Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

علماء کرام کا حسنِ اخلاق

بقلم: ڈاکٹر محمد ابراہیم سعد النادی الازھری

یونس بن عبد الاعلی، امام شافعی کے شاگردوں میں سے تھے۔ ایک مرتبہ یونس نے اپنے استاد امام شافعی سے علمی مسائل میں اختلاف کیا، تو “یونس” غصے کی وجہ سے کھڑا ہوگیا، اور درس چھوڑ کر اپنے گھر چلا گیا۔ 

جب رات ہوئی تو “یونس” نے دروازہ پر دستک کی آواز سنی۔

یونس نے پوچھا:  دروازے پر کون ہے؟

دستک دینے والے نے کہا: محمد بن ادریس۔

یونس نے کہا: تو اس وقت امام شافعی کے علاوہ میں نے ہر ایک شخص کے بارے میں سوچا جن کا نام ادریس تھا۔

یونس نے کہا:  جب دروازا کھولا تو، میں حیران ہوگیا۔

امام شافعی نے کہا: اے یونس! ہم سو مسائل پر متفق ہوئے، اور ایک مسئلے پر اختلاف کیا ہے۔

اے یونس: تم ہر اختلاف میں فتح یاب ہونے کی کوشش نہ کرو، کیونکہ کبھی کبھار “موقف پر قائم رہنے” سے “دلوں کو ہاتھ لینا” بہتر ہوتا ہے۔

اے یونس: تم ایسی پُل کو نہ گراؤ جسے تم نے خود بنایا ہے اور اسے عبور بھی کر لیا ہے، ہوسکتا ہے کہ تم کسی دن اس پل کو واپس جانے کے لئے استعمال کرو۔

اے یونس! غلطی خطا سے نفرت کرو، غلطی کرنے والے خطا کار سے نفرت نہ کرو۔

اور دل سے گناہ سے بغض رکھ، مگر گناہ گار کو معاف کر اور اس پر رحم کر۔

اے یونس! موقف پر تنقید کر، مگر قائل کا احترام کر، کیونکہ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم مرض کو ختم کریں نہ کہ مریض کو۔

یہ کتنے بلند اخلاق ہیں۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment