Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

لفظ اور ایک مسلمان کی زندگی میں اس کا اثر

دكتور: محمد الراسخ

ترجمة د. أحمد شبل الأزهرى

اللہ رب العزت کے  عظیم انعامات جو اس نے انسان پر احسان کیۓ ان میں سے ایک زبان کی نعمت اور اس کا استعمال ہے۔ اللہ عزوجل نے فرمایا: ” رحمن، جسن نے قرآن سکھایا، انسان کو پیدا کیا، اس کو بیان سکھایا“ سورة الرحمن

اور اللہ عزوجل نے فرمایا:

”کیا ہم نے اس کی دو آنکھیں اور زبان اور دو ہونٹ نہیں بناۓ“ سورة البلد

انسان اپنے دل کے خیالات کا اظہار زبان کے ذریعے ہی کرتا ہے، اور جو اس کے دل میں ہوتا ہے بیان کرتا ہے، ایک بسیط کلمة جو زبان سے  بڑی آسانی سے ادا ہو جاتا ہے لیکن شریعت میں اس کا بڑی قیمت اور مرتبہ ہے، مومن اس بات پہ مامور ہے کہ اس کی بات درست ہو اور اس میں کوئی ٹیڑھا پن نہ ہو اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور درست بات کہو، وہ تمھارے اعمال کی اصلاح کر دے گا اور تمھارے گناہوں کو بخش دے گا“ سورة الأحزاب

زبان ایسا پہیہ ہے جو باقی اعضاء کی قیادت کرتی ہے اگر یہ مستقیم ہو گی تو باقی اعضاء بھی سیدھے رہیں گے اور اس نے کج روی اختیار کی تو باقی اعضاء بھی کج روی اختیر کریں گے۔

اسلامی بھائیو! کلمة تیز دھاری دار اسلحة ہے چاھے تو اسے خیر کے لیۓ استعمال کرو تو اجرو ثواب حاصل کرو اور چاھے شر میں استعمال کرو تو سزا کے مستحق بن جاؤ۔

یہاں سے شریعت نے ایک منہج وضع کیا ہے جو ہماری انسانیت اور کلام پر مشتمل ہے، اور بہت سے امور میں اس منہج کی علامات کی مثالیں ہیں ان میں سے مہم درج ذیل ہیں:

انسان کو خاموشی اختیار کرنی چاھیۓ اور اسے خیر کی باتہی بیان کرنی چاھیۓ، پس خاموشی ایک ایسی عظیم فضیلت ہے اکابر اور قوی شخصیات ہی اسے اختیر کر سکتی ہیں کیونکہ نفس کی شہوت خاموشی میں نہیں بللکہ بولنے میں ہے، اور خاموشی میں ہی نجات ہے جس کا کلام کثرت اختیار کر گیا اس کی خطائیں زیادہ ہو گئیں۔

اگر ہم قرآن وسنت میں غورو فکر کریں تو اسی نتیجے پہ پہنچیں گے کہ وہ دونوں خاموشی اختیار کرنے اور خیر کی بات کرنے کی ہی ترغیب دیتے ہیں اللہ رب العزت کا فرمان ہے” ان کی بہت سی باتوں میں خیر نہیں ہوتی سواۓ اس کے جس نے صدقہ یا نیکی یا لوگوں کے درمیان اصلاح کرنے کی بات کی“ سورة النساء

رسول اللہ علیہ السلام فرماتے ہیں: ”جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتا ہے اسے چاھیۓ کہ خیر کی بات کہے یا خاموش رہے“

دوسرا کام : جس کو اختیار کرنے کی شارع نے وصیت کی وہ کلام میں جلدی سے گریز کرنا ہے بللکہ انسان کہ چاھیۓ کہ وہ کوئی کلمة ادا کرنے سے پہلے تدبر اور غورو فکر سے کام لے اور اسے چاھیۓ کہ وہ اس کلمے کا موازنہ شریعت کے مطابق کرے اگر اس میں خیر و بھلائی کی بات ہو تو بیان کرے ورنہ رک جاۓ۔

اسی طرح شریعت نے تنبیہ کی کہ انسان کو بات کرتے وقت اللہ عزوجل کی مراقبت کا خیال رکھنا چاھیۓ لازم ہے کہ تمھارے ذہن میں یہ بات ہو کہ تم جہاں بھی ہو اللہ تمھارے ساتھ ہے۔

بلاشبہ اللہ تعالی نے تمھارے لیۓ دو فرشتوں کو مقرر کر دیا جو تمھاری ہر بات کو درج کر رھے ہیں تو جب کسی بری بات کا قصد کرو تو اللہ سبحانہ وتعالی کے فرمان کو یاد کر لو”جو لفظ بھی وہ بولتا ہے اس پہ نگران اور حاضرین ہیں“سورة ق

ایک اور مقام پہ ارشاد ربانی ہے ” اور یقینا تم پر نگہبان ہیں، باعزت لکھنے والے، انہیں معلوم ہے جو تم کرتے ہو“

اسی طرح انسان کو چاھیۓ کہ وہ جب بات کرے تو وہ اس کی جزاء کا بھی منتظر ہو یعنی اگر آپ نے کسی اچھی  اور بھلائی والی بات کا قصد کیا تو جنت کی مثال آپ کے سامنے ہے اور اگر بری بات کا ہدف ہے تو جہنم کی مثال آپ کے سامنے ہے تو یہ بہتر ہے جو آپ کو اپنی زبان پہ قابو رکھنے کی معاونت کرے

                          وصلی اللہ علی سیدنا محمد وعلی آلہ وصحبہ وسلم

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment