Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

دہشتگردوں سے سامنا کرنے والوں کا مرتبہ

ڈاکٹر: محمدی عبدالبصیر حضیری

ترجمة ڈاکٹر: أحمد شبل الأزهرى

معاشرے میں امن کی تحقیق ایک مہم قومیت ہے جس کو مخلص لوگ ہی سر انجام دیتے ہیں وہ جو معاشرے کی حمایت کا شرف پاتے ہیں اور ایسے چیلنج جو معاشرے میں دہشتگردی اور ایسے اعمال جو حدود سے تجاوز کر جائیں ان کا مواجھة کرتے ہیں مثلا قتل، تباہی اور فساد کا باعث بنتے ہیں۔

اللہ ﷻ نے ان کے برے اعمال کی مثال کو کچھ اس طرح بیان کیا: ((درحقیقت ایسے لوگوں کی مثال جو اللہ عزوجل اور اس کے رسول ﷺ‎ سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد کی کوشش کرتے ہیں))

پھر ان کا کردار اور مرتبہ جو زمین میں دہشتگردی جیسے فساد، قتل و تباہی جیسے جرائم کا سامنا کرتے ہیںیہ مرتبہ ان کا ہے جو اپنی ارواح کو وطن کی حمایت و دفاع کے لئیے پیش کر دیتے ہیں، اس مکان و مرتبے کی اہم نشانیاں یہ ہیں:

* ایسے لوگ نہایت افضل اعمال کو ادا کرنے کا کام سر انجام دیتے ہیں اس کی مثال حدیث میں ہے ”اللہ رب العزت کی راہ میں ایک دن جہاد کرنا دنیا اور اس میں جو کچھ ہے اس سے بہتر ہے“

* ایسے لوگ دو اچھے کاموں میں جمع ہوتے ہیں مسلم کی حدیث میں ہے ”اللہ تعالی کی راہ میں نکلے مجاھد کی مثال، روزہ رکھنے والے اور قیام کرنے والے شخص کی طرح ہے، اور اللہ سبحانہ وتعالی مجاھد کی ذمہ داری لیتا ہے اگر وہ فوت ہوا تو جنت میں داخل کرے گا یا وہ اجر وثواب اور مال غنیمت حاصل کر کے تندرست لوٹے گا“

* جنت تلواروں کے ساۓ تلے ہے ” ادوات استعمال ہونے والی چیزیں اور تمام اسلحہ“

* اللہ رب العالمین نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لئیے

جنت میں١٠٠ درجے تیار کر رکھے ہیں اور دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمانوں و زمین کے درمیان ہے۔

وہ لوگ جن کی جانب دہشتگرد دھوکہ دینے والے ہاتھ بڑھاتے ہیں اور انہیں قتل کر دیت ہیں وہ شھداء ہیں، اوراللہ تعالی کے نزدیک شھید کا مرتبہ بہت بلند وبالا ہے اس کی مہم مثالیں درج ذیل ہیں:

* وہ شہادت کے رتبے سے فیض یاب ہوۓ اللہ کا فرمان ہے”اور شھداء کے لئیے اپنے رب کے پاس اجر اور نور ہو گا“

* ان کا مقام انبیاء و صدیقین کے ساتھ ہو گا ارشاد باری تعالی ہے: ”وہ لوگ جن پر اللہ تعالی نے انعام کیا وہ انبیاء، صدیقین، شھداء اور صالحین کے ساتھ ہوں گے کتنی اچھی رفاقت ہے“

* شہید جنت میں فردوس اعلی کا درجہ پاۓ گا۔

نبيﷺ‎ کا قول وارد ہے ”اے ام حارثہ جنت میں مختلف مقام ہیں اور تیرے بیٹے کو الفردوس الاعلی ملی ہے“

* اللہ عزوجل شہید سے بغیر حجاب کے بات کرے گا

حدیث میں ہے کہ رسولﷺ‎ نے جابر بن عبداللہ رضي اللہ عنہما سے فرمایا: ”اللہ تعالی نے تیرے والد کو زندہ کیا اور اس سے بغیر حجاب کے بات کی“

یہ وہ مرتبہ ہے جو ان کے عمل کے مناسب ہے جنہوں نے اپنی جانیں وطن کی حمایت کے لئیے فدا کر دیں۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment