Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

الشیخ / محمود شلتوت شیخ الأزھر

بقلم: د/یوسف مصطفی الازھری

آپ مصر کے نامور عالم ہیں، 1918ء میں آپ نے شہادة العالمیہ کی سند حاصل کی، اور معاہد میں درجہ عالیہ اور بعد ازاں متخصص کے مدرس کی ذمہ داریاں سر انجام دیں۔ بعد ازاں شعبہ شریعہ کے وکیل/ نگران سرپرست کی حیثیت سے کام کیا۔ بعد ازں جماعت کبار العلماء کے ممبر رہے اور 1958ء میں شیخ الازہر کے منصب پر فائز ہوئے۔ آپ 1946ء میں مجمع اللغۃ العربیہ کمیٹی کے ممبر بھی رہے ہیں۔ آپ پہلے شخص ہیں جنہیں الامام الاکبر کے لقب سے ملقب کیا گیا۔

آپ کی ولادت صوبہ بحیرہ میں 1893 ء میں ہوئی آپ شہر بنی منصور ایتائ البارود مصر میں پیدا ہوئے۔

آپ نے  بچپن ہی میں قرآن کریم حفظ کر لیا، بعد ازاں اسکندریہ کے معہد سے حصولِ تعلیم کی، اس کے بعد ازہر شریف کی کلیہ سے 1918ء میں شہادة عالمیہ حاصل کی، اور 1919 کی تحریک میں اپنے قلم، زبان اور بہادری سے شریک رہے۔ آپ کے علمی مرتبہ کو دیکھتےہوئے شیخ محمد مصطفی مرغی نے آپ کو قسمِ عالی میں منتقل کردیا، جہاں آپ نے اصلاحِ ازہر کی تحریک میں معاون رہے۔ آپ کچھ عرصہ کے لئے اپنے عہدے سے الگ رہے اس دوران آپ نے وکالت کی اور پھر 1935ء میں واپس آئے۔

کارہائے نمایاں:

آپ نے ممبر کے طور پر “لاھای قانونی موتمر” 1938ء میں شرکت کی۔ آپ نے اس کانفرنس میں “المسؤلیہ المدنیہ والجنائیہ فی الشریعہ الاسلامیہ” کے عنوان سے اپنی تحقیق پیش کی۔ آپ نے ایسے علمی ادارے بنانے کی دعوت دی جہاں دشمنانِ دین کے اعتراضاتِ کا بھرپور انداز سے علمی جواب دیا جا سکے، اس کے علاوہ دینی کتب کو بدعت وگمراہی جیسی تعلیمات سے پاک کرنے کی دعوت دی۔ آپ کے یہ افکار “مجمع البحوث الاسلامیہ/ادارہ تحقیقات اسلامی ” کی تعمیر کی بنیاد بنے۔

آپ 1946 میں جمع اللغة العربية کے ممبر بنے، حکومت سے آپ کو ڈپلومہ شریعہ الاسلامیہ کلیہ حقوق کے طالب علموں کے لئے قران وسنت کی تدریس  کے معاملات دیکھنے کے لئے 1950میں ذمہ داریاں دیں۔ آپ اسلامی بحوث / تحقیقات کے مراقبِ عام یعنی نگرانِ عام مقرر ہوئے ، تب آپ نے اپنے تعلقات کو عالم اسلامی تک وسیع کردیا۔ یوں سال 1975ء میں اپ کی شیخ ازہر کے طور پر تعییناتی ہوئی، اس دوران آپ نے مختلف افکارِ اسلامیہ کے لوگوں کو یکجا کرنے کی بھرپور کوشش کی، اور کئی اسلامی ممالک کے دورے کئے۔ آپ نے کئی کتب تحریر کیں ان میں سے: فقہ القرآن والسنہ، مقارنة المذاہب، القران والقتال، وغیرہ شامل ہین۔ آپ کی کتب دنیا کی کئی زبنوں میں ترجمہ ہوچکی ہیں۔ اللہ ان پر رحم فرمائے، انہیں خدمتِ علم ودین پر کثیر جزائے خیر عطا فرمائے۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment