Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

داعیان الی اللہ کی خصوصیات تخصص کا لحاظ

ڈاکٹر : اسامہ الشربینی

ترجمۃ ڈاکٹر : احمد شبل

اسلام کی معرفت کا کام اور اس کا علم بلند ترین علوم میں سے ہے اس کا فائدہ بھی بہت زیادہ اور اس کی قدر و منزلت بڑی ہے اور اس کی قدر اور مقام اس لیے بلند ہے کیونکہ اس کی تشریع کرنی والی ذات اللہ تعالٰی کی ہے اور اگر دوسرے علوم مثلا بائیو میتھ کیمسٹری اور علم فلکیات ہے اور دوسری سپیشلائزیشنز تو ان پر بات کرنے کے لئے بندے کا ان علوم سپیشلسٹ ہونا شرط ہے کہ وہ ان علوم میں سپیشلسٹ ہوں

یہ معیار یعنی سپیشلائزیشن واضح اور بنیادی شرط ہے ان علوم کی سپیشلائزیشن کے بارے میں بات کرنے کے لیے تو کیسے ہو سکتا ہے کہ جو ان علوم سے ارفع علم ہے اور عظیم ہے اور ہر ثقافت کی اصل ہے کہ اس کی حرمت ان علوم سے زیادہ نہ ہو ۔ اس  بندے کی مثال جو اسلام کے بارے میں بات کرتا ہے اور اس کی سپیشلائزیشن نہیں کی یعنی غیر اہل ہے ایسے ہے کہ جیسے کوئی حجام مریضوں کی دوائی اور علیلوں کا علاج کرنے لگ جائے حالانکہ وہ طب و جراحت کے بارے میں کچھ نہیں جانتا سوائے ختنہ کرنے اور دانت کھینچنے کے  ، اور اسلام بھی اس معیار کو مقرر کرتا ہے یعنی معیار سپیشلائزیشن کو بلکہ عقلی و شرعی طور اس کے مطالبے کو معتبر بنایا ہے

اللہ تعالٰی کا فرمان ہے: «فَسۡئَلُوۡۤا اَہۡلَ الذِّکۡرِ  اِنۡ کُنۡتُمۡ  لَا  تَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۙ۴۳﴾» پس اگر تم نہیں جانتے تو اہل علم سے دریافت کرلو ۔  اور : » وَ  اِذَا جَآءَہُمۡ  اَمۡرٌ مِّنَ الۡاَمۡنِ اَوِ  الۡخَوۡفِ اَذَاعُوۡا بِہٖ ؕ وَ لَوۡ رَدُّوۡہُ  اِلَی الرَّسُوۡلِ وَ اِلٰۤی اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡہُمۡ لَعَلِمَہُ الَّذِیۡنَ یَسۡتَنۡۢبِطُوۡنَہٗ مِنۡہُمۡ ؕ وَ لَوۡ لَا فَضۡلُ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ وَ رَحۡمَتُہٗ لَاتَّبَعۡتُمُ الشَّیۡطٰنَ  اِلَّا  قَلِیۡلًا ﴿۸۳﴾» جہاں انہیں کوئی خبر امن کی یا خوف کی ملی انہوں نے اسے مشہور کرنا شروع کر دیا حالانکہ اگر یہ لوگ اسے رسول  ( صلی اللہ علیہ وسلم  ) کے اور اپنے میں سے ایسی باتوں کی تہہ تک پہنچنے والوں کے حوالے کر دیتے  ، تو اس کی حقیقت وہ لوگ معلوم کر لیتے جو نتیجہ اخذ کرتے ہیں  اور اگر اللہ تعالٰی کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو معدودے چند کے علاوہ تم سب شیطان کے پیروکار بن جاتے ۔  «وَ مَا کَانَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ  لِیَنۡفِرُوۡا کَآفَّۃً ؕ فَلَوۡ لَا نَفَرَ مِنۡ کُلِّ فِرۡقَۃٍ مِّنۡہُمۡ طَآئِفَۃٌ  لِّیَتَفَقَّہُوۡا فِی الدِّیۡنِ وَ لِیُنۡذِرُوۡا قَوۡمَہُمۡ اِذَا رَجَعُوۡۤا اِلَیۡہِمۡ لَعَلَّہُمۡ  یَحۡذَرُوۡنَ ﴿۱۲۲﴾»               

 

 اور مسلمانوں کو یہ نہ چاہیے کہ سب کے سب نکل کھڑے ہوں سو ایسا کیوں نہ کیا جائے کہ ان کی ہر بڑی جماعت میں سے ایک چھوٹی جماعت جایا کرے تاکہ وہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کریں اور تاکہ یہ لوگ اپنی قوم کو جب کہ وہ ان کے پاس آئیں  ڈرائیں تاکہ وہ ڈر جائیں ۔

آج کل وہ لوگ بھی اسلام کے بارے میں بات کرتے ہیں جو نیم ملا یا چوتھائی علم والے یا اس بھی کم علم ہیں اور اس پر مستزاد وہ لوگ جو ان کے علاوہ ہیں جن کا اسلام کے علوم و فنون سے دور قریب کا بھی کوئی تعلق نہیں ہے ان کو نہ اس علم کا پتہ نہ فقہ کا نہ خبر کا اور نہ ان کو نصوص کے ساتھ استدلال کی قدرت ہے اور نہ شان نزول کا پتہ ہے اور نہ قواعد استدلال کے بارے میں کچھ جانتے ہیں عموم و خصوص کے بارے میں مطلق و مقید و نسخ مصالح و مفاسد کے بارے میں پتہ ہے ، تو جو دینی علوم میں متخصص ہیں ان کو چاہیے کہ وہ دعوت الی اللہ کریں اور امت کے فقہاء مساجد کے ذریعے دینی مراکز میں یونیورسٹیوں میں مدارس میں اور بڑی علمی کانفرنسوں میں دعوت الی اللہ کریں

موجودہ دور میں ہم دیکھتے ہیں کہ بعض نئے مسلمان جو صرف رسمی طور پر اسلام کو جانتے ہیں وہ اسلام کے بارے میں لکھتے ہیں، جیسے کہ بعض دھوکے باز مسلمان اسلام کے بارے میں لکھتے بولتے ہیں ۔ اور ان کے سارے خطاب اسلام کے بارے میں جمود و تشدد کی طرف دعوت دیتے ہیں یا آزادی فکر کی آڑ میں دینی نصوص کی تاویل و تحریف کرتے ہیں

بےشک اسلام کے احکامات ریاضی طب اور کیمیاء سے کم عزت و حرمت والے نہیں ہیں تو جب ہم یہ قبول نہیں کرتے کہ ہم انجینئرنگ کے ماہرین سے طب دقائق کے بارے میں پوچھیں تو کیسے ہم قبول کریں کہ جو دراسات اسلامیہ میں متخصص نہیں ہیں ان سے ہم دین کے معاملات کے بارے میں پوچھیں  تو اسلام کی طرف دعوت جو کہ ضروری اور اہم ہے کے داعیان کو چاہیے کہ وہ متخصص ہوں فقیہ ہوں اسلام کو معتدل انداز میں پیش کریں اور جمود سے دور رہیں جو غلو اور تطرف کا سبب بنتا ہے۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment