Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

زوجین میں مخالفت کے نتیجے میں اسلام کا طریقہ کار

ڈاکٹر سوسن الھدھد

ترجمۃ ڈاکٹر احمد شبل

اسلام نے خاندان کا بہت خیال رکھا ہے، اس کا اہتمام کیا ہے اور خاندان کی حفاظت کا احاطہ کیا ہے۔ بہت سارے احکامات، جو خاندان کی سعادت، استقرار اور حمایت کا سبب بنتے ہیں اور وہ کسی بھی تفکک اور خاندان کی گراوٹ سے بچاتے ہیں۔ اسلام نے ان اختلافات کا علاج بیان کرنے میں سبقت اختیار کی ہے، کیوں کہ یہ خاندان کے استقرار پر اثر انداز ہوتے ہیں اور زوجین کی پاکیزہ زندگی میں خلفشار کا باعث بنتے ہیں۔ یہ نشوز یا تو بیوی کی طرف سے ہوتی ہے یا خاوند کی طرف سے، یا دونوں کی طرف سے ہوتی ہے۔ نشوز کا لفظ تب استعمال کیا جاتا ہے جب خاوند یا بیوی اپنے فرائض ادا کرنے سے قاصر رہتے ہیں ۔

اسلام نے توجیح کی ہے کہ اس علاج کے اوپر عمل ہونا چاہئے تا کہ خاندان کے استقرار کی حفاظت کی جائے اس سے پہلے کے معاملات خراب ہو جائیں اور خاوند کا نشوز یہ ہوتا ہے کہ وہ بیوی سے اعراض کرتا ہے اُس سے بیوفائی کرتا ہے اور اس کے ساتھ نہیں بیٹھتا اور خاوند کے اس رویے کے کئی اسباب ہوتے ہیں۔ پہلا یہ ہے کہ بیوی شوہر کے ساتھ اچھا معاملہ نہیں کرتی ہے وہ اپنے نفس کو خاوند کے سپرد نہیں کرتی ہے۔اس طرح بہت سے جھگڑے ہوتے ہیں جو گھر میں رہنے سے نفرت دلاتے ہیں بیوی جب عمر کی زیادتی کی وجہ سے خاوند کے حقوق ادا نہیں کر پاتی ہے تو یہ بھی شوہر کے نشوز کا سبب بنتی ہے۔

اسلام کا منھج یہ ہے کہ اس نے زوجین کے اختلافات کے لیے بہت سے اصول وضع کیے ہیں۔

پہلا یہ ہے کہ بیوی ، خاوند کی باتوں پر صبر کرے اور اسے اللہ کی طرف سے اجر سمجھے ۔

دوسرا : بیوی اُن اسباب کو تلاش کرنے کی سعی کرے جو خاوند کی ناراضگی کی وجہ بنتی ہے۔ بیوی نرمی کی ترغیب کے لیے کئی اسالیب اختیار کرے اور آپس کی جفا کو ختم کرے ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

محبت کرنے والی، زیادہ بچے پیدا کرنے والی اور اپنے خاوند کی طرف بہت رجوع کرنے والی عورت جنتی ہے۔

 اگر خاوند اُسے تکلیف دے تو وہ خاوند کے ہاتھ پکڑ کر کہتی ہے کہ میں تب تک کھانا نہیں کھاؤں گی جب تک آپ راضی نہ ہوں۔ (طبرانی )

بیوی خاوند کے ساتھ صلح رکھے اور اپنے معاملات میں تنازل اختیار کرے جب بیوی کو اپنے خاوند سے نشوز کا ڈر ہو۔

مثلا وہ کم نفقہ یا کپڑے یا مسکن پر راضی ہو جائے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، سودا رضی اللّٰہ عنہ کو طلاق دینا چاہتے تھے، تو انہوں نے اپنے بعض حقوق سے  اعراض کیا اور رسول اللہ کی معیت کو ترجیح دی۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَ اِنِ امۡرَاَۃٌ خَافَتۡ مِنۡۢ بَعۡلِہَا نُشُوۡزًا اَوۡ اِعۡرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِمَاۤ  اَنۡ یُّصۡلِحَا بَیۡنَہُمَا صُلۡحًا ؕ وَ الصُّلۡحُ  خَیۡرٌ ؕ وَ اُحۡضِرَتِ الۡاَنۡفُسُ الشُّحَّ ؕ وَ اِنۡ تُحۡسِنُوۡا وَ تَتَّقُوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ  خَبِیۡرًا ﴿۱۲۸﴾

 اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی بددماغی اور بے پرواہی کا خوف ہو تو دونوں آپس میں  جو صلح کرلیں اس میں کسی پر کوئی گناہ نہیں صلح بہت بہتر چیز ہے ،  طمع ہر ہر نفس میں شامل کر دی گئی ہے   ۔ اگر تم اچھا سلوک کرو اور پرہیز گاری کرو تو تم جو کر رہے ہو اس پر اللہ تعالٰی پوری طرح خبردار ہے ۔ 

اگر بیوی، خاوند کی مخالفت کے علاج میں، ناکام ہو جاتی ہے تو پھر صلح کرانے کے لیے دوسرے لوگوں کی مخالفت ضروری ہے کیوں کہ خاندانی نظام اس امر کے بغیر نہیں چل سکتا ۔

اسلام کی یہی تعلیم ہے کہ بیوی کے ساتھ اچھے سے رہا جائے ، ہو سکتا ہے آپ کسی چیز سے کراہت محسوس کریں مگر اللہ نے اس میں آپ کے لیے بہت خیر رکھا ہو۔ ایک حدیث میں آتا ہے :

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا یَحِلُّ لَکُمۡ اَنۡ تَرِثُوا النِّسَآءَ کَرۡہًا ؕ وَ لَا تَعۡضُلُوۡہُنَّ لِتَذۡہَبُوۡا بِبَعۡضِ مَاۤ اٰتَیۡتُمُوۡہُنَّ  اِلَّاۤ اَنۡ یَّاۡتِیۡنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ ۚ وَ عَاشِرُوۡہُنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ۚ فَاِنۡ کَرِہۡتُمُوۡہُنَّ فَعَسٰۤی اَنۡ تَکۡرَہُوۡا شَیۡئًا وَّ یَجۡعَلَ اللّٰہُ فِیۡہِ خَیۡرًا کَثِیۡرًا ﴿۱۹﴾

 

 ایمان والو! تمہیں حلال نہیں کہ زبردستی عورتوں کو ورثے میں لے بیٹھو  انہیں اس لئے روک نہ رکھو کہ جو تم نے انہیں دے رکھا ہے  ، اس میں سے کچھ لے لو  ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ کوئی کُھلی بُرائی اور بے حیائی کریں  ان کے ساتھ اچھے طریقے سے بودوباش رکھو  ، گو تم انہیں ناپسند کرو لیکن بہت ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو بُرا جانو  ، اور اللہ تعالٰی اس میں بہت ہی بھلائی کر دے ۔ 

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَفْرَكْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً، إِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقًا رَضِيَ مِنْهَا آخَرَ» أَوْ قَالَ: «غَيْرَهُ

 

 عیسیٰ بن یونس نے ہمیں حدیث بیان کی ،  کہا :  ہمیں عبدالحمید بن جعفر نے عمران بن ابی انس سے حدیث سنائی ،  انہوں نے عمر بن حکم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ،  انہوں نے کہا :  اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :     کوئی مومن مرد کسی مومنہ عورت سے بغض نہ رکھے ۔  اگر اسے اس کی کوئی عادت ناپسند ہے تو دوسری پسند ہو گی ۔     یا آپ نے «غيره»  ( اس کے سوا کوئی اور )  فرمایا۔

 

کبھی نافرمانی بیوی کی طرف سے ہوتی ہے اور اپنے واجبات ادا  نہیں کرتی ہے ، یہ مخالفت کبھی قول کے ساتھ ہوتی ہے تو کبھی فعل اور کبھی دونوں کے ساتھ۔

قول کے ساتھ یہ ہے کہ آواز بہت بلند ہو ، یا برے طریقے سے بات کرے۔ فعلی مخالفت یہ ہے کہ وہ اس سے اعراض کرتی ہے اور فرائض میں تابعداری نہیں کرتی تو اس میں بھی اللہ نے تین مراحل میں علاج بیان کیا ہے ۔

 

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوۡنَ عَلَی النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰہُ بَعۡضَہُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ وَّ بِمَاۤ اَنۡفَقُوۡا مِنۡ اَمۡوَالِہِمۡ ؕ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلۡغَیۡبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰہُ ؕ وَ الّٰتِیۡ تَخَافُوۡنَ نُشُوۡزَہُنَّ فَعِظُوۡہُنَّ وَ اہۡجُرُوۡہُنَّ فِی الۡمَضَاجِعِ وَ اضۡرِبُوۡہُنَّ ۚ فَاِنۡ اَطَعۡنَکُمۡ فَلَا تَبۡغُوۡا عَلَیۡہِنَّ سَبِیۡلًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیًّا کَبِیۡرًا ﴿۳۴﴾j

 مرد عورتوں  پر حاکم ہیں اس وجہ سے کہ اللہ تعالٰی نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے کہ مردوں نےاپنے مال خرچ کئے ہیں   ، پس نیک فرمانبردار عورتیں خاوند کی عدم موجودگی میں بہ حفاظتِ الٰہی نگہداشت رکھنے والیاں ہیں اور جن عورتوں کی نافرمانی اور بددماغی کا تمہیں خوف ہو انہیں نصیحت کرو اور انہیں الگ بستروں پر چھوڑ دو اور انہیں مار کی سزا دو پھر اگر وہ تابعداری کریں تو ان پر راستہ تلاش نہ کرو   ، بیشک اللہ تعالٰی بڑی بلندی اور بڑائی والا ہے

سب سے پہلے یہ ہے کہ اللہ فرماتے ہیں کہ اُنھیں نصیحت کی جائے ۔اور اچھے طریقے سے اُن کے ساتھ رہے اور اللہ کے عتاب سے اُنہیں ڈرائے۔

دوسری بات یہ ہے کہ اگر نصیحت اُنھیں فائدہ نہیں دیتی تو اُن کے بستر الگ کر دیں۔

حدیث میں آتا ہے:

‏‏‏‏‏‏عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْقُشَيْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏مَا حَقُّ زَوْجَةِ أَحَدِنَا عَلَيْهِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏   أَنْ تُطْعِمَهَا إِذَا طَعِمْتَ، ‏‏‏‏‏‏وَتَكْسُوَهَا إِذَا اكْتَسَيْتَ أَوِ اكْتَسَبْتَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تَضْرِبْ الْوَجْهَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تُقَبِّحْ وَلَا تَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَيْتِ  . قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ وَلَا تُقَبِّحْ، ‏‏‏‏‏‏أَنْ تَقُولَ:‏‏‏‏ قَبَّحَكِ اللَّهُ.

 

 میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے اوپر ہماری بیوی کا کیا حق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  یہ کہ جب تم کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ، جب پہنو یا کماؤ تو اسے بھی پہناؤ، چہرے پر نہ مارو، برا بھلا نہ کہو، اور گھر کے علاوہ اس سے جدائی ۱؎ اختیار نہ کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «ولا تقبح» کا مطلب یہ ہے کہ تم اسے «قبحك الله» نہ کہو۔

تیسرا یہ ہے کہ ہے مارا جائے، اور ایسی مار کے اُسے زخم نہ لگے۔ اسلام نے اسے مباح قرار دیا ہے

جب میاں بیوی میں معاملات خراب ہو جائیں تو اسلام نے اس کا اچھا علاج بتایا ہے کہ دوسرے لوگ مداخلت کریں۔

جیسا کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ وَ اِنۡ خِفۡتُمۡ شِقَاقَ بَیۡنِہِمَا فَابۡعَثُوۡا حَکَمًا مِّنۡ اَہۡلِہٖ وَ حَکَمًا مِّنۡ اَہۡلِہَا ۚ اِنۡ یُّرِیۡدَاۤ  اِصۡلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰہُ بَیۡنَہُمَا ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیۡمًا خَبِیۡرًا ﴿۳۵﴾

 

 اگر تمہیں میاں بیوی کے درمیان آپس کی ان بن کا خوف ہو تو ایک مُنصِف مرد والوں میں اور ایک عورت کے گھر والوں میں سے مُقّرر کرو   ، اگر یہ دونوں صُلح کرانا چاہیں گے تو اللہ دونوں میں ملاپ کرا دے گا  ، یقیناً اللہ تعالیٰ پورے علم والا اور پوری خبر والا ہے ۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment