Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

خاندانی طرز کی بنا میں اسلام کی رواداری

 خاوند منتخب کرنے کے طرز

ڈاکٹر: سوسن الھدھد

ترحمۃ ڈاکٹر: احمد شبل

اسلام نے عورت کو عزت دی اور اس کی زندگی کے مختلف ادوار میں بیٹی، بیوی اور والدہ کی حیثیت سے اس کا خیال رکھا۔

اسلام کی رواداری میں سے ہے کہ اس نے خاوند کو بیوی کے حقوق کی ذمہ داری دی، اور اسے اس کے حقوق میں شامل کیا تاکہ وہ اس کے ساتھ امن، سلامتی اور محبت سے رہے۔

نبی ﷺ‎ کا ارشاد ہے:

”بیوہ کا نکاح مشورے کے بغیر نہیں کیا جاۓ گا، اور کنواری کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہیں کیا جاۓ گا، صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ﷺ‎! اس کی اجازت کس طرح ہو گی

آپ علیہ السلام نے فرمایا:

کہ وہ خاموش رہے“

جب بیوی اسلامی معیار کے مطابق خاوند اختیار کرے گی تو اس کا کا اثر ان کی ازدواجی زندگی پہ ہو گا اس کے بعد ان کے بیٹوں، خاندان اور ان کے معاشرے پر ہو گا۔

اسلام نے عورت کو خاوند اختیار کرنے میں بہت سے طرز کی ترغیب دی جن میں سےاہم یہ ہیں۔

١: اسلام نے عورت کو ترغیب دی کہ وہ صاحب دین اور اخلاق والے شخص کو اختیار کرے اللہ تعالی کا فرمان ہے:

”اور نکاح کر دو کردو اپنوں میں اُن کا جو بے نکاح ہوں اور اپنے لائق بندوں اور کنیزوں کا اگر وہ فقیر ہوں تو اللہ اُنہیں غنی کردے گا اپنے فضل کے سبب اور اللہ وسعت والا علم والا ہے“

اور نبی ﷺ‎ نے فرمایا:

”جب تمھارے پاس کوئی ایسا شخص آۓ جس کے دین اور اخلاق سے تم راضی ہو تو اس کا نکاح کر دو، اگر تم نے ایسا نہ کیا تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد پھیلے گا“

پس بیوی کو چاھئیے کہ وہ دین و اخلاق والے انسان کو ترجیح دے، کیونکہ اگر وہ اس سے محبت کرے گا تو اسے عزت دے گا، اور اگر ناپسند کرے گا تو رسوا نہیں کرے گا“

اگر خاوند میں دین کے ساتھ اچھے اخلاق کی صفت ہوئی  تو افضل چیز ہے، پس جو دین و اخلاق والا، اور نیک اور اللہ عزوجل کا حق ادا کرنے والا ہو گا تو اس نے بیوی کے لئیے دونوں جہانوں میں سعادت کا سامان کر دیا، اور جو دین و اخلاق میں صالح نہ ہوا تو وہ اللہ تعالی اور اس کے بندوں کا حق بھی ضائع کرنے والا ہو گا۔

نبی ﷺ‎ نے اپنی بیٹی فاطمة رضی اللہ عنھا کا نکاح علی رضی اللہ عنہ سے ان کے فقر کے باوجود کر دیا تاکہ یہ واضح کردیں کہ خاوند اختیار کرنے کی اہم بنیادیں دین اور اچھا اخلاق ہے۔

٢: حسن معاشرت والے آدمی کو اختیار کیا جاۓ:

یہ چیز اس کے بارے سوال اور لوگوں کے ساتھ اس کے رہن سہن اور معاملے کے ذریعے معلوم ہو گی۔

فاطمة بنت قیس رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ‎ کو خبر دی کہ دو صحابہ کرم رضی اللہ عنہما نے آپ کو نکاح کا پیغام دیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا:

”جہاں تک ابو جہم کی بات ہے تو وہ اپنے کندھے سے لاٹھی نہیں اتارتا، اور معاویة کے پاس مال نہیں، آپ اسامة بن زید سے نکاح کریں“

اس حدیث سے استدلال کیا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ‎ نے فاطمة رضی اللہ عنہا کو ابو جہم کی سختی، اور معاویة کے پاس مال نہ ہونے کی وجہ ان سے نکاح نہ کرنے کی وصیت کی۔

٣: اچھے حالات والے آدمی کو اختیار کیا جاۓ جو کماۓ اور بیوی پر خرچ کرنے والا اور باعزت زندگی گزارنے والا ہو، پس نبی ﷺ‎ نے فاطمة بنت قیس کو معاویة رضی اللہ عنہ سے نکاح کی نصیحت اس لئیے نہیں کی کہ اس کے پاس مال نہیں ہے۔

٤: ایسا شخص ہو جو عیبوں سے سلامت ہو، یعنی عورت ایسا شخص اختیار کرے جہ عیبوں سے سلامت، ایسی بیماریاں جن کی وجہ سے زندگی مشکل ہو جاۓ، اور ایسے امراض جن سے جلدی شفاء نہ ملنے والی ہو، مثلا مردوں کے جنسی امراض یا عام دوسری بیماریاں جنون، برص اور کوڑھ جیسی بیماریاں۔

٥: ایسا شخص ہو جو مسئولیت کا حامل ہو یہاں تک کہ وہ اپنے ذمہ واجبات کو پورا کرنے والا ہو اور اسے معلوم ہو کہ وہ اپنی رعیت پہ مسئول ہے۔

نبی ﷺ‎ نےفرمایا: ”تم میں سے ہر کوئی راعی ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے سوال ہو گا“

٦: اچھے حسب و نسب والے آدمی سے شادی کی جاۓ

اسلام نے حکم دیا کہ ہم اپنے نطفے کے اختیار کے لئیے اچھے نسب کی کوشش کرنی چاھئیے، کیونکہ لوگ معادن ہیں، اور نیک خاندان کی تکوین میں حسب اور پاکیزہ اصل کا اثر ہوتا ہے۔

نبی ﷺ‎ نے فرمایا:

”اپنے نطفوں کے لئیے اختیار کرو اور کفو سے نکاح کرو“

یہاں خاوند اختیار کرنے کے دوسرے طرز بھی ہیں لیکن جو ذکر ہوۓ وہ زیادہ اہم ہیں۔

اور کوئی مانع نہیں اگر مال اور حسب کے ساتھ دین کا عنصر جمع ہو، لیکن دین کو چھوڑ کر صرف عورت کا مال کے لحاظ سے خیال رکھنا تو اس سے نبی ﷺ‎ نے تنبیہ کی۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment