Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

حیوانوں پر نبی صلى الله عليه وسلم کی رحمت

ڈاکٹر عبد الرحمن حماد الأزھری

 ترجمۃ ڈاکٹر: احمد شبل الازھری

ایک عقلمند مسلمان جو اپنے ارد گرد کی چیزوں کے وجود کے بارے جانتا ہے اور یہ کہ ہر چیز اللہ تعالی کی تسبیح بیان کرتی ہے، آسمان اور زمین رب العالمین کی اطاعت کرتے ہیں۔

اللہ تعالی نے ان کے بارے فرمایا: » ٱئۡتِيَا طَوۡعًا أَوۡ كَرۡهٗا قَالَتَآ أَتَيۡنَا طَآئِعِينَ١١ «

” چاھے زبردستی آؤ یا ناگواری سے آؤ تو ان دونوں نے کہا ہم اطاعت کرتے ہوۓ آئیں گے“ اس معنی سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی علیہ السلام کا جمادات کے ساتھ بھی لگاؤ تھا

ایک تنا آپ کی جدائی پر رونے لگا، اور کنکریاں آپ کی ہتھیلی میں تسبیح کرنے لگیں، اور درخت آپ کی بات قبول کرنے کے لیۓ زمین پر جھک جاتے تھے، اور آپ کی انگلیوں سے پانی جاری ہونے لگا، اور پتھر آپ کہ سلام کرتے تھے، اور پہاڑ آپ علیہ السلام اور آپ کے دونوں ساتھیوں کےلیۓ  ٹھر جاتے تھے

یہ آپ علیہ السلام کے معجزات ہیں جو آپ کی نبوت کے صداقت ہیں۔

جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک تنے کے ساتھ خطبة دیتے تھے، جب آپ کے لیۓ منبر بنا دیا گیا تو جب آپ تنے سے جدا ہوۓ اور اس  منبر کی جانب بڑھے جو آپ علیہ السلام کے لیۓ بنایا گیا تھا، تنے نے حرکت کی اور اس طرح رونے لگا جیسے انونٹنی بلبلاتی ہے، اور ایک اور الفاظ کے مطابق بیل کی طرح چیخنے لگا، بعض الفاظ میں ہے کہ کھجور کا درخت بچے کی طرح چیخنے لگا یہاں کے اس میں شگاف پڑھ گۓ اور وہ اکھڑ گیا، تو نبی علیہ السلام نیچے اترے اور اس اپنے ساتھ لگایا اور اس کے ساتھ شفقت کرنے لگے جیسے بچے کو خاموش کروایا جاتا ہے اور وہ خاموش ہو جاتا ہے، رسول اللہ علیہ السلام نے اسے کہا: منتخب کرو میں آپ کو اسی جگہ لگا دوں جہاں پہلے تھے تو تم اسی طرح ہو جاؤ گے جیسے پہلے تھے، اور اگر چاھتے ہو تو میں آپ کو جنت میں کاشت کروں تو تم اس کے چشموں اور نہروں سے پانی پیو تو آپ کے اگو گے اور پھل دو گے جس سے نیک لوگ کھائیں گے تو اس نے آخرت کو  دنیا پر ترجیح دی: نبی علیہ السلام نے فرمایا میں نے اگر اس کے ساتھ ایسے شفقت نہ کی ہوتی تو وہ قیامت تک روتا رھتا۔

اس میں کوئی تعجب نہیں کہ جمادات کو بھی نبی علیہ السلام کی محبت کا معلوم تھا اور آپ نے ان سے بھی محبت کی تھی

امام احمد رحمہ اللہ یعلی بن مرة رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جارہے تھے تو ایک جگہ رکے تو نبی علیہ السلام سو گۓ، ایک درخت نے اپنی جگہ سے ہٹنے کی اجازت طلب کی اور آپ کو ڈھانپ لیا، اور پھر اپنی جگہ واپس چلا گیا، جب آپ بیدار ہوۓ تو مین نے آپ کے سامنے اس کا ذکر کیا آپ کہنے لگے:

”اس درخت نے اللہ تعالی سے مجھے سلام کرنے کی اجازت مانگی تو اللہ عزوجل نے اسے اجازت دے دی“

بلاشبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی علیہ السلام کے مبارک ہاتھ میں کنکریوں کی تسبیح سنی۔

أبو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:  ”

نبی علیہ السلام کے ہاتھوں میں سات یا نو کنکریاں تھیں، آپ علیہ السلام نے انہیں ہتھیلی میں پکڑا تو انہوں نے تسبیح کی یہاں تک کہ آپ نے شہد کی مکھی کی طرح ان کی بھنبھناہٹ سنی پھر آپ نے انہیں رکھ دیا تو وہ خاموش ہو گئیں  پھر آپ نے انہیں أبو بکر رضی اللہ عنہ کی ہتھیلی میں رکھا تو انہوں نے تسبیح کی یہاں تک کہ شہد کی مکھیوں کی طرح ان کی بھنبھناہٹ سنی پھر انہیں رکھا گیا تو خاموش ہو گئیں۔ پھر آپ نے انہیں رکھ دیا تو وہ خاموش ہو گئیں  پھر آپ نے انہیں عمر رضی اللہ عنہ کی ہتھیلی میں رکھا تو انہوں نے تسبیح کی یہاں تک کہ شہد کی مکھیوں کی طرح ان کی بھنبھناہٹ سنی پھر انہیں رکھا گیا تو خاموش ہو گئیں۔ پھر آپ نے انہیں رکھ دیا تو وہ خاموش ہو گئیں  پھر آپ نے انہیں عثمان رضی اللہ عنہ کی ہتھیلی میں رکھا تو انہوں نے تسبیح کی یہاں تک کہ شہد کی مکھیوں کی طرح ان کی بھنبھناہٹ سنی پھر انہیں رکھا گیا تو خاموش ہو گئیں۔

صرف یہ نہیں بلکہ جب  آپ علیہ السلام جبل احد پہ کھڑے ہوۓ تو وہ  رحمت مھداة کا اپنے اوپر کھڑے ہونے پہ خوش ہوا۔أنس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی علیہ السلام احد پہ چڑھے آپ کے ساتھ أبو بکر، عمر، اور عثمان رضی اللہ عنہم بھی تھے تو وہ کانپنے لگا آپ علیہ السلام نے اس پر اپنی ٹانگ ماری اور کہا: رک جاؤ بے شک آپ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔یہ آپ علیہ السلام کی رحمت میں سے تھا اور آپ کے اللہ کی ساری مخلوقات نے خفیف آواز کے ساتھ بات بھی کی یہاں تک کہ آپ نے ایک پتھر کے سلام کا جواب دیا جو مکہ میں آپ علیہ السلام کو سلام کرتا تھا۔جابر بن سمرة رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ علیہ السلام نے فرمایا: ” بے شک میں اس پتھر کو پہچانتا ہوں جو مکة میں مجھ پر  بعثت سے قبل سلام کرتا تھا، یقینا مجھے ابھی بھی وہ معلوم ہے“۔نبی علیہ السلام نے حیوانوں بلکہ تمام مخلوقات کے ساتھ رحمت کے طریقے پہچانے اور کیوں نہ پہچانتے آپ تو رحمت کا پیکر تھے۔

اوراللہ رب العزت نے سچ فرمایا ”اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیۓ رحمت بن کر بھیجا“

 

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment