Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

قرآن واسلام پر مستشرقین کے شبہات

ڈاکٹر عبدالمحسن جمعۃ الازہری

قران پاک کے نازل ہونے سے آج تک حقائق سے پہلو تہی کرنے والوں نے اسے شبہات کے ذریعے ہدفِ تنقید بنایا ہوا ہے، وہ تناقض ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، یہ خیال کرتے ہوئے کہ اس میں تناقض پایا جاتا ہے، یہ گمان رکھتے ہوئے یہ وہ اس نور کو مٹا دیں گے، اس احمق شخص کی طرح جو اپنی پھونکوں سے سورج کی روشنی ختم کرنے کی کوشش کرے۔ شبہات پیدا کرنے والوں کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ وہ عقلی راستہ سے آتے ہیں، کہ کمزور عقلوں اور کم علم عام لوگوں کو گمراہ کیا جاسکے۔ وہ ایسے افراد کے سامنے ان شبہات کو بہت بڑا کرکے پیش کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ گمان کرنے لگیں کہ ان شبہات کی وجہ سے قرآن مجید کی کوئی اصل نہیں۔اور حقیقت یہ ہوتی ہے کہ یہ شبہات صداقت قرآن کے نزدیک ایک بلبلے کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا، جو جلد فنا ہوجاتا ہے۔

ان شبہات میں سے جو قرآن مجید پر کئے گئے ہیں، قرآن مجید کی آیت

(( إِنَّكُمْ وَما تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنْتُمْ لَها وارِدُونَ  لَوْ كانَ هؤُلاءِ آلِهَةً مَا وَرَدُوها وَكُلٌّ فِيها خالِدُونَ ))

پر یہ شبہہ کہ مشرکینِ مکہ نے قرآن پر فتح حاصل کرلی تھی۔ اور نبی اکرمﷺ کو کہا کہ: اگر ہم آگ کی عبادت کرتے تھے، تو عرب کے لوگ ملائکہ کی بھی عبادت کرتے ھے۔ اور نصریٰ مسیح بن مریمؑ کی عبادت کرتے رہے، اسی طرح یہود نے عزیرؑ کی عبادت کی، اور ان سب معبودین کو آگ کھاگئی؟

اور اس شبہہ پر کافی خوش ہوئے، اور یہ گمان کرلیا کہ انہوں نے نبی اکرمﷺ کو اس اعتراض اور قوی دلیل سے چپ کروادیا۔ اور یہ گمان کرلیا کہ ان کے اس اعتراض اور قرآنی اختلاف کی وجہ سے کئی لوگ اسلام چھوڑ کر واپس غیر مسلم ہوجائیں گے۔ اور یہ معلوم ہوجائے گا کہ یہ رسول تو فقط دعوی کرتا ہے کہ قرآن اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ انہیں یہ معلوم نہیں کہ ان کا یہ اعتراض مکڑی کے گھر سے بھی کمزور ہے۔

نبی اکرمﷺ نے انہیں جواب دیا کہ جو معبودین جہنم میں جلیں گے وہ تو ایسے معبودین ہوں گے جو اپنے معبود ہونے پر راضی ہوتے ہیں، تو عیسیٰؑ، عزیرؑ، اور ملائکہ کبھی بھی اس بات پر راضی نہیں ہوئے کہ ان کی اللہ کے علاوہ عبادت کی جائے۔ تو یہ افراض اس آیت کے حکم میں داخل نہیں۔

اور اسی طرح ان افراد کا ہر شبہہ جو ابتدائی طور پر تو عقلی نظر آتے ہیں، بڑی قوی دلیل والے نظر آتے ہیں۔ مگر تھوڑی سی سوچ وفکر اور عقل کے استعمال کے بعد اسے دلیل سے مٹایا جاسکتا ہے۔ وہ وہم پر بنی عمارت زمین دوس ہوسکتی ہے۔ اسے علم کی ہوا جھٹ میں اڑا سکتی ہے۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment