Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

الشیخ محمد متولی شعراوی

بقلم: ڈاکٹر محمد الراسخ ازھری

آپ کا اسم گرامی شیخ محمد متولی الشعراوی ہے، آپ کی ولادت 15 اپریل 1911ء میں مصر کے علاقہ دقہلیہ کے گاؤں دقادوس میں سادہ گھرانے میں ہوئی۔ آپ نے 11 سال کی عمر میں ہی قران پاک حفظ کرلیا۔ والد کی ترغیب سے شعر ونثر کو زبانی یاد کرنے کا بچپن سے ہی شوق رکھتے تھے۔ اسی وجہ سے آپ کو زقازیق  علاقہ کے احبابِ ادب نے صدر جمعیہ الادباء مقرر کیا۔ آپ 1934 میں طالب علم یونین کےاستعمار مخالف سیاسی سرگرمیوں کےرہنمابھی تھے،اس وقت آپ تین بیٹوں اوردوبیٹیوں کے والد تھے۔

آپ نے ابتدائی ازہری تعلیم زقازیق کے مدرسہ سے 1022 میں پوری کی۔ اور ثانویہ میں داخلہ لیا، پھر عربی زبان کے کالج سے 1937 سے 1940 تک تعلیم حاصل کی۔پھر شہادة العالمیہ جو اس وقت دکتوراہ کے برابر ڈگری تھی حاصل کی اور ساتھ ہی 1943ء میں تدریس کی اجازت بھی لی۔

جب آپ مصری ٹیلیویژن کے پروگرام “نور علی نور”پر بحیثیت مستقل مہمان آئے  تو آپ نے بہت پذیرائی حاصل کی۔ اس دوران آپ نے 1973ء سے دس سال تک مسلسل قران پاک کی تفسیر پیش کرتے رہے۔

آپ بہت سے اعلی عہدوں پر فائز رہے، جن میں وزیراوقاف کےطورپرمقررکیاگیاتھا۔آپ نے اس دوران بھی مسجد میں ہمیشہ قرآن کریم کے تفسیری درو س جاری رکھے۔ جو “خواطر ایمانیہ” کےعنوان سےٹیلیویژن پرنشرکئے جاتے تھے۔

آپ نےنیویارک کا بھی سفرکیاجہاں اقوام متحدہ کےجنرل اسمبلی میں خطاب کیااوراقوام  متحدہ کی عمارت سےمنسلک مسجدمیں ایک خطبہ بھی دیا۔آپ نےامریکہ،کینیڈااورکئی یورپی ممالک کابھی دورہ کیا۔

آپ یہ کامل ایمان رکھتے تھے کہ “قرآن صرف نہ صرف کائنات کےاسرارکوسکھانےکےلئےتھا،لیکن واضح مادی حدودکےاسراروں کے معلق احکامات دیتا ہے اور قران انسانی زندگی کا طریقہ بتاتا ہے جس سے تہذیببِ انسانی کو فروغاورانسانی عقل کو ارتقا ووسعت ملتی رہتی ہے”۔

شیخ شعراوی نے بہت سےکتابیں لکھیں، جن کا محور قرآن کریم کا پیغام ہی تھا ۔ اس کے علاوہ عقائد، فکری مسائل اورفقہ پربھی توجہ مرکوز رہی۔ ان کتابوں میں اہم ترین : “المنتخب فی تفسیرالقران الکریم،” اور “فتوی”،اور “نظرات فی القران الکریم “وغیرہ شامل ہیں۔

شیخ محمدمتولی الشعراوی شروی 17 جون 1998 ءکوفوت ہوئے۔ آپ کو اپنے آبائی علاقے دیقادوس میں دفن کیاگیاتھا۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment