Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

اس شخص جو کبیرہ گناہ گار کا حکم

ترجمة ڈاکٹر/احمد شبل

سب سے پہلے میں کبیرہ گناہ کی تعریف بیان کرتا ہوں۔

تمام علماء اس بات پر متفق ہیں کہ کبیرہ گناہ وہ ہے جس پر شریعت نے کوئی حد مقرر کی ہو یا دنیا میں اُس کے لیے کوئی سزا ہو یا آخرت میں وعید ہو ۔

جیسے قتل، سحر، زنا ، چوری

علماء نے یہ بات بیان کی ہے کہ عظیم کبائر میں سے اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور مزید سات گناہ ہیں جن سے حدیث میں بچنے کا حکم ہے۔ یہ سوال دوسری صدی ہجری میں پیش کیا گیا تھا ایک شخص حسن بصری کے پاس آیا اور کہا کہ ہمارے زمانے میں کچھ لوگ (خوارج) ہیں جو کبیرہ گناہ کرنے والوں کو کافر سمجھتے ہیں تو آپ اس حوالے سے کیا کہتے ہیں؟

حسن بصری سوچنے لگے اور اُن کے جواب دینے سے پہلے واصل بن عطا نے کہا کہ میں یہ نہیں کہ سکتا کہ کبیرہ گناہ کرنے والا مطلق مومن یا مطلق کافر ہے بلکہ وہ منزلہ بین المنزلتین  ہے۔

پھر وہ مسجد کے ایک کونے میں چلے گئے۔

جو لوگ کبیرہ گناہ کا مرتکب ہونے والوں کو کافر سمجھتے ہیں وہ خوارج ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کبیرہ گناہ کا ارتکاب کرنے والا کافر ہے اور وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا حالاں کہ یہ منہج اہل سنت والجماعت کے خلاف ہے۔ اہلسنت سمجھتے ہیں کہ جو شخص اللہ اور رسول اور یوم آخرت پر ایمان لائے تو وہ باعث گناہ کبھی بھی اسلام سے خارج نہیں ہو سکتا اور نہ گناہ اُس کے نیک اعمال کو ضائع کر سکتا ہے۔ ہاں جو اللہ کے ساتھ کفر کرے۔

امام احمد فرماتے ہیں کہ ہم کسی اہل قبلہ پر گناہ کبیرہ کی وجہ سے جہنمی قرار نہیں دیتے۔

ابوالحسن الاشعری کہتے ہیں کہ مومن کا گناہ اُسے دین سے خارج  نہیں کر سکتا سوائے اس کے کہ وہ کفر کا ارتکاب کرے۔ اہل قبلہ ایمان سے گناہ کی وجہ سے خارج نہیں ھوتے۔

ابن تیمیہ سے پوچھا گیا کہ مومن گناہ کی وجہ سے دین سے  خارج ہوتا ہے یا نہیں؟ اُنھوں نے کہا کہ نہیں کیوں کہ یہ بات قرآن حدیث اور اجماع سے ثابت ہے کہ  غیر شادی شدہ زانی کو قتل نہیں کیا جائے گا محض کوڑے لگائے جائیں گے ۔ اسی طرح شراب پینے والے کو، زنا کی تہمت لگانے والے کو بھی کوڑے لگائے جائیں۔ چور کے بھی ہاتھ کاٹیں جائیں اگر یہ لوگ کافر ہوتے تو یہ مرتد ہو جاتے اور ان کا قتل واجب ہوتا۔

ایک اور دلیل یہ ہے کہ اللہ نے دو آپس میں لڑنے والی جماعتوں کے لیے مومن کا لفظ استعمال کیا ہے، حالاں کہ مسلمان کے ساتھ لڑنا تو کفر ہے لیکن وہ کفر اصغر ہے ۔

ایک اور دلیل یہ ہے کہ اللہ فرماتا ہے :  » بیشک اللہ اس کو معاف نہیں کرتا کہ اُس کے ساتھ شرک کیا جائے اور جس کے لیے چاہے اس کے علاوہ بخش دے گا، اور جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا تو اُس نے بہت بڑا گناہ کمایا»

اگر کوئی شرک سے بھی توبہ کرے اور عمل صالح اور انابت سے اللہ کی طرف رجوع کرے تو اللہ معاف فرماتا ہے۔

جیسا کہ قرآن پاک میں ہے :

 *اور جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہیں پکارتے اور جس جان کو اللہ نے حرمت بخشی ہے اُسے قتل نہیں کرتے مگر حق کے ساتھ، اور نہ زنا کرتے ہیں اور جو ایسا کرے گا تو وہ گناہ اٹھائے گا قیامت کے دن اُس کے لیے عذاب دو گنا کر دیا جائے گا اور وہ اُس میں ہمیشہ رھے گا مگر وہ جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک اعمال کرے تو وہی لوگ ہیں کہ اللہ ان کی برائیاں نیکیوں سے بدل دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے».

*

جیسا کہ قرآن میں ہے

ایک اور دلیل کہ کبیرہ گناہ کرنے والا کافر نہیں بلکہ محض گنہگار ہے یہ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے بیعت  کی اور کہا تھا کہ میرے ساتھ اس بات اور بیعت کرو، کہ شرک، زنا، چوری اور بچوں کو قتل نہیں کرو گے، بہتان نہیں باندھو گے اور امیر کی نافرمانی نہیں کرو گے تو جو یہ باتیں مانیں اللہ پر اُن کا اجر ہے ۔

اور جو ان کاموں میں سے کسی کا مرتکب ہو اور اُسے دنیا میں سزا مل جائے تو آخرت میں نہیں  ملے گی۔ اور جو یہ کام کرے اور اللہ دنیا میں اُس پر پردہ ڈالے تو اللہ اُس کو معاف کرے گا

تو اُن آیات ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث اور اقوال اہل علم سے پتہ چلتا ہے کہ کبیرہ گناہ کرنے والا کافر نہیں ہے محض گناہ گار ہے اور نہ وہ ہمیشہ جہنم میں رھے گا۔ البتہ اگر وہ شرک سے توبہ کرے تو پھر اللہ اُسے معاف فرما سکتا ہے۔

 «جسے چاہتا ہے عذاب دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بخش دیتا ہے اور تم اُس کی طرف لوٹائے جاؤ گے»

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment