Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

حقیقی دینداری سے مراد باطن کی صفائی ہے اگر کہ ظاہری سادگی ہو

د: خالد عبدالنبی

ترجمة د. أحمد شبل

اصل میں دین اللہ خالق سبحانہ وتعالی کے وجود پہ اعتقاد کا نام، اس کی نعمتوں کا اعتراف، اس کی وحدانیت کا اقرار، اس کی قدرت و حکمت پہ ایمان، اس کے احکام اور ممنوعہ چیزوں کو مکمل طور پہ تھام لینا، اس کی قضاۓ قدرت کے آگے سر جھکا دینا ہے۔

دین انسان اور رب کے درمیان رابطے کا نام ہے اور یہ صلہ لوگوں سے مخفی ہے لیکن اللہ جو سینوں کے راز جاننے والا ہے اس سے مخفی نہیں اسی لئیے ایمان کا محل دل ہے اور یہ سینے کے درمیان کے چھوٹا ٹکڑا ہے کوئی نہیں جانتا اس کے اندر کیا ہے اور انسان کے پاس اختیار ہے کہ  وہ لوگوں سے وہ کچھ چھپاۓ جو اس کے اندر ہے بلکہ وہ ایسے اعمال کرتا ہے جو لوگوں کی نظر اس کے ارادے کے خلاف ہوتے ہیں اس لئیے نیت کو مشروع کیا گیا اور اعمال کے ساتھ اس کا ربط رکھا گیا۔

نبی ﷺ‎ نے فرمایا: ”اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئیے وہی ہے جو اس نے نیت کی پس جس کی ہجرت اللہ تعالی اور اس کے رسول کی خاطر ہے تو اس کی ہجرت ان کے لئیے ہے اور جس کی ہجرت دنیا کے لئیے ہے تو اسے  اپنا حصہ مل جاۓ گا یہ کسی عورت سے شادی کی خاطر ہے تو اس کی ہجرت اسی کے لئیے ہے جس کی خاطر اس نے ہجرت کی“. پس نیت عمل کے ساتھ محدد ہے جس کا مقصد اللہ تعالی کی رضا ہے۔

یہاں تک کہ عقیدے اور ایمان اور کفر کا مسئلہ ہے تو اپنے ایمان میں اگر سچا مومن اس سے بھی کوئی کام خلاف ہو جاۓ تو اسے ایمان سے خارج نہیں کر سکتا۔

ادھر منافق  جو ایمان، ورع اور تقوی ظاہر کرتا جبکہ ان کے  دل کفر اور نفاق سے بھرے ہیں جیسے اللہ رب العزت نے اپنی کتاب میں بیان کیا:

اور یہ بات دوسرے درجے پہ آتی کہ مسلمان اور کافر کی صحیح پہچان اس کے ذریعے ہو سکتی مسلمان ستر کی پردہ پوشی کرتا ہے جبکہ مختلف لباس اور زیب و زینت کی لطف اندوزی منع نہیں کی گئی نبی ﷺ‎ نے صاف بدن اور خوبصورت کپڑوں کی ترغیب دلائی تاکہ باطن کے ساتھ ظاہر کی بھی موافقت ہو اور اگر کوئی اس پہ عمل نہیں کرتا تو اس کو ملامت نہیں کیا جاۓ گا نہ لوگوں کو اس پہ قیاس کیا جاۓ گا

 

رسول اللہ ﷺ‎ نے فرمایا: ((جس کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہو گا وہ جنت میں داخل نہیں ہو گا“ ایک آدمی کہنے لگا یقینا انسان پسند کرتا ہے کہ اس کے کپڑے اور جوتے اچھے ہوں تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: بے شک اللہ تعالی خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے، تکبر یہ ہے کہ آپ لوگوں کو حقیر سمجھیں اور حق بات کو پیچھے کر دیں۔

ایک شخص نبی ﷺ‎ کے پاس سے گزرا تو آپ نے اس کے بارے پوچھا کہ کیسا شخص ہے تو آپ نے کہا بڑا شریف ہے کسی سے نکاح کا مطالبہ کرے تو لوگ اسے اپنی بہن بیٹی دے دیں اور اگر سفارش طلب کرے تو قبول کی جاۓ گی تو نبی ﷺ‎ نے کہا یہ بندہ صحیح نہیں بلکہ یہ ظاہر میں ایسا لگ رہا۔

جب کہ دوسرا شخص گزرا تو اس میں یہ صفات نہیں تھیں بلکہ وہ بہت سادہ لوح لگ رہا تھا تو نبی ﷺ‎ نے کہا اصل میں یہ بندہ ہے زمین میں ایسے لوگ نہیں ملتے

پس دین کا حکم ظاہری حالت کو دیکھ کے نہیں لگا سکتے رسول اللہ ﷺ‎ نے فرمایا: شاید کہ غبار آلود اور بکھرے بالوں والا اللہ پہ قسم کھاۓ تو وہ پوری کر دیتا ہے۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment