Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

جامعہ ازہر کا مایہ ناز قدیم اور جدید مقام اور منزلت

ڈاکٹر محمد عبد الظاہر محمد ازھری

ہزار سال سے جامعہ ازہر علوم شرعیہ کا مرکز اور قبلہ ہے  ہر اس کا جو اس علم کا متلاشی ہے، اور معتدل ایسی معرفت کا مرکز ہے کہ جو غلو اور زیادتی نہیں سکھاتا، اس کی عظیم کامیابی کی بنا پر یہاں سے باداشاہوں  سلطانوں اور قاضیوں اور حکمرانوں نے تعلم کیا، اس عظیم ادارے  سے رؤساء وزراء اور سفراء دنیا کے کونے کونے میں پہنچے، اس کے منبر سے اسلام دنیا کے کونے کونے تک پھیلا، اور تھوڑے سے وقت کے لیے سر گرمی رکی، تا کہ دوبارہ اس طاقت تحمل اور علمی پروانی کو لےلے، اللہ کریم کے فضل سے دوبارہ ان دنوں میں ازہری ستارہ پروان چڑھا ہے، اور فقہ حدیث تفسیر اور عبادات اور معاملا اور اسلامی میراث کے سیمینار،  لیکچر ز اور دعوتی مجالس اور ہفتہ وار پروگراموں کا انعقاد کرتے ہیں اور امہات الکتب کو دوبارہ پڑھاتے ہیں ان ہی حلقات میں،  یہ  تدریسی سر گرمیاں جامعہ ازہر کے طلباء کے لئے خاص ہوتی ہیں اس کو اونچائی تک لے جانے کے لئے۔

کام کا نظام

اب کے نظام تبدیلی آئی ہےاور آج کل یہ ادارہ بہت سے اکیڈمک مؤثرین اور مختلف متخصصین کے ماتحت نظام چلا رہا ہے۔

جدید معنی خیز تبدیلی: جدید معنی خیز تبدیلی کو آگے بڑھانے کے بہت سے مقاصد ہیں، ان میں سے

  1. دعوی کے مقصدکے ممبران

اس کا مقصد دعوہ کے معاملات اور دعوتی کاموں کو منظم طریقے سے سنبھالنا ہے، اور ان کاموں میں جمعہ کا خطبہ اوروعظ اور نصیحت کے درس دعوتی خدمات کو بڑھانے کے لئے، بعد میں اس میں ایک تبدیلی لائی گئی کہ اندہوں اور گونگوں تک جمعہ کا خطبہ پہنچانے کا اہتمام ، خطبہ میں مختلف زبانوں میں ترجمہ کا اہتمام کرتے ہوئے جیسے انگریزی فرانسیسی اور یورپین وغیرہ۔

  1. صحافتی ذمہ داریاں

پیغام کو پہنچانے کا اہتمام علاقائی اور عالمی صحافتی طریقے سے کیا گیا ، تاکہ دعوتی اور علمی اور ثقافتی مظاہر کو جامعہ ازہر کے لئے اجاگر کیا جائے،  اور اسی طرح سیمینارز اور کانفرنسوں کو منظم کرنا،  اور ادارہ قائم کیا گیا اور انٹرنیٹ پر جامعہ ازہر کی ویب سائیٹ جو جدید انداز میں منظم کیا جسے کام اور کارنامے اجتماعی کوشش سے جمہور تک  پہنچائے جائیں۔

  1. قرآن کریم کی ذمہ داریاں

اس کا اصل ہدف ہے کہ اس نظام کو واپس لے آئیں جو پرانی کتابت والا ہے اور اس کا قرآن کریم کے حافظے میں اثر آتا تھا، یہ مرحلہ حفظ اور تجوید اور تلاوت اور آواز کی خوبصورت ادائیگی کے پروگراموں کے نفاذ تک پہنچا،  اس عہدے کے مطابق قرآن پاک کے سلسلے میں حفظ قرآن کریم جاری رہا تمام اسلوب اور طریقوں کے مطابق عوام کی طبیعتوں کا خیال کرتے ہوئے ان کی موافقت سے۔

  1. اجتماعی مرحلہ

اس کا اصل ہدف معاشروں کو آپس میں ملانا ہے تمام رکاوٹوں کے باوجود ازہر کے ساتھ تاریخی تعلق کے مطابق۔

  1. اجنبی زبانوں کا مرحلہ

اس کا مقصد مختلف طریقوں اور راستوں سے کام کرنا ان میں سے مختلف تہذیبوں اور تاریخی حقائق کو جامع ازہر اور اجنبی وفود کے لئے تفصیلاتی بیان کرنا اور تصویری مواد کی صورت میں پیش کرناتا کہ اسے اجتماعی ویب سائٹس پر نشر کیا جائے ، اور اسی طرح نئے مسلمانوں کے لئے  ایسے پروگرام بنانا جو انہیں واقعات اور اصول دین کی میانہ روی مختلف زبانوں میں بتائے۔

  1. فکری اور ثقافتی مرحلہ

 اس مرحلہ کا ہدف ایسے فکری سیمینار کا انتظام کرنا جن میں عصری ایسے قضیوں پر بحث ہو جو انسانی زندگی سے متعلق ہوں اور اس قسم کی فائلیں مہیا کرنا، اور  سیاسی ، فکر ، ادب اور فنون وغیرہ کے رموز کے مکالمے  کی  فائلیں دستیاب کرنا۔

  1. متنوں کی ذمہ داری کا مرحلہ

اس میں ان چیزوں کی حفاظت اور تشریح پر زور دیا گیا ہے جن کی تالیف علماء ازہر نے کی ہے ، اختلاف میں مراحل اور اقسام کی طلباء کے مطابق رعایت کرتے ہوئے، ذمہ داران طلباء  کو یاد کرنے لئے  ابھارنے کے لئے  ان میں ان متنوں کے حفظ اور فہم کے مقابلے منعقد کرواتے ہیں  ،  یہ عظیم مراحل علم اور فکر اور اعتدال کے قیامت  تک قائم رہیں گے اللہ تعالی ازہر اور ازہر والوں اور ان علماء کی ہر برائی سے حفاظت فرمائے۔ والحمد اللہ رب العالمین۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment