Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

خاندانی طرز کی بنا میں اسلام کی رواداری

بچوں کی تربیت کا طرز

ڈاکٹر سوسن الھدھد

ترجمہ ڈاکٹر: احمد شبل

اسلام میں خاندان کی رعایت کا بڑا اہتمام ہے اور اس کے مسائل کا احاطہ کر کے وہ تمام راستے مہیا کر کے جو خاندان کو اپنے واجبات کو سر انجام کر دینے کا اھل بنا دے۔ اور جب اچھے خاندان بننے کی وجہ سے معاشروں پہ بہرین اثر پڑتا ہے اور ان میں خیر، عدل اور صلاح کا بول بالا ہوتا ہے۔

  بچوں کی تربیت اور ان کی پرورش میں، اور ان کے اندر اچھے نظریات پیدا کرنے میں ان کے  والدین کا بڑا کردار ہے۔ نبی المصطفی ﷺ‎ نے اولاد کی تربیت میں خاندان کی اہمیت اور اس کی مسؤلیت کی تاکید کرتے ہوۓ فرمایا:

”تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے سوال ہو گا“ پس والدین اپنی اولاد کی تربیت کے مسئول ہیں۔ نبی ﷺ‎ نے فرمایا: ”ہر بچہ فطرت سلیمة پہ پیدا ہوتا ہے پس اس کے والدین اس کو یہودی بنائیں یا نصرانی یا مجوسی“

یعنی ہر بچہ فطرت پہ پیدا ہوتا ہے بے شک والدین کا اولاد کو بہترین شخصیت بنانے میں اہم کردار ہے جب والدین نے اپنی اولاد میں اچھا اخلاق اور انہیں صحیح کردار میں ڈھالنے کی کوشش کی تو وہ درست منہج پہ ان کی پرورش میں کامیاب ہو گئے جس سے اللہ عزوجل راضی ہو جاۓ گا اور یہ والدین کی وفات کے بعد بھی ان کے لئیے ذخیرہ ہو گا۔

نبی ﷺ‎ نے فرمایا: ”جب ابن آدم فوت ہو جاتا ہے تو تین چیزوں کے سوا اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے ان میں سے ایک ”نیک اولاد ہے“ یہ ضروری ہے کہ کہ والدین اپنی اولاد کے پاس بیٹھیں اور ان کی راہنمائی کریں۔

اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: ”اور جب لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوۓ کہا: اے پیارے بیٹے اللہ کے ساتھ شریک مت ٹھرانا بے شک شرک عظیم ظم ہے“  ”وھو یعظہ“ جملہ اسمیہ ہے اور جملہ اسمیہ ثبوت اور دوام پہ دلالت کرتا ہے۔ اسلام نے متعدد ایسے طرز کی تاکید کی اور والدین کے لئیے ضروری ہے کہ اپنی اولاد کو ان کی تعلیم دیں اور ان کو سکھائیں ان میں سے اہم درج ذیل ہیں۔

١: فرائض کی ادائیگی کی پابندی:

والدین کو چاھئیے کہ بچوں کو نماز سکھائیں اور بچپن ہی سے ان کو اس کا عادی بنائیں اسلام نے بچوں کی تعلیم میں جو تدرج اختیار کیا وہ عظیم مبدا ہے نبی ﷺ‎ نے فرمایا:  ”اپنے بچوں کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو،  دس سال کی عمر میں ادا نہ کریں تو ان کو مارو اور ان کے بستر الگ کر دو“

٢: والدین، پڑوسی، رشتہ داروں کے ساتھ اچھے اخلاق والا معاملہ کرنا ۔ اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ”اللہ سبحانہ وتعالی کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھراؤ اور والدین، قریبی رشتہ دار، یتیم، مسکین،  قریبی اور دور کے پڑوسیوں اور مسافروں کے ساتھ احسان کرو“ النساء ٣٦  بلاشبہ نبی علیہ السلام نے پڑوسی کے ساتھ اچھا معاملہ کرنے کی ترغیب دلائی آپ علیہ السلام نے فرمایا: ”جو اللہ اور یوم آخرت پہ ایمان لاتا ہے اسے چاھئیے کہ پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کرے“ اور پڑوسی کے حقوق کے بارے طویل حدیث میں ذکر ہوا۔

٣: اجازت طلب کرنا: والدین کو چاھئیے کہ وہ بچوں کو اجازت لینے کا عادی بنائیں حتی کہ اگر وہ قریبی رشتہ داروں کے پاس بھی تاکہ وہ ان سے مانوس ہوں اور ۔۔۔۔۔۔

عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ‎ کیا میں اپنی والدہ سے اجازت لوں تو آپ نے کہا: جی“ قرآن کریم نے اس کی ترغیب دی ((اور جب تم میں سے لڑکے جوانی کی عمر کو پہنچ جائیں تو وہ بھی (گھر میں داخل ہونے سے پہلے) اسی طرح اجازت مانگیں جیسے ان سے پہلے (بالغ ہونے) والوں نے اجازت مانگی)) النور ٥٩ چھوٹے بچوں کو والدین کے پاس جانے کی بھی دن میں تین مرتبہ اجازت لینے کی تعلیم دینی چاھئیے اللہ فرماتا ہے:

((اے ایمان والو! تمہارے غلام اور تمہارے وہ لڑکے جو ابھی بالغ نہیں ہوئے تم سے ان تین وقتوں میں اجازت لے کر آیا کریں، صبح کی نماز سے پہلے اور دوپہر کے وقت جب کہ تم اپنے کپڑے اتار دیتے ہو اور عشا کی نماز کے بعد، یہ تین وقت تمہارے پردوں کے ہیں)) النور ٥٨

٤: بڑوں کی عزت اور احترام: والدین کو چاھئیے اپنی اولاد کو بڑوں کی عزت اور احترام اور ان کی قدر کرنا سکھائیں اس کی مثال نبی علیہ السلام کا قول ہے  ”وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پہ رحم نہیں کرتا اور ہمارے بڑوں کے حق کو نہیں پہچانتا“۔

٥: کھانے کے آداب کی تعلیم دینا:

والدین کے لئیے لازم ہے کو بچوں کو تعلیم دیں کہ کھانے کے آداب ہیں مثلا تسمیہ پڑھنا، شروع میں دعا پڑھنا، دائیں ہاتھ سے کھانا۔

عمر بن أبو سلمة رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں میں رسول اللہ ﷺ‎  کی گود میں بچہ تھا اور میرا ہاتھ پلیٹ میں گھومتا تھا تو نبی علیہ السلام نے مجھے کہا: ”اے بچے! اللہ کا نام لو، دائیں ہاتھ سے اور اپنے سامنے سے کھاؤ“

اور کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دھونے چاھئیں کیونکہ اسلام صفائی والا دین ہے۔

نبی ﷺ‎ نے فرمایا: ”کھانے سے پہلے اور بعد میں وضو کرنا برکت ہے“

اس کے علاوہ دوسرے طور طریقے مثلا تلاوت قرآن کے وقت خاموشی اختیار کرنا، سچائی، امانت، راز کی حفاظت وغیرہ ہے۔ کوئی شک نہیں تعریف ثناء اور شکر کے کلمات کے وقت بچوں کے لئیے اعتماد کا مضبوط ہونا اور گھر کے اندر یا باہر ان کی عزت کرے سے ان میں اچھی عادات مزید بڑھیں گی۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment