Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

خود کشی

د. خالد عبد النبى

ترجمة د. أحمد شبل

زندگی اللہ کی طرف سے عظیم نعمت ہے۔  یہ انسان کو عطا کردہ جلیل القدر نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ ہر روز اللہ کا شکر ادا کرے کہ وہ زندوں میں سے ہے۔ نبی نیند سے پہلے یہ دعا پڑھتے تھے۔

: » اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَحْيَا وَبِاسْمِكَ أَمُوتُ فَإِذَا اسْتَيْقَظَ مِنْ اللَّيْلِ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانِي بَعْدَمَا أَمَاتَنِي وَإِلَيْهِ النُّشُورُ «

ترجمہ: اے اللہ! میں تیرے نام سے جیتا ہوں اور تیرے نام کے ساتھ سوتا (مرتا) ہوں۔

اور آپ جب رات کی نیند کے بعد اٹھتے تو پڑھتے

ترجمہ: تمام تعریفیں اُس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے مارنے (نیند کی موت کی بہن کہا گیا ہے), کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

اللہ کی عطا کردہ زندگی ایک مہم کام کے لیے ہے ۔ جیسا کہ قرآن میں اللہ فرماتا ہے:

( أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ [ المؤمنون (115)

«کیا تم نے یہ گمان کیا کہ ہم نے تمہیں بیکار پیدا کیا اور تم ہماری طرف لوٹائے نا جاؤ گے».

المومنون ۱۱۵

لہٰذا اس نعمت کا تقاضا ہے کہ انسان نیک عمل کرے تاکہ اللہ کے ساتھ ملاقات کے لیے اعمال کمائے ۔ کیوں کہ انسان موت کے وقت ندامت کا اظہار کرے گا اوردنیا میں واپس جانے کی تمنا کرے گا جس طرح قرآن میں آتا ہے۔

{ حتى إِذَا جَاء أَحَدَهُمُ الموت قَالَ رَبّ ارجعون لَعَلّى أَعْمَلُ صالحا فِيمَا تَرَكْتُ كَلاَّ إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا } [ المؤمنون : 99 ، 100 ]

ترجمہ: یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آتی ہے تو وہ کہتا ہے کہ اے میرے رب مجھے واپس لوٹا دے ہوسکتا ہے کہ میں اپنی زندگی میں عمل صالح کروں ہرگز نہیں! یہ تو ایک بات ہے جو وہ کہہ رہا ہے۔

المومنون ۹۹, ۱۰۰

اور اللہ نے فرمایا:

{ وَأَنفِقُواْ مِمَّا رزقناكم مّن قَبْلِ أَن يَأْتِىَ أَحَدَكُمُ الموت فَيَقُولُ رَبّ لَوْلا أَخَّرْتَنِى إلى أَجَلٍ قَرِيبٍ فَأَصَّدَّقَ وَأَكُن مّنَ الصالحين وَلَن يُؤَخِرَ اللهُ نفساً إذا جَاءَ أَجَلها }

ترجمہ: اور خرچ کرو اُس سے کو اُس نے تمہں رزق دیا اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کو موت آ جائے اور وہ کہے کہ اے میرے رب تو نے مجھے قریب مدت تک مہلت کیوں نہ دی کہ میں صدقہ کرتا اور نیکوکاروں میں سے ہو جاتا، اور اللہ کسی جان کے ساتھ تاخیر نہیں کرتا جب اُس کا وقت آ جائے».

اپنے نفس کی حفاظت کرنا واجب ہے بلکہ یہ بہترین ضروریات اور کلیات میں سے ہے جن کی حفاظت کا اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے۔

اللہ نے فرمایا:

( وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (195) وقال تعالى { وَلاَ تَقْتُلُواْ أَنفُسَكُمْ إِنَّ الله كَانَ بِكُمْ رَحِيماً } [ النساء : 29 ]

«اپنے ہاتھوں سے اپنے آپکو ہلاکت میں مت ڈالو ، اور احسان کرو، بیشک اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے.» ۱۹۵

اور اللہ نے فرمایا:

«اور اپنی جانوں کو قتل نہ کرو، بیشک اللہ تم پر رحم کرنے والا ہے۔» النساء ۲۹

 خود کشی کرنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے جس سے  نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈرایا ہے اور جہنم کی وعید دی ہے ۔

جیسا کہ بخاری کی حدیث ہے

( مَن تردى من جبل فقتل نفسه فهو في نار جهنم يتردى فيه خالداً مخلداً فيها أبداً ، ومَن تحسَّى سمّاً فقتل نفسه فسمُّه في يده يتحساه في نار جهنم خالداً مخلداً فيها أبداً ، ومَن قتل نفسه بحديدة فحديدته في يده يجأ بها في بطنه في نار جهنم خالداً مخلداً فيها أبداً ) رواه البخاري ( 5442 ) ومسلم

جس شخص نے خود کو پہاڑ سے گرا کر ہلاک کیا تو وہ دوزخ میں جائے گا، ہمیشہ اس میں گرتا رہے گا اور ہمیشہ ہمیشہ وہیں رہے گا۔ اور جس شخص نے زہر کھا کر اپنے آپ کو ختم کیا تو وہ زہر دوزخ میں بھی اس کے ہاتھ میں ہوگا جسے وہ دوزخ میں کھاتا ہوگا اور ہمیشہ ہمیشہ وہیں رہے گا۔ اور جس شخص نے اپنے آپ کو لوہے کے ہتھیار سے قتل کیا تو وہ ہتھیار اس کے ہاتھ میں ہوگا جسے وہ دوزخ کی آگ میں ہمیشہ اپنے پیٹ میں مارتا رہے گا اور ہمیشہ ہمیشہ وہیں رہے گا۔‘‘

پس موت اور زندگی کا حکم اللہ کے دست قدرت میں ہے۔ اللہ اپنی عطا کردہ زندگی کو خود ہی ایک دن موت دے گا لہٰذا انسان کو اس میں تصرف نہیں کرنا چاہیے۔ آزادی کا معاملہ شرعی حدود اور اللہ کے امر اور نہی کی بنیاد پر ہے۔ اور کوئی بھی ایسا سبب نہیں ہے جو انسان کو خود کشی کی طرف دعوت دے چاہے وہ تنگ دست ہو جائے یا کسی کام میں ناکام ہو جائے یا اسے محبوب ملنے میں نا کامی ہو یا کسی بیماری میں مبتلا ہو۔ کیوں کہ زندگی ابتلا پر مبنی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ کی رضا مندی کے ساتھ اسکا سامنا کرے اور اپنے ہدف کو حاصل کرنے کی کوشش کرے جبکہ ناممکنات کے پیچھے نہ پڑے جسے حاصل کرنا ممکن نہ ہو۔ اور جان لے کہ اللہ کی مقدر کردہ چیزوں میں حکمت ہے اور اس میں خیر ہے ۔

بہت سی چیزوں میں انسان سمجھتا ہے کہ اُس کے لیے خیر ہے جبکہ وہ اُس کے لیے شر ثابت ہوتی ہیں۔

جیسا کہ اللہ نے فرمایا:

( وَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ وَعَسَى أَنْ تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ  وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (216)

«اور ممکن ہے کہ تم کسی چیز سے کراہت محسوس کرو اور وہ تمہارے لیے اچھی ہو اور ایسا بھی ممکن ہے کہ تم کسی شے سے محبت کرو اور اُس میں تمہارے لیے شر پوشیدہ ہو ، اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے»

۲۱۶

اور رسول اللہ نے موت کی تمنا کرنے سے بھی منع فرمایا ہے۔

یعنی تم میں سے کوئی موت کی تمنّا ہرگز نہ کرے (کیونکہ) یا تو وہ نیکوکارہوگا تو شاید وہ نیکیاں بڑھائے یا وہ گنہگار ہوگا تو شاید وہ توبہ کرلے».

اور انسان پر لازم ہے کہ وہ اس بات پر یقین رکھے کہ تمام امور کی تقدیر اللہ کے دست قدرت میں ہے اور اللہ جیسے چاہتا ہے اس میں تصرف کرتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔جتنی بھی تنگدستی ہو اللہ اُس کے لیے راستہ فراخ ضرور کرتا ہے، جتنے بھی دروازے بند ہوں اللہ مخرج ضرور پیدا کرتا ہے ۔

جیسا کہ اللہ نے فرمایا:

وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًا) [الطلاق: 4]  { ومن يتق الله يجعل له مخرجا }

  اور جو کوئی اللہ سے ڈرتا ہے تو اللہ اُس کے کام میں آسانی پیدا فرما دیتا ہے۔ الطلاق ۴

اور جو کوئی اللہ سے ڈرتا ہے ، اللہ اُس کے لیے مخرج پیدا کر دیتا ہے۔

اور بہت سارے ایسے کام جن کی وجہ سے لوگوں نے خود کشی کی لیکن وہ اُن کو موت کے بعد میسر آ گیا۔ لہٰذا اُن کو چاہیے تھا کہ اللہ کی رحمت پر اعتبار کریں اور صبر کریں کیوں کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے اور انہیں پورا اجر دے گا۔

بہرحال، اپنی زندگی سے تنگ آ کر  خود کشی کرنے والا، کافر نہیں البتہ کبیرہ گناہ کا مرتکب ٹھہرتا ہے لہٰذا یہ اللہ کے ہاتھ میں ہے کہ انہیں معاف کر دے یا عذاب دے جیسا کہ اللہ فرماتا ہے:

:{إِنَّ اللَّهَ لاَ يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ} [النساء: 48]

بیشک اللہ اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ شرک کا جائے ، اور جس کے لیے چاہے ، اس کے علاوہ باقی گناہ معاف کر دے گا».

النساء ۴۸

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment