آپؓ کے اخلاق وعادات ایسی ممتاز تھیں کہ امت میں کسی اور شخص میں نہیں پائی جاتیں۔ ایسی عادات کی وجہ سے نبی اکرمﷺ کے بعد کوئی بھی آپ سے زیادہ فضیلت نہیں رکھتا، سوائے سیدنا ابو بکرؓکے(رضی اللہ تعالی علیہم اجمعین)۔    آپ کا اخلاص اور سچائی بے مثل  تھیں۔ حق بات کہنے میں آپ بہت زیادہ جرات والے تھے، کہ کسی قسم کی نرمی اور کمزوری نہ تکھاتئی، ممکن ہے کہ یہی وجہ ہے کہ آپؓ سے شیطان بھی دور رہتے ہوئے دوسرا راستہ اختیار کرلیتا  تھا، جیسا کہ نبی اکرمﷺ نے بتایا ہے کہ: بیشک میں انسانوں اور جنوں میں سے شیطان طینت کو دیکھتا ہوں کہ وہ عمرؓ سے دور بھاگتے ہیں۔ آپؓ انکساری کے پیکر تھے کہ آپ نے دنیا سے کچھ بھی نہ لیا، نہ آپ کے ہاں محلات تھے اور نہ ہی متکبرانہ لباس۔ آپ ہر مسئلے میں اہلِ علم اور اصحابِ علم ودانش سے مشورہ کرتے رہتے تھے۔

آپؓ کی ایسی عظیم شخصیت بھلا منافقین کو کیسے گوارہ گزرتی ،  وہ منافقین جنہوں نے بظاہر اسلام کا اعلان کیا مگر دل میں اسلام اور عزتِ اسلام اور خاص طو رپر عہد عمر میں مسلمانوں کے غلبہ کو ناپسند جانتے تھے۔ ایسا ہی ایک منافق ابو لؤلؤ المجوسی مسجد نبوی میں آیا اس وقت حضرت عمرؓ مسلمانوں کی نماز  میں امامت کر رہے تھے۔ اسی دوران اس شخص نے اپنے زہر آلود خنجر سے فاروقِ اعظم پر وار کیا جس سے آپؓ 33ھ میں اپنے مالکِ حقیقی سے شہید کے صورت میں جا ملے ۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment