Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

قرآن میں دعوت اسلامی کا طریقہ کار

الدكتور: كمال بريقع

ترجمة الدكتور أحمد شبل

دین کی طرف دعوت دینا پیغمبروں کا کام ہے اور یہ ایک اہم کام ہے  جو کوئی بھی  امت محمدیہ میں یہ کام کرتا ہے اس کو شرافت حاصل ہے اور اللہ تعالی کے جتنے بھی رسالات ہیں ان سب کا موضوع توحید ہے اور توحید کا مطلب ہے اس سے محرمات سے بچانا اور اطاعت کی طرف بلانا اور اللہ تعالی فرماتے ہیں:

( وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ)

اور کون ہے جو قول کے اعتبار سے بہتر ہوا شخص اللہ کی طرف دیا ہے جو شخص اللہ کی طرف لوگوں کو دعوت دیتے ہیں اور اس سے کوئی بھی بہترین  والا نہیں ہو سکتا اور نیک عمل بھی کرتے اور کہتے ہیں کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں امام طبرانی نے اپنے تفسیر میں ذکر کیا ہے کہ حسن بصری نے اس آیت کو پڑھا ( وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ ) اور فرمایا یہ بندہ اللہ کا دوست ہے اور اللہ کو محبوب ہے اور اللہ کے بندوں میں بہترین آدمی ہے ہے اللہ کو بہت محبوب ہیں اپنی دعوت میں اور اللہ کے احکام کو مانتا ہے اور جس کاموں میں میں خود عمل کرتا ہے ہے اور اسی طرف کو اور کو بھی دعوت دیتا ہے اور نیک عمل بھی کرتا ہے ہے اور پھر کہتے ہیں کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں بھائی یہ اللہ کا خلیفہ ہے اور اللہ تعالی کے دعوت منہج واضع کرے جس میں کوئی اشکال نہیں ہے اور قرآن کریم کے منہج کو عقل اور اجتہاد کو نہیں چھوڑا اور یہ منہج حکمت اور حجت اور برہان ان کے نصیحت پر قائم ہے ہے اللہ تعالی فرماتے ہیں کے اللہ کی طرف حکمت اور نرمی کے ساتھ دعوت دیا کرو اور انہوں کے ساتھ بہترین قسم کی بحث کرو کرو بیشک تمہارا رب اس کو جانتا ہے کہ وہ راستے سے گمراہ ہے اور ان لوگوں کو بھی جانتا ہے جو سیدھے راستے پر ہے

ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ ۖ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ» (سورة النحل: 125)

ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس آیت کی تشریح کی ہے کہ جب ایک بندہ موناظرے کو محتاج ہو جائے تو نرمی کے ساتھ کرے اور اچھا خطاب کرے کرے لیکن اللہ فرماتے ہیں ولا تجادلوا اہل الکتاب الا بالتی ہی احسن ان للذین ظلموا منھم العنکبوت 46 اور یہود اور نصاریٰ کے ساتھ بحث مت کرو مگر اچھے طریقے کے ساتھ تو پھر اللہ نے اپنے پیغمبر کو حکم کیاہے کہ دعوت کے دعوت میں نرمی اختیار کرو اور یہ حکم اللہ تعالی نے موسی اور ہارون کو بھی کیا ہے ہے جب جب فرعون کے پاس بھیجے گئے تھے تو اللہ نے فرمایا ہے ترجمہ ہمہ آپ لوگ اس کے ساتھ نرمی کے ساتھ بات کرو شاید کے وہ عبرت حاصل کرے تے یا اللہ تعالی سے ڈر جائے آئے اور قرآن ہم کو عمر دیتا ہے کہ سختی زبان استعمال کرنے سے اجتناب کرے ایسا نہ ہو کے لوگ اللہ کے راستے سے متنفر ہو جائے بلکہ وہ ہمیں دعوت دیتا ہے کہ مخالف سے بھی نیکی کرو اور احسان کا معاملہ کرو اللہ تعالی فرماتے ہیں : (لا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِينِ ولَمْ يُخْرِجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ أَن تَبَرُّوهُمْ وتُقْسِطُوا إلَيْهِمْ إنَّ اللَّهَ يُحِبُّ المُقْسِطِينَ ) (الممتحنة: 8)

اللہ تعالی آپ کو ان لوگوں سے منع نہیں کرتا جو دین میں آپ لوگوں کے ساتھ جنگ نہیں کرتا کتا اور گھروں سے نکالے گئے ہیں ہیں کیونکہ آپ لوگ ان کے نیکی کا معاملہ کرتے ہیں اور احسان کا معاملہ اور بے شک اللہ تعالی احسان کرنے والا ہے پسند کرتا ہے اسلام کی طرف دعوت دینا اعتقاد کی آزادی پر پر بنا ہے ہے نہ کہ قرعہ اور کے کے اوپر اللہ تعالی فرماتے ہیں ہیں وہ کہتے ہیں اے ہمارے قوم مجھے خبر دے دو کہا میں اپنے رب کو  کی طرف دعوت ہدایت پر ہوں اور مجھے اپنی طرف سے رحمت دیا لیکن آپ لوگوں نے ہی دیکھتے کیا میں آپ لوگوں کے اوپر جبر کروں حالانکہ آپ تو اور اللہ تعالی فرماتے ہیں لا اکراہ فی الدین دین میں جبر نہیں ہے اور اس کے مقابل میں فرماتے ہیں وا کل حق من ربکم فمن شاء فلیؤمن ومن شاء فلیکفر اور کہا کے حق تمہارے رب کی طرف سے ہے ہے پس جو لوگ چاہتے ہیں ایمان لے آئے اور جو لوگ چاہتے ہیں کہ کفر کو اختیار کریں اور اسلام کے قواعد اس پر……… کہ کفار و کیلئے کہہ دے کہ وہ اپنے دین شاعر یار ادا کرے اور قرآن اللہ اللہ کریم کے مقام کے………

وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيرًا ۗ وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ» (سورة الحج: 40)

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment