Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

اسلام میں یتیموں کا خیال

اسد اللہ خان پاکستانی باحث فی اصول الدین

یتیم ہو شخص جس نے اپنے والدین کھودیئے ہوں، او اپنا خیال خود اپنے مال سے رکھ رہا ہو، جب کہ وہ سن بلوغ تک نہ پہنچا ہو، اور حیوانوں میں یتیم وہ ہے جس کی ماں فوت ہوگئی ہو، اور یتیم ہونا کمزوری اور حاجت مند ہونے کی علامت ہے ۔ یتیم  کو ایک امین شخص کی سخت ضرورت ہوتی ہے جو اس کا خیال رکھے اور کے سر پر ہاتھ رکھے، ایسا امین جو حقیقتاً اللہ سے ڈرتا ہو۔

اس وجہ سے قرآن مجید نے ہر عاقل شخص پر یہ واجب قرار دیا ہے کہ وہ اپنے اہل وعیال سے حسنِ سلوک سے پیش آئے اسی طرح یہ بھی واجب ہے کہ وہ دوسروں کے اہل وعیال کے ساتھ بھی حسنِ سلوک روا رکھے، کسی کنبہ کے یتیم افراد کی کفالت اور نگہداشت کرے اور خوب تقوی کا مظاہرہ کرے، اللہ پاک فرماتے ہیں:

"وليخشى لذين لو تركوا من خلفهم ذرية ضعافا خافوا عليهم فليتقوا الله وليقولوا قولا سديدا "

اورایسےلوگوں کوڈرناچاہیئےجو (ایسی حالت میں ہوں کہ) اپنےبعدننھےننھےبچےچھوڑجائیں اوران کوان کی نسبت خوف ہو (کہ ان کےمرنےکےبعدان بیچاروں کاکیاحال ہوگا) پس چاہیئےکہ یہ لوگ خداسےڈریں اورمعقول بات کہیں۔

قرآن مجید نے بتایا ہے کہ یتیم کا مال ناحق غصب کرنے والا اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ کے علاوہ کچھ نہیں بھر رہا۔ ارشاد باری تعالی ہے:

"إن الذين يأكلون أموال اليتامى ظلما إنما يأكلون في بطونهم نارا وسيصلون سعيرا "

.ترجمہ: بیشک جولوگ یتیموں کےمال ناحق طریقےسےکھاتےہیں وہ اپنےپیٹوں میں نری آگ بھرتےہیں،اوروہ جلدہی دہکتی ہوئی آگ میں جاگریںگے

یومِ آخرت یتیم کا مال ناحق کھانے والے کو پیش کیا جائے گا، اس حالت میں کہ اس کے منہ سے آگ  کے شعلے نکل رہے ہوں گے، اور ان کے کان، ناک اور آنکھوں سے بھی، لوگ انہیں دیکھتے ہی پہچان لیں گے۔

پس آخرت اور جزا وسزا کو جھٹلانا  بھی ایسے شخص کی نشانیوں میں سے ہے جو یتیموں کو جھڑکتا ہے یعنی یتیم کو اس کا حق نہیں پہنچاتا، اس کے ساتھ سخت رویہ رکھتا ہے، اس کے ساتھ غیر مہذب معاملہ رکھتا ہے، اس پر تکبر کا اظہار کرتا ہے، اور اپنے سامنے یتیم کو حقارت سے دیکھتا ہے، اس طرح اس کی معاونت نہیں ہوپاتی۔ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا:

"أرأيت الذي يكذب بالدين .فذلك الذي يدع اليتيم " 

ترجمہ:  کیا آپ نے اس کو نہیں دیکھا جس نے روزِ جزا کو جھٹلایا، پس یہ وہی ہے جو یتیم کو جھڑکتا ہے۔ نبی اکرمﷺ سے ابن ماجہؒ نے ابو ہریرہ ؓ سے رویات کی ہے کہ: مسلمانوں کا بہترین گھر  وہ ہے جس میں یتیم کے ساتھ حسنِ سلوک رکھا جاتا ہے، اور مسلمانوں کا بد تر گھر وہ ہے جہاں یتیم کے ساتھ ایذا رسانی سے پیش آیا جاتا ہے۔

نبی اکرمﷺ نے واضح کردیا کہ یتیم کی کفالت کرنے والا شخص نبی اکرمﷺ کی صحبت کا حقدار اور قرب پائے گا، فرمایا: میں اور یتیم کی کفالت کرنے والے جنت میں اس طرح اکٹھے ہوں گے (راوی کہتے ہیں کہ آپﷺ نے اشارا کیا )  انگشتِ شہات اور اس سے متصل (بیچ والی ) انگلی کو ملاکر ۔ رواہ البخاری وغیرہ۔  ایک حدیث میں نبی اکرمﷺ نے فرمایا  کہ میں اور یتیم کی کفالت کرنے والی عورت جس کا رنگ  اپنی یتیم اولاد کی خدمت میں پھیکا پڑ گیا، (دو انگلیوں کی طرح) میرے ساتھ ہوں گے۔ ایک اور روایت میں نبی اکرمﷺ نے ایسی عورت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ : جو عورت صاحبہ منصب وجمال  ہونے کے باوجود اپنے آپ کو اپنی یتیم اولاد کی خدمت میں روکے رکھے، کہاں تک کہ یا تو وہ فوت ہوجائیں یا   خود اس عورت کی کفالت سے بری ہوجائیں۔

پس ایسے اصحابِ رحم وشفقت اور مہربان ومحسن لوگوں کے لئے خوش خبری ہے جو اپنے آپ کو یتیموں کی کفالت کے لئے پیش کرتے ہیں، ان کی زندگی کی مشکل گھڑیوں میں مددومعاونت کرتے ہیں، انہیں اپنی رفاقت عطا کرتے ہیں اور ان کے لئے زندگی کو آسان بنانے کے لئے مختلف امور سر انجام دیتے ہیں۔

واللہ اعلم بالصواب

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment