Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

قرآن کی ھدایت

دکتور عمر عبد الفتاح

ترجمة الدكتور أحمد شبل

غرب کے کفار میں سے اکثر لوگ جب اسلام میں داخل ہوتے ہیں وہ قرآن میں تدبر کرتے ہوۓ اس کے منہج مستقیم پہ یقین کرتے ہیں اور اس سے پہلے اللہ ﷻ کا ارادہ بھی ہوتا ہے لیکن اکثر داعیان دین کا خیال ہوتا ہے کہ غیر مسلموں کا اسلام کی طرف آنے کا سبب یہ اس کا فہم، دعوتی اسلوب، مال اور شہروں میں جانا ہے۔

جبکہ یہ غلط فہم ہے کیونکہ آپ ملکوں میں اپنے ساتھ رہنے والوں میں سے کسی کا دل تبدیل نہیں کر سکتے اللہ ﷻ کا فرمان ہے

”آپ جسے پسند کریں اسے ھدایت نہیں دے سکتے لیکن جسے اللہ تعالی ھدایت دے“

یہ سب اسباب اللہ جل علا کی طرف سے ہوتے اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ دعوت دینا ترک کر دیں بلکہ یہ کہیں

تمام معاملات اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہیں اور اللہ تعالی جسے فتنے میں ڈالنا چاھے تو آپ اس کے لئیے کچھ نہیں کر سکتے

اس کی دلیل یہ ہے کہ اھل کتاب جو آپ کی ملت سے نہیں اور آپ کے ملک میں رہتے ہیں آپ انہیں مسلمان کیوں نہیں کر سکے

اور بعض داعین کا جو یہ گمان ہے کہ ہم کافروں کو مسلمان کرتے ہیں بڑی بات یہ ہے کہ انہوں نے قرآن میں اپنی راۓ بتائی اور اپنی سوچ اور فرقوں کے مطابق بیان کیا اور بڑی مشکل یہی ہے کہ یہ مسلمان پھر بھی ان علماء کے پیچھے چلے جو قرآن میں اپنی راۓ بتاتے ہیں بعض اس کو اختلاف کی طرف لانے کی کوشش کرتے ہیں اور بعض ان کو قرآن یں تدبر سے روک دیتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ مسلمان کی عقل مضطرب ہے تو یہ ایک سبب ہے کہ بہت سے لوگ جو اسلام کی طرف یقین سے آتے ہیں اس کا کوئی خاص نتیجہ سامنے نہیں آتا کیونکہ وہ جب اسلام میں داخل ہوتا ہے تو مختلف فرقوں کی وجہ سے مضطرب ہے کہ کس فرقے میں آنا چاھئیے تو وہ فطری مسلمان فرقوں میں تقسیم ہو جاتا ہے جبکہ اسلام ایک وسیع مذھب ہے اور اگر یہ لوگ ان کی پاکیزہ فطرت کو ترک کر دیں تو ہم اسلام کو اس کی اصلی حالت اور رسول اللہ ﷺ‎ کی ھدایت کے سب سے قریب پائیں جس پر ہم قائم ہیں۔

پس ان داعیان نے یہ سوچا کہ دین کو نفع پہنچ رہا لیکن حقیقت میں دین کو نقصان ہوا کیونکہ مسلمان اس بچے کی طرح ہوتا ہے جو فطرت پہ پیدا ہوتا ہے اگر یہ بھی اسے قرآن کے مطابق فطرت پہ ترک کر دیں یقینا وہ ھدایت کی راہوں پے چلے

اور اس بارے مجھے مخلوق کے سردار کی حدیث یاد آ رہی ”ہر مولود فطرت پہ پیدا ہوتا ہے پس اس کے والدین اس کو یہودی نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں“

اور کون جانتا ہے کہ اللہ تعالی نئی مخلوق پیدا کرے جواسلام کو اس طرح سمجھے جیسے اس کا حق ہے اور قرآن کے بارے جو پرانی سوچ ہے اسے ختم کرے۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment