Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

درست کردار کے بنانے میں عبادات کا کردار

د. محمدى عبد البصير

ترجمة د. أحمد شبل

مسلمان جب اللہ رب العزت کی مشروع کی ہوئی عبادات نماز، زکاة، روزے اور حج میں غور کرے تو وہ دیکھے گا کہ اخلاقی اور ثقافتی ضمن میں ان عبادات کا بہت اہم کردار ہے جیسا کہ عبادات ایک انسان سے دوسرے انسان میں تعاون اور میل جول کی بنیاد ہوتی ہیں۔

عبادات کی اساس یہ ہے کہ وہ خالص اللہ رب العزت کی خاطر اور اسی کی خاطر کرنی چاھیں اللہ عزوجل کا فرمان ہے ” أَلَا لِلَّهِ ٱلدِّينُ ٱلۡخَالِصُۚ “” دین خالص اللہ کے لیۓ ہی  ہے“

اور دوسری جگہ ارشاد باری ہے ” وَمَآ أُمِرُوٓاْ إِلَّا لِيَعۡبُدُواْ ٱللَّهَ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ  “

” انہیں یہی حکم دیا گیا کہ اللہ کے دین کے لیۓ خالص ہو کے اسی کی عبادت کریں“

 اور اس کی تاکید نبی ﷺ کا قول ہے”درحقیقت اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لیۓ وہی ہے جو اس نے نیت کیا.

جن عبادات کو اللہ عزوجل نے مجموعی طور پر اور مختلف طور پہ مشروع کیا وہ ثقافتی کلچر کی تحقیق پر کام کرتی ہیں جو درست کردار کے بنانے میں حصہ لیتی ہیں ان میں سے طہارت و صفائی کا خیال رکھنا، نمازوں کے اوقات کی پابندی اور اس کی اہمیت کا ادراک کرنا ہے اور اس کی تاکید قرآن کریم میں جہاں  نماز کے بارے آیا ہے وہ فرمان کرتا ہے۔

اللہ رب العزت نے فرمایا: ” إِنَّ ٱلصَّلَوٰةَ تَنۡهَىٰ عَنِ ٱلۡفَحۡشَآءِ وَٱلۡمُنكَرِۗ  “”بے شک نماز برائی اور بے حیائی سے روکتی ہے“

قرآن کریم میں روزوں کے بارے حدیث اور اس کا بدن اور روح پہ اثر کے بارے اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ” يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ كُتِبَ عَلَيۡكُمُ ٱلصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُونَ”

 ”اے ایمان والو تم پر روزے فرض کر دیۓ گۓ جیسے تم سے پہلے لوگوں پہ فرض کیۓ گۓ تھے تاکہ تم فلاح پاؤ“

اور” وَأَن تَصُومُواْ خَيۡرٞ لَّكُمۡ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ”. ”یہ کہ تم روزے رکھو تو تمھارے لیۓ زیادہ بہتر ہے اگر تم جان لو۔

قرآن میں زکاة کے بارے حدیث اور معاشرے کے افراد میں باہمی ربط اور میل جول کے بارے جو بات محقق ہے اس کے بارے اللہ جل شانہ کا فرمان ہے” وَٱلَّذِينَ فِيٓ أَمۡوَٰلِهِمۡ حَقّٞ مَّعۡلُومٞ٢٤ لِّلسَّآئِلِ وَٱلۡمَحۡرُومِ “.”اور وہ لوگ جن کے مالوں میں مقررہ حق ہے، سائل اور محروم کے لیۓ“

تحقیق قرآن کریم نے حج اور اسکے شعائر کے بارے اور لوگوں کے درمیان پہچان اور تواصل کے بارے بات کی کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :” ٱلۡحَجُّ أَشۡهُرٞ مَّعۡلُومَٰتٞۚ فَمَن فَرَضَ فِيهِنَّ ٱلۡحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي ٱلۡحَجِّۗ وَمَا تَفۡعَلُواْ مِنۡ خَيۡرٖ يَعۡلَمۡهُ ٱللَّهُۗ وَتَزَوَّدُواْ فَإِنَّ خَيۡرَ ٱلزَّادِ ٱلتَّقۡوَىٰۖ  “.

”حج کے مہینے مقرر ہیں، تو جس نے ان میں اپنے آپ پر حج فرض کیا تو وہ حج کے دوران قربت، گناہ، اور لڑائی جھگڑے سے باز رہے، اور تم جو بھلائی بھی کرو گے اللہ اسے جانتا ہے، اور زاد راہ اختیار کرو بے شک بہترین زاد راہ تقوی اختیار کرنا ہے“

بے شک اسلامی عبادات ایک انسان کو صالح بنانے میں کام کرتی ہیں جو دوسروں کے ساتھ مل کر ایک وطن بنانے میں اور ان کے ساتھ تعاون کر کے تحقیق تک پہنچتا ہے۔

اللہ رب العزت فرماتے ہیں: ” رَبِّ ٱجۡعَلۡ هَٰذَا بَلَدًا ءَامِنٗا وَٱرۡزُقۡ أَهۡلَهُۥ “.

 ” اے میرے رب اس شہر کو امن والا بنا اور اس کے رہنے والوں کو پھلوں سے رزق عطا کر“

اور وہ یہ سب جہد اور خیر خواہی کرتے ہوۓ اس معاشرے کی محبت کے لیۓ جس میں وہ رہتا ہے اس کے لیۓ پیش کرتا ہے  یہ دین اللہ عزوجل، اس کی کتاب اور  رسول کے لیۓ، ائمة مسلمین اور عام لوگوں کے لیۓ نصیحت ہے جیسے رسول اللہﷺ کا فرمان ہے۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment