Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

اسلام میں جان کی حفاظت کا تصور

ڈاکٹر محمد سعد النادی ازھری فیکلٹی شریعہ وقانون

شریعت اسلامی کے اہم اہداف میں سے ایک جان کی حفاظت بھی ہے، اور یہ ان ضروریات خمسہ میں سے ایک ہے جن پر شریعت نے عبرتناک سزاؤں کا اطلاق کیا ہے، باقی کی چار ضروریات یہ ہیں حفظ دین، حفظ عقل، حفظ نسل اور حفظ مال۔ اللہ تعالی نے کسی جان کے ناحق قتل کو پوری انسانیت کا قتل ٹھہرایا ہے، اور کسی کی جان بچانے کو پوری انسانیت کی جان بچانا ٹھہرایا ہے، اللہ رب العزت فرماتا ہے، ’’ اسی وجہ سے (حکم)  لکھ دیا ہم نے بنی اسرائیل پر کہ جس نے قتل کیا کسی انسان کو سوائے قصاص کے اور زمین میں فساد برپا کرنے کے تو گویا اس نے قتل کردیا تمام انسانوں کو اور جس نے بچا لیا کسی جان کو تو گویا بچایا اس نے تمام لوگوں کو‘‘۔

اگر قتل جان بوجھ کر دشمنی کی بنا پر کیا جائے تو وہ بہت بڑا جرم ہے، اور یہ ان سات سزاؤں میں سے ہے جن سے دنیا اور آخرت میں سزا لازم آتی ہے، اور یہ سزا قصاص اور ہمیشہ جہنم میں پھینکنے کی صورت میں ہے، اس لئے کی یہ اللہ تعالیٰ کی بناوٹ میں حد سے گزر جانا ہے اور یہ معاشرے کے امن کو قائم رکھنے کی خاطر ضروری ہے، اس میں قرآن و سنت بالکل واضح ہیں، اللہ سبحانہ وتعالٰی فرماتا ہے: ’’اور جو شخص کسی مسلمان کو قصدا قتل کرے تو اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس پر اللہ کا غضب ہوگا اور اللہ اس پر لعنت کرے گا اور اللہ نے اس کے لیے عذاب عظیم تیار کر رکھا ہے ‘‘۔

اور حضرت عمر سے مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بندہ ہمیشہ دین کی خوشحالی میں ہوگا جب تک وہ حرام قتل کا ارتکاب نہیں کرتا۔

حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے بھی کسی مؤمن کے قتل میں مدد فراہم کی چاہے ایک لفظ سے ہی کیوں نا، وہ اللہ تعالی سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھا ہو گا، اللہ کی رحمت سے محروم‘‘۔

انسان کے لئے ہرگز جائز نہیں کہ وہ اپنی جان لے کیوں کہ وہ اس کی ملکیت نہیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اور نہ ہلاک کرو اپنے آپ کو بیشک اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ بڑی مہربانی فرمانے والا ہے‘‘۔

حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے، کہ بیشک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’جس نے اپنے آپ کو قتل کیا اس حال میں کہ لوہا اس کا ہاتھ میں تھا، اس کے پیٹ کو جہنم کی آگ سے بھر دیا جائے گا، اور وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہے گا، اور جس نے خود کو زہر سے مارا، اس حال میں کہ زہر اس کے ہاتھ میں ہوگا اور اسے جہنم کی آگ سے جھلسا جائے گا، اور وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا، اور جس نے پہاڑ سے کود کر خود کو مارا، تو اس کو جہنم کی آگ میں پھینک دیا جائے گا، وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا‘‘۔

یہ اسلام کی عظمت ہے کہ انسانیت کی اس قدر حفاظت فرماتا ہے، یہاں تک کہ جن جنگوں میں رسول اللہ ﷺ نے شرکت کی، اور ثابت کیا کہ ہمارا دیں خون کا پیاسا نہیں۔

حضرت اسامہ بن زید سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ: ہمیں رسول اللہ ﷺ نے جہینہ قبیلے کی سرکوبی کے لئے بھیجا، ہم نے ان پر صبح کے وقت حملہ کیا اور ان کو شکست دی، اور میں نے اور ایک انصاری صحابی نے ان کے کیا بندے کو جا لیا، جب ہم نے اس پر قابو پا لیا تو اس نے کہا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، انصاری صحابی اس سے ہٹ گئے اور میں نے اس کو نیزہ مار کر قتل کر دیا، جب ہم واپس آئے اور یہ بات نبی ﷺ کو بتائی تو انہوں نے فرمایا: ’’ائے اسامہ تو نے اس کو لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہنے کے باوجود قتل کیا؟‘‘ اسامہ فرماتے ہیں: یا رسول اللہ اس نے یہ بچنے کے لئے کہا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تو نے اس کو اس کے باوجود قتل کیا کی اس نے لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّہُ کہا؟‘‘، آپ مسلسل اس بات کو دہراتے رہے، یہاں تک کہ میرے دل میں آیا کہ کاش میں اس سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا۔

یہ اسلام ہے اور یہ اس کی عظمت ہے، کہ اس قدر انسانیت کی حفاظت فرماتا ہے۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment