Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

اقوال و افعال میں سچائی کی فضیلت

ڈاکٹر عبد الرحمن حماد الأزھری

 ترجمۃ ڈاکٹر: احمد شبل الازھری

صدق درحقيقت  متکلم کے پکے يقين کے ساتھ واقعه کے مطابق بات کا نام هے اور یہ جھوٹ کے مخالف ہے۔

اور کسى فرد کى إنفرادى اورإجتماعى زندگى ميں انسانى نفس کى سب اچهے صفات  ميں سے هے ، صدق کلام کی زینت، اور إصلاح و استقامت کا رمز ہے، یہ کامیابی اور نجات کا ذریعہ ہے، سچائی اخلاق حمیدہ میں سے ہے اوريه ایمان کی اصل اور اللہ تعالی کے عذاب سے نجات کی اساس ہے۔ صدق تلوار کی مانند ہے جب باطل سے اس کا مقابلہ ہوتا ہے تو وہ اسے پچھاڑ دیتا ہے، جب ایک عاقل شخص سچائی کو اپناتا ہے تو اس کی بات وزن دار اور دلیل مظبوط ہوتی ہے، اور سچائی تمام اعمال صالحة اور ایمانی احوال کی چابی ہے اور يه اللہ تعالی پر ايمان کے بعد قلبی اعمال میں سے سب سے افضل ہے۔

انسان سچائی  کی وجہ سے ہی ھدایت حاصل کرتا ہے جیسے حدیث میں ہے” سچائی کو لازم کر لو بے شک سچائی نیکی کی طرف رہنمائی کرتا ہے“ سچائی کے ذریعے ہی منافقین اور اھل ایمان میں فرق ہوتا ہے اور حدیث میں منافق کی تین نشانیاں ہیں ان میں سے ایک يه که جب وہ بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے۔

سچائی اپنے بولنے والے کو دنیا اور آخرت میں نفع دیتی ہے اللہ تعالی نے فرمایا: “يَوْمُ يَنْفَعُ الصَّادِقِينَ صِدْقُهُمْ لَهُمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا“. ”اس دن سچ بولنے والوں کو ان کی سچائی نفع دے گی ان کے لیۓ باغات ہں جن کے نیچے نہریں چلتی ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔” عبد اللہ بن عباس نے فرمایا: چار چیزیں جس میں ہوں گی وہ نفع پا گیا: سچ بولنا، حیاء، عمدہ اخلاق، اور شکر۔ اسی وجہ سے سچائی معاشرے کی ضروریات اور اس کی نادر حاجات میں سے ہے، اور معاشره اسکى تأثير سے منعکس هوتا هے. 

سچائی کی کچھ اقسام ہیں ان میں سے پہلی قسم (سچ بولنا)

اس سے مراد: زبان کا سچا ہونا اور یہ کہ کسی چیز کے متعلق خبرکو حقیقت کے مطابق بیان کرنا ہے، اور یہ سچائی کی سب سے مشہور اور واضح قسم ہے۔ جس نے اپنی زبان کو حقیقت کے برعکس خبروں محفوظ کر لیا وہ سچا ہے۔

٢: نیت اور ارادے میں سچا ہونا: اور یہ کہ اس کو ریاکاری جیسی برائی سے پاک اور صرف اللہ تعالی کے لیۓ خالص کرنا ہے، اور یہ اخلاص کی طرف لوٹتا ہے اور اس سے مراد یہ هے کہ اسکى حرکات و سکنات ميں اللہ تعالی کى خوشنودى کے علاوہ کوئی اور سبب نہیں ہے۔

٣: افعال میں سچائی: اس سے مراد قول کی فعل کے ساتھ مطابقت ہونا ہے جیسے قسم اور وعدے کو پورا کرنا، اور يه کہ انسان يهاں تک کوشش کرے کہ اس کے ظاہری اعمال اس چیز پہ دلالت نہ کرتى هوں جو اس کے باطن میں هيں. اور جو افعال هو کررها هے اسکا من اس پر راضى نه هو. اسکا يه مطلب نهيں که وه عمل کرنا چهوڑ دے بلکه اپنے اندر اور باهر کے اعمال کو ايک دوسرے کى تصديق پر قائل کردے.

 

سچائی کی علامات

سچائى کى اہم علامات میں سے حق کا اقرار اور اس کو تسلیم کرنا ہے، سچائی کی علامات میں سے ہے کہ وہ ہمیشہ حق کا اقرار اور معاملات میں حقیقت کی تلاش کى کوشش کرتا ہے. اللہ رب العزت نے سچ فرمایا: “وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلالا مُبِينًا“. ”کسی مومن مرد اور عورت کے لائق نہیں کہ اللہ عزوجل اور اس کا رسول کسی بات کا فیصلہ کر دیں تو ان کو اس معاملے میں کوئی اختیار ہو اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے تو بلاشبہ وہ واضح گمراہی میں ہے“

*اعمال کو پوشيده رکھنا” اعمال کو پوشیدہ رکھنے سے مراد لوگوں کے سامنے ظاہر اور مشہور ہونے کا خوف رکھنا ہے، اور الله کے نيک اور صالح بندہ وہ ہے جو اس چیز کی پرواہ نہیں کرتا کہ اللہ تعالی کے معاملے ميں لوگ اسکى قدر نهيں کرتے ، اور وہ یہ پسند نہیں کرتا کہ لوگ اس کے ذرہ برابر عمل سے بھى باخبر ہوں۔

*باطن کی ظاہر اور ظاہر کی باطن کے ساتھ موافقت: اور یہ سری عمل ہے۔

جب بھی ظاہری موافقت ہو گی تو یہی باطنی موافقت ہے اور یہ اعضاء کا دل کے سچے ہونے کی موافقت کرنا ہے۔

علی بن أبی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : ”ہر اس عمل کو کرنے سے بچو جس کو اگر تم ظاہر کرو تو تمھیں شرمندگی ہو اور ایسا عمل بھی جس کا تذکرہ کسی نافرمان سے کیا جاۓ تو وہ انکار کرے“

*تو مسلمان کو چاھیۓ کہ وه اپنے باطن کو درست کرے تاکہ اللہ عزوجل اس کے ظاہر کی اصلاح کر دے۔

سينے کا إصلاح ہونا اور جب سینہ خالی ہو گا اور دل امراض قلبی سے تندرست ہو گا اور اپنے بھائیوں سے محبت رکھنے والا، ظلم زیادتی اور سر کشی سے بچنے والا اور عدل، خیر خواھی اور دلوں ميں محبت کا حریص ہو گا اور لوگوں کی خوشی اور غم میں ان کی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کرنے والا ہو تو ایسا بندہ دل کا سچا، صاف دل والا، نفس کى اطمئنان والا اور ایک ہی حال پر رہنے والا ہے۔

سچائی کے انعامات:

۔۔اللہ عزوجل نے سچے لوگوں کے ساتھ عظیم کامیابی اور بہت زیادہ اجر کا وعدہ کیا ہے اللہ تعالی نے فرمایا: :”هَذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصَّادِقِينَ صِدْقُهُمْ لَهُمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ“.

” یہ وہ دن ہو گا جب سچ بولنے والوں کو ان کی سچائی نفع دے گی اور ان کے لیۓ ایسے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں چلتی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رھیں گے اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہو گۓ یہی عظیم کامیابی ہے“

۔۔دل کا ثابت قدم اور مطمئن و پر سکون رہنا.  بيشک یہ وه دل هوگا جو حق پر ثابت قدم رھے۔

اللو عزوجل نے فرمایا: :”يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ وَيَفْعَلُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ“.

”اللہ تعالی ایمان والوں کو دنیا و آخرت کی زندگی میں سچی بات کی وجہ سے ہی ثابت قدم رکھتا ہے، ظالموں کو اللہ گمراہ کر دیتا ہے اور اللہ سبحانہ وتعالی جو چاھتا ہے کرتا ہے۔“

۔۔برکتوں کا نزول: سچائی کے ذریعے برکتیں نازل ہوتیں ہیں، بھلائیاں عام ہوتی ہیں اور رحمتیں اترتی ہیں مال کی فراوانی ہو جاتی ہے اور اولاد کی اصلاح ہو جاتی ہے۔ سچائی سے ہی وقت میں برکت اور آپس ميں إتحاد وإتفاق قائم هوتا  ہے

اور یہ سب سچائی ہی کی برکت سے ہوتا ہے رسول کریم علیہ السلام نے فرمایا” دونوں تجارت کرنے والے کو اس وقت تک اختیار ہے جب تک وہ جدا نہیں ہو جاتے اگر انہوں نے سچ بیان کیا اور واضح کر دیا تو ان کی تجارت ان کے لیۓ نفع بخش ہو گی“ پس سچائی کے ذریعے دونوں فریقین کے لیۓ برکت کا حاصل کرنا شرط ہے۔

محترم سامع!

سچائی کے ذریعے اللہ رب العزت کے ہاں تیری قدرو منزلت بلند ہو گی اور مخلوق کے نزدیک بھی باعزت رہوگے, سچائی کی وجہ سے تیرے احوال درست ،تیرا رہن سہن پاکیزہ اور اللہ تعالی تمھیں جھوٹ جیسی گندگی سے نجات دے گا” اللہ عزوجل تمھارے اندر اعتماد، بات میں درستگی، اور آخرت میں تمھیں کامیابی اور نجات سے نواز دے گا۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment