Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

حیوانات کے ساتھ شفقت کے معاملے میں رسولُ اللہﷺ ہمارے لیے ایک بہتر ین نمونہ تھے

ڈاکٹر : سوسن الھدھد

ترجمۃ ڈاکٹر : احمد شبل

حیوانات کے ساتھ نرمی کرنا،، ان پر شفقت کرنا یہ ایک انسانی اخلاق ہے ، اسکا مطلب ہوتا ہے کہ آپ ان کے ساتھ رحم دلی کا مظاہرہ کریں،،

اسلام کی سماحت اور خصوصیات میں سے یہ ہے کہ اسکی دعوت صرف بشر کے اوپر رحمت کرنے سے نہیں رُکی یعنی صرف انسان ایک دوسرے کے ساتھ نرمی اور شفقت کریں بلکہ حیوانات کے ساتھ بھی رحمت اور شفقت کریں اسلام نے  اسکی بھی دعوت دی ہے،،، اسلام نے اپنی تعلیم ،آداب اور اخلاقیات میں یہ دعوت دی ہے کہ رحم کا معاملہ حیوانات کے ساتھ بھی کیا جآۓ اور نبیﷺ کے کئ مواقف ہیں جن میں نبی ﷺ  نے حیوانات کے ساتھ بھی شفقت کی مثلا ایک حدیث  ہے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے آپ اپنی حاجت کے لیے تشریف لے گئے، ہم نے ایک چھوٹی چڑیا دیکھی اس کے دو بچے تھے، ہم نے اس کے دونوں بچے پکڑ لیے، تو وہ چڑیا آئی اور  ( انہیں حاصل کرنے کے لیے )  تڑپنے لگی، اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور آپ نے فرمایا:  کس نے اس کے بچے لے کر اسے تکلیف پہنچائی ہے، اس کے بچے اسے واپس لوٹا دو ، آپ نے چیونٹیوں کی ایک بستی دیکھی جسے ہم نے جلا ڈالا تھا، آپ نے پوچھا: کس نے جلایا ہے؟ ہم نے کہا: ہم نے، آپ نے فرمایا:  آگ کے پیدا کرنے والے کے سوا کسی کے لیے آگ کی سزا دینا مناسب نہیں ہے ۔

تو اس حدیث میں  نبیﷺ نے اس بات سے منع کیا کہ پرندوں کو ڈرایا جاۓ ،،اور نہ ہی انکے چھوٹے بچوں کو پکڑا جاۓ،، اسی طرح حیوانات کو جلانے سے بھی منع کیا

اسی طرح حیوانات کو تکلیف دینے سے بھی منع کیا یا انکے ساتھ سختی کرنا یا ،، جسطرح اس حدیث میں آتا ہے کہ ایک اونٹ نے نبیﷺ سے شکایت کی کہ میرا مالک مجھ پر سختی کرتا ہے اور مجھے تکلیف دیتا ہےاور  زیادہ عمل کروتا ہے۔۔اسکی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گۓ تو نبیﷺ نے اسکے اوپر ہاتھ پہیرا،،_ اسطرح سھل بن زلیہ سے روایت ہے: حیوانات کے ساتھ نرمی اور شفقت کا معاملہ کر نا اسباب مغفرت میں سے ہےاسکی وجہ سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں،،_ اس سے یہ واضح ہوتا کہ حیوانات کے ساتھ نرمی کرنے سے گناہ معاف ہوتے ہیں،، اسطرح ابو ہریرہ ؓ سے روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ایک شخص جا رہا تھا کہ اسے سخت پیاس لگی، اس نے ایک کنویں میں اتر کر پانی پیا۔ پھر باہر آیا تو دیکھا کہ ایک کتا ہانپ رہا ہے اور پیاس کی وجہ سے کیچڑ چاٹ رہا ہے۔ اس نے  ( اپنے دل میں )  کہا، یہ بھی اس وقت ایسی ہی پیاس میں مبتلا ہے جیسے ابھی مجھے لگی ہوئی تھی۔  ( چنانچہ وہ پھر کنویں میں اترا اور )  اپنے چمڑے کے موزے کو  ( پانی سے )  بھر کر اسے اپنے منہ سے پکڑے ہوئے اوپر آیا، اور کتے کو پانی پلایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے اس کام کو قبول کیا اور اس کی مغفرت فرمائی۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا ہمیں چوپاؤں پر بھی اجر ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہر جاندار میں ثواب ہے۔ اس روایت کی متابعت حماد بن سلمہ اور ربیع بن مسلم نے محمد بن زیاد سے کی ہے۔

 ہے کہ اللہ نے اس بندے کی مغفرت ہے جس نے ایک کتے کو پانی پلایا،،اور اسکو جنت میں داخل کیا،،_کبھی اسکی وجہ سے کبیرہ گناہ بھی معاف ہو جاتے ہیں جسطرح ابو ہریرہ کی حدیث ہے، ابوداؤدمیں حدیث ہے،یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایک فاحشہ عورت صرف اس وجہ سے بخشی گئی کہ وہ ایک کتے کے قریب سے گزر رہی تھی، جو ایک کنویں کے قریب کھڑا پیاسا ہانپ رہا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ پیاس کی شدت سے ابھی مر جائے گا۔ اس عورت نے اپنا موزہ نکالا اور اس میں اپنا دوپٹہ باندھ کر پانی نکالا اور اس کتے کو پلا دیا، تو اس کی بخشش اسی  ( نیکی )  کی وجہ سے ہو گئی۔“

اس حدیث کے سیاق سے پتہ چلتا ہے کہ زنا ایک گناہ ہے ،،لیکن ایک عورت جو زانیہ تھی اس نے جانوروں کے ساتھ شفقت کی تو اللہ نے اسکو معاف کر دیا،،،

حیوان کے ساتھ سختی کرنے کی وجہ سے انسان جہنم میں  جا سکتا ہے،، _جس طرح بخاری کی حدیث ہے

ایک عورت کو بلی کے سبب سے عذاب دیا گیا ، اس نے بلی کو قید کر کے رکھا یہاں تک کہ وہ مر گئی ۔ وہ عورت اس کی وجہ سے جہنم میں چلی گئی ، اس عورت نے جب بلی کو قید کیا تو نہ اس کو کھلایا پلایا اور نہ اس کو چھوڑا ہی کہ وہ زمین کے اندر اور اوپر رہنے والے چھوٹے چھوٹے جانور کھا لیتی ۔

تو ہمارے اوپر فرض ہے کہ ہم  رسولُ اللہﷺ کی تابعداری کریں ان کا اخلاق ہے کہ جانوروں کے ساتھ نرمی کی جاۓ ، اس سے یہ ہو سکتا ہے کہ یہ ہمارے گناہوں کی بخشش کا سبب بنے،،

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment