Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

اسلام میں عدل و انصاف کے قیام کی اہمیت

ڈاکٹر عبدالرحمن حماد ازہری

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

یہ اللہ تعالی کا فضل  واحسان ہے کہ اس نے ہمیں  دین اسلام کی دولت سے سرفراز کیا۔اسلام ایسا دین ہے جو عظیم ہدایات،خوب صورت احکامات اور بلند اخلاق پر مشتمل ہے۔اسلام کے ان احکامات  میں سے ایک حکم عدل وانصاف کا قیام ہے۔

اسلام کے تصورِ عدل و انصاف میں لوگوں کے حقوق بھی شامل ہیں اور ان کے فرائض بھی۔اسلام عدل  جیسی ایک ایسی صفت کے قیام کی دعوت دیتا ہے جو انبیائے کرام  کی صفت رہی ہے اور تمام آسمانی کتابوں کے پیغامات کا مقصد ہی عدل و انصاف کا قیام رہا۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَهُـمُ الْكِتَابَ وَالْمِيْـزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ(الحدید:25)

البتہ ہم نے اپنے رسولوں کو نشانیاں دے کر بھیجا اور ان کے ہمراہ ہم نے کتاب اور ترازوئے (عدل) بھی بھیجی تاکہ لوگ انصاف کو قائم رکھیں۔

عدل وانصاف ہی سے زمین وآسمان قائم ہیں۔عدل حق وصداقت کی کنجی ہے۔اسلام میں عدل وانصاف کی اہمیت کا اندازا اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن پاک میں لفظ عدل اور اس کے متردافات تقریبا 53 مرتبہ آئے ہیں۔امت مسلمہ ہی دراصل حق وصداقت اور عدل وانصاف والی امت ہے۔اس لیے خداوندِ قدوس نے قرآن پاک میں اس امت کو حق وعدل کے قیام کا حکم دیا ہے۔ارشاد خداوندی ہے:

وَاَقْسِطُوْا اِنَّ اللّـٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ(الحجرات:9)

ترجمہ:اورانصاف کرو، بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

مقسطون کا مطلب ہے»عدل وانصاف کرنے والے»

جیسے افعال میں عدل کا حکم اللہ پاک نے دیا ہے ایسے ہی اقوال میں بھی عدل وانصاف کا دامن تھامنے کا حکم دیا ہے۔اس بارے میں ارشاد باری ہے:

وَاِذَا حَكَمْتُـمْ بَيْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ(النساء:58)

ترجمہ:اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف سے فیصلہ کرو

  اور اسی طرح ارشاد فرمایا:

وَاِذَا قُلْتُـمْ فَاعْدِلُوْا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰی(الانعام:152)

ترجمہ: اور جب بات کہو تو انصاف سے کہو اگرچہ رشتہ داری ہو۔

قرآن پاک کی طرح احادیث رسول علیہ السلام میں بھی  روایات کی ایک ایسی  بڑی تعداد ہے جو عدل وانصاف کے قیام کی دعوت دیتی ہے۔اس بارے میں آپ علیہ السلام کا ارشادِ گرامی ہے :

إن المقسطين عند الله على منابر من نور، عن يمن الرحمن عز وجل، وكلتا يديه يمين، الذين يعدلون في حكمهم وأهليهم وما وَلوا (مسلم)

ترجمہ:عدل وانصاف کرنے والے (قیامت کے دن) اللہ تعالی کے داہنے ہاتھ پر ہوں گے اور اللہ کے دونوں ہاتھ داہنے ہیں۔وہ لوگ جو لوگ اپنے فیصلوں،اہل وعیال اور جن کے یہ ذمے دار ہیں،ان کے معاملے میں عدل ونصاف سے کام لیتے تھے۔

اسی طرح آپ علیہ السلام کی سیرت طیبہ میں بے شمار ایسی مثالیں ہیں جو عدل وانصاف کی عملی تعبیر ہمارے سامنے پیش کرتی ہیں۔جیسے کہ ایک واقعہ ہے کہ حضرت  اسامہ بن زید (جو آپ علیہ السلام کے بہت لاڈلے تھے) ایک  ایسی مخزومی عورت کی  سفارش  لے کر آئے جس نے چوری کا ارتکاب کیا تھا۔اس موقع پر آپ علیہ السلام نے جو کلمات ارشاد فرمائے وہ رہتی دنیا تک کے لیے منارۂ ہدایت ہیں۔آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:

تم سے پہلی قومیں اس لیے ہلاک ہوئیں کہ جب ان میں سے کوئی مال دار چوری کرتا تھا تو اسے بخش دیتے تھے اور جب کوئی کمزور اور بے چارہ چوری کرتا تھا تو اسے سزا دیتے تھے۔اللہ کی قسم اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو (میں ) محمد اس کا ہاتھ کاٹتا۔

آپ علیہ السلام نے اس بات کو قبول نہیں فرمایا کہ کسی بھی شخص کی وجہ سے میزان عدل میں کوئی بھی رخنہ پڑے۔

عدل وانصاف کے قیام کی دوسری مثال:اس واقعے سے سمجھ آتی ہے جب بعض مسلمانوں نےآپ علیہ السلام کے عہد مبارک میں  ایک یہودی پر چوری کی تہمت لگائی۔انصار میں سے ایک شخص نے اپنے پڑوسی قتادہ بن نعمان کی  ایک زرہ چوری کی (ایک روایت ایک مطابق اس چوری کرنے والے کا نام طمعہ بن ابیرق تھا اورترمذی کی روایت   نمبر3036 باب وَمِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ  کے مطابق یہ شخص منافق تھا۔)جو زرہ اس نے چوری کی وہ ایک آٹے کے تھیلے میں تھی،تھیلے میں سوراخ کی وجہ سے آٹا راستے میں بکھرتا رہا۔اس نے اس زرہ کو  ایک یہودی (زید بن سمین ) کے پاس چھپا دیا۔جب( شک کی بنیاد پر) طعمہ کے ہاں تلاشی لی گئی تو زرہ نہیں ملی اور طعمہ نے قسمیں کھا کر کہا کہ زرہ اس کے پاس نہیں ہے اور اسے اس بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہے۔جب بکھرے ہوئے آٹے کا سراغ لگایا گیا تو یہ آٹے کے نشانات یہودی کے گھر تک جاتے ہوئے ملے۔(جب اس یہودی کے گھر تلاشی لی گئی ) تو زرہ وہاں مل گئی۔اس یہودی نے کہا کہ یہ زرہ تو مجھے طعمہ نے دی ہے۔جب اس کی اس بات کی گواہی بہت سے یہودیوں نے دی تو حقیقی چور کے قبیلے نے کہا کہ تم لوگ ہمارے ساتھ رسول اللہ علیہ السلام کے پاس فیصلے کے لیے چلو۔چور کے قبیلے نے آپ علیہ السلام کے پاس جاکر کچھ ایسی باتیں کہیں کہ ممکن تھاکہ آپ علیہ السلام فیصلہ ان کے حق میں دے دیتے۔اس  موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں۔

اِنَّـآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَآ اَرَاكَ اللّـٰهُ ۚ وَلَا تَكُنْ لِّلْخَآئِنِيْنَ خَصِيْمًا0 وَاسْتَغْفِـرِ اللّـٰهَ ۖ اِنَّ اللّـٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا0 وَلَا تُجَادِلْ عَنِ الَّـذِيْنَ يَخْتَانُـوْنَ اَنْفُسَهُـمْ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِيْمًا(النساء:107/105)

ترجمہ: بے شک ہم نے تیری طرف سچی کتاب اتاری ہے تاکہ تو لوگوں میں انصاف کرے جیسا کہ تمہیں اللہ نے بتایا ہے، اور تو بد دیانت لوگوں کی طرف سے جھگڑنے والا نہ ہو۔ اور اللہ سے بخشش مانگ، بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اور ان لوگوں کی طرف سے مت جھگڑو جو اپنے دل میں دغا رکھتے ہیں، بے شک اللہ اسے پسند نہیں کرتا جو دغاباز گناہگار ہو۔

ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن پاک کی آیات ایک ایسے یہودی کی بے گناہی کو واضح کرنے کے لیے نازل ہوئیں جس پر چوری کا جھوٹا الزام لگایا گیا تھا۔یہ واقعہ اسلام کے تصور  عدل وانصاف اور اس کے قیام کی روشن علامت ہے۔عدل وانصاف کے قیام کے جن پہلوؤں  کی  اسلام نے  بہت تلقین کی ہے ،ان میں سے ایک یہ ہے کہ اپنے گھر والوں کے ساتھ عدل وانصاف کا معاملہ کیا جائے۔اور اس میں مرد،عورت،لڑکے،لڑکیاں اس حوالے سے  برابر ہیں  کہ ان کی تعلیم وتربیت پر یکساں توجہ صرف کی جائے اور ان   کی کفالت  اور ان سے حسن سلوک میں  ایک جیسا رویہ اختیار کیا جائے۔

آپ علیہ السلام کا ارشادِ گرامی ہے:

کلكم رَاعٍ, وكلكم مسؤول عن رَعِيَّتِهِ

ترجمہ:تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور جو کچھ اس کے سپرد کیا گیاہے،اس کا ذمے دار ہے۔

دینِ اسلام کی ان تعلیمات پر عمل پیرا ہونے ہی سے معاشرے میں حقیقی امن کا فروغ ممکن ہے۔دین اسلام بھلائی،حق وصداقت اور عدل ومساوات والا دین ہے،ہر اس انسان کے لیے جو دنیا وآخرت میں بہتر اور خوشحال زندگی چاہتا ہے۔

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment