Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

بچوں کو سختی سے بچنے اور تسامح اور معاف کر دینے کی تربیت کرنے میں خاندان کا کردار

د. سوسن الهدهد

ترجمة : د. احمد شبل

اسلامی شریعت میں اعلی انسانی اخلاق کا درس موجود ہے اس میں سے ایک تسامح کی صفت ہے یہ ایک عظیم صفت ہے والدین پر لازم ہے کہ بچوں کے اندر یہ صفت پیدا کریں تاکہ وہ امن و سلامتی کے ساتھ زندگی گزاریں تاکہ ان میں داخلی و خارجی استقرار پیدا ہو جائے لغت میں تسامح کا معنی تساھل کے آسانی کرنے دوسرے کو قبول کرنے اس کے ساتھ رہنے کے ہیں اور عنصریت کراہت سختی اور قتال سے بچنے کے ہیں

والدین پر لازم ہے کہ وہ اپنے بچوں میں یہ عظیم اسلامی صفت پیدا کریں اس کا نفسانی سکون اور لوگوں میں محبت پیدا کرنے میں بہت زیادہ اثر ہے اور معاشرے میں استقرار پیدا ہوتا ہے اس سے ، اس کو ہم کئی طرح درجات میں بیان کر سکتے ہیں

1۔ بچوں کو سیرت نبوی صل اللہ علیہ وسلم کی تعلیم دینا آپ صل اللہ علیہ وسلم کی زندگی کئی مراحل و مواقف ہیں جن میں معاف کر دینا دوسروں کے ساتھ رہنا سختی سے بچنا ہے نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم اس حوالے سے ہمارے لیے نمونہ تھے اللہ تعالٰی کا فرمان ہے آل عمران

آیت نمبر 159: «فَبِمَا رَحۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنۡتَ لَهُمۡ‌ۚ وَلَوۡ كُنۡتَ فَظًّا غَلِيۡظَ الۡقَلۡبِ لَانْفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِكَ‌ ۖ «

اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خدا کی مہربانی سے تمہاری افتاد مزاج ان لوگوں کے لئے نرم واقع ہوئی ہے اور اگر تم بدخو اور سخت دل ہوتے ہیں تو یہ تمہارے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِلَّا أُخْبِرُكُمْ بِمَنْ يَحْرُمُ عَلَى النَّارِ وَبِمَنْ تَحْرُمُ النَّارُ عَلَيْهِ؟ عَلَى كُلِّ هَيِّنٍ لَيِّنٍ قَرِيبٍ سَهْلٍ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں ایسے لوگوں کے متعلق نہ بتاؤں جو جہنم کی آگ پر یا جہنم کی آگ ان پر حرام ہے ؟ وہ ہر آسانی کرنے والے ، نرمی کرنے والے ، قریب رہنے والے ، نرم خو پر حرام ہے ۔‘‘ احمد ، ترمذی 2488 ، اور یہ روایت کیا گیا ہے کہ صلح حدیبیہ کے دستخط کے پر آپ صل اللہ علیہ وسلم کچھ حقوق میں کمی اختیار کی تھی جن میں مسلمانوں کے لیے ضرر اور خونریزی تھی نفوس کی حفاظت اور معاشرے میں امن و سلامتی قائم کرنے کے لیے

ابن قیم نے صلح حدیبیہ سے فقہی احکام مستنبط کیے جیسے وہ کہتے ہیں کہ راجح مصلحت کی بنا پر مشرکین سے بعض مصالحت جائز ہے جس میں مسلمانوں پر ضرر آتا ہو

2۔ بچوں کو تعصب دینی اور تمیز عنصری کے اضرار کے بارے میں آگاہی دیں یہ وہ چیزیں ہیں جن سے دوری ، بغض فرقہ پرستی پیدا ہوتی ہے اور وحدت و الفت ختم ہوتی ہے اس سے اجتناب اور دور اختیار کی جائے کیونکہ اسلام معافی و تسامح کا دین ہے اس میں تعصب و عصبیت و عنصریت کی کوئی جگہ نہیں ہے عنصریت کیا ہے : عنصریت تفرقہ بازی ہے اور لوگوں کے درمیان جنس کے طور پر ، رنگ کے طور پر خون کے طور پر یا طبقاتی طور پر ان کے معاملات میں فرق کرنا اور فرقہ واریت کے استعمال سے سختی کراہت اور قتل ہو جاتے ہیں اسلام نے اس عنصریت سے منع کیا ہے اور اس کی بنیاد پر فخر کرنے اور معاملات کرنے سے بچنے کی تلقین کی ہے ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏   لَيْسَ مِنَّا مَنْ دَعَا إِلَى عَصَبِيَّةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَيْسَ مِنَّا مَنْ قَاتَلَ عَلَى عَصَبِيَّةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَيْسَ مِنَّا مَنْ مَاتَ عَلَى عَصَبِيَّةٍ  .‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس نے عصبیت کی دعوت دی ، وہ ہم میں سے نہیں ۔ جس نے عصبیت پر لڑائی کی ، وہ ہم میں سے نہیں اور جو عصبیت پر مرا ، وہ ہم میں سے نہیں ۔‘‘

3۔ بچوں کو اسلام میں فضیلت کے معیار کے بارے میں تعلیم دینا کہ تقوی اور عمل صالح ہی فضیلت کے معیار ہیں الحجرات آیت نمبر 13: » اِنَّ اَكۡرَمَكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ اَ تۡقٰٮكُمۡ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ خَبِيۡرٌ ۞»

  اور خدا کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے بیشک خدا سب کچھ جاننے والا (اور) سب سے خبردار ہے

آپ صل اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے ((یَااَیُّھَا النَّاسُ! اَلَا اِنَّ رَبَّکُمْ وَاحِدٌ، وَاِنَّ اَبَاکُمْ وَاحِدٌ، اَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی اَعْجَمِیٍّ، وَلَا لِعَجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ، وَلَا لِاَحْمَرَ عَلٰی اَسْوَدَ، وَلَا اَسْوَدَ عَلٰی اَحْمَرَ، اِلَّا بِالتَّقْوٰی، اَبَلَّغْتُ؟)) قَالُوْا: بَلَّغَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۳۸۸۵)

اے لوگو! خبردار! بیشک تمہارا ربّ ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے، کسی عربی کو عجمی پر، کسی عجمی کو عربی پر، کسی سرخ کو سیاہ فام پر اور کسی سیاہ فام کو سرخ پر کوئی برتری حاصل نہیں ہے، مگر تقوی کی بنیاد پر، کیا میں نے پیغام پہنچا دیا ہے؟ صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول نے پیغام پہنچا دیا ہے۔

آباء و امھات پر لازم ہے کہ وہ بچوں کو سب کے ساتھ تسامح اور مسالمت کرنے کی تربیت دیں اور سختی قتال اور کراہت کے ہر وسیلے کو چھوڑ دینے کی تعلیم دیں کیونکہ یہ وہ چیز ہے جس کی اسلام دعوت دیتا ہے اللہ تعالٰی کا فرمان ہے الممتحنة آیت نمبر 8: » لَا يَنۡهٰٮكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيۡنَ لَمۡ يُقَاتِلُوۡكُمۡ فِى الدِّيۡنِ وَلَمۡ يُخۡرِجُوۡكُمۡ مِّنۡ دِيَارِكُمۡ اَنۡ تَبَرُّوۡهُمۡ وَ تُقۡسِطُوۡۤا اِلَيۡهِمۡ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُقۡسِطِيۡنَ‏ ۞ «

جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے جنگ نہیں کی اور نہ تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ان کے ساتھ بھلائی اور انصاف کا سلوک کرنے سے خدا تم کو منع نہیں کرتا خدا تو انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ اور اللہ تعالٰی کا فرمان ہے لا اكراه في الدين دین میں زبردستی نہیں ہے بقرة 256.

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment