Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

انبیاء کی دعاؤں میں خواتین کے ذکر کی اہمیت

ڈاکٹر محمد عبدالبصیر حضریری الازہری

قرآن مجید میں اس کا تذکریہ متعد د بار آیا جس میں سابقہ انیبا ء کی تبلیغ کا ذکر کیا گیا تاکہ اس سے مقاصد حاصل کیے جا ئیں ۔

جیسا کہ عورت کے بارے میں یہ فرمایا گیا ہے دو عورت کی گو اہی ایک مر د کے بر ابر ہے اور اپنے پر وردگار سے ڈرو جس نے تمہیں ایک رو ح سے پید ا کیا اور شوہر ، بیٹے، بھائی کی شکل میں پید ا کیا ۔ ( ایک رو ح تخلیق کا ما دہ ہے ، بشمو ل جیسا کہ آدم علیہ السلام کی تخلیق کی گئی اور ان پسلی  سے ایک عورت کو تخلیق  کی گئی۔

اور مرد اور عورت کو ایک ساتھ رہنے کی ترغیب دی اور اس کو اس کا شریک حیات بنا یا گیا تاکہ اس سے دنیا میں آدم کی تخلیق ہو اور وہ اپنے شوہر کے ساتھ جنت میں رہیں۔ لیکن جنت میں ان کو ایک درخت کے نزدیک جانے سے منع کیا گیا اور فرمایا کہ اگر تم اس درخت کے نزدیک جاو گئے تو ظالموں میں سے ہو جا ؤ گئے۔

تعلیم اور تربیت میں خواتین کا کر دار ، جیسا کہ  ابراہیم کی بیو ی  اور فرعون کی اہلیہ اور حضرت شعیب کا بیٹی کا ذکر قرآن مجید میں کیا گیا ہے۔

عورتوں کے بیان کی روشنی میں جیسا کہ مسلمان مر د کو مومن اور خواتین کو مومنہ قرار دیا گیا  اور ان کے صابر شاکر ہونے کا ذکر کیا گیا ۔ اور ان کے چہر ے پر حیاء کا پردہ ڈالا گیا جیسا کہ حضر ت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا گیا کہ اگر تم سے کوئی نصیحت طلب کرے تو اس کونصیحت کریں اور اگر کوئی غلطی دیکھنے میں آئے تو اس وقت تک اس پر حکم صادر نہ کریں جب تک کہ تحقیق نہ کرلیں ۔

حقیقت کا سامنا کرنے میں خواتین کا کر دار : ہم اس بارے میں حضر ت نو ح ؑ اور حضر ت  لوطؑ کی بیوی کا کردار دیکھتے ہیں جو کہ انہو ں نے اپنے پسند کو پیش نظر رکھ کر ادا کیا ۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment