Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

شیخ محمود شلتوت اور اصلاح اور تجدید میں ان کی خدمات

ڈاکٹر عبد الحمید سیف النصر ازھری

الحمد للہ رب العالمین والصلاة والسلام علی المبعوث رحمۃ للعالمین     اما بعد

شیخ محمود شلتوت کو ان اکابر علماء میں شامل کیا جاتا جو انبیاء کے ورثاء ہیں، اور دین کو صحیح معنوں میں سمجھا، اور اپنے آپ کو علم کے لئے وقف کر دیا، اور ہمیشہ اپنے دین اور وطن کی سر بلندی کے لئے کام کیا، آپ بچپن ہی سے انتہائی ذہین تھے، آپ دریا کے قریب منیۃ بنی منصور ۶ شوال ۱۳۱۰ ھ بمطابق اپریل ۱۸۹۳ ء  میں پیدا ہوئے، آپ نے ابتدائی عمر میں ہی قرآن کریم حفظ کر لیا تھا، پھر آپ کو اسکندریہ کے ایک سکول میں داخل کروایا گیا، اس کے بعد آپ ازہر شریف تشریف لے گئے، وہاں سے ؁ ۱۳۳۶ ھ بمطابق ۱۹۱۸ ء میں عالمیہ کی ڈگری حاصل کی، عالمیہ (ماسٹر) کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد آپ کو ۱۳۳۷ ھ بطابق ۱۹۱۹ء میں اسکندریہ کے کالج  میں مدرس مقرر کیا گیا، آپ نے تدریس کے ساتھ اپنی اور بھی علمی سرگرمیاں جاری رکھیں جیسے کہ صحافت۔

جب امام محمد مصطفی مراغی شیخ الازہر بنے (۲ ذی الحجہ ۱۳۴۶ بمطابق ۲۲ مئی ۱۹۲۸  ء میں) آپ کو علمی میدان میں اچھا موقعہ ملا، اور آپ کو ازہر شریف منتقل کیا گیا، وہاں آپ نے فقہ کے تخصص میں اعلی مرحلے کی کلاسوں میں تدریس کے فرائض سرانجام دئے، آپ مسلسل علمی میدان میں کامیابیاں سمیٹتے گئے یہاں تک کہ آپ کو اکتوبر ۱۹۵۸ میں شیخ عبد الرحمن تاج کے بعد شیخ الازہر لگا دیا گیا، اور آپ وفات تک اس عظیم عہدے پر فائز رہے، آپ جمعہ کے دن ۲۷ رجب ۱۳۸۳ ھ بمطابق ۱۹۶۳ ء کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے، آپ کا جنازہ ازہر شریف سے بڑی دھوم دھام سے نکلا اور علماء ازہر اور طلباء کے علاوہ لاکھوں لوگوں نے آپ کے جنازہ میں شرکت کی۔

ازہر شریف میں اصلاحات:

جب تک آپ شیخ الازہر کے منصب پر رہے آپ ازہر شریف کی ترقی کا سوچتے رہے، آپ سمجھتے تھے کہ یہ ادارہ دینی ادارہ اور مقامی زبان کا قلعہ ہے، اور ازہر شریف کے تعلیمی منہج پر نظر ثانی کی، اور فرمایا: ہم ایسا انقلاب چاہتے ہیں جو ہمارے جی کو بھا جائے، اس کے نتیجے میں ۱۹۶۱ ء میں ۱۰۳ کا قانون وجود میں آیا کہ ازہر شریف کو دوبارہ سے منظم (Re organize) کیا جائے، اسی قانون کا نتیجہ تھا کہ:

  • مجمع البحوث الاسلامیہ جیسا علمی اور روحانی کام شروع ہوا، جس نے مسلمانوں کے مابین اتحاد اور اختلافات کے خاتمے کی راہیں ہموار کیں۔
  • ایسے نئے تخصصات کا اجراء کیا گیا جو اس سے پہلے ازہر کے لئے ممکن نہیں تھے، اسی نتیجے میں ازہر میں لڑکیوں کا کالج بنایا گیا، اور ایسے فیکلٹی اور کالجز کا اجراء کیا گیا جو ازہر شریف اور عام تعلیم میں ہم آہنگ تھیں، اس کے علاوہ قرءات کی فیکلٹی کا اجراء کیا گیا۔
  • معہد بعوث الاسلامیہ کا افتتاح کیا گیا، جو غیر عرب طلبہ کو عربی زبان بولنے قابل بنائے۔
  • شیخ کا مقصد تھا کہ ازہر میں ایسا نظام بنائیں جس کے قیام سے ایک بہتر اور مضبوط پیغام جائے، اور عالم اسلام سے اچھے تعلقات استوار ہوں، یہ کچھ اصلاحات ان میں سے ایک ہیں:
  1. اجنبی زبانوں کی تعلیم؛ تا کہ جامعہ کا فارغ تحصیل تمام دنیا تک صحیح معنوں میں پیغام رسائی کا کام کر سکے۔
  2. ایسی شرعی کلیات کا اہتمام کیا جائے دور حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔
  3. شیخ نے ایک اچھی روایت شروع کی دین اسلام کی خدمت کی خاطر کام کرنے والوں کو اعزازی ازہر شریف کی ڈاکٹری کی ڈگری دی۔
  4. شیخ کا خواب تھا کہ ازہر اعلی علمی مرکز بنے، اور اعلی اسلامی اور علمی سرگرمیوں کی ابتدا کی جن میں ایک بڑا لیکچر روم (Auditorium) امام محمد عبدہ کے نام سے بنایا، وہاں پر ہونے والے پروگراموں میں عالم اسلام کی عظیم علمی اور فکری شخصیات شرکت کرتی ہیں، ہر ہفتہ ان لیکچر میں ہزاروں مقامی اور غیر مقامی طلبہ اور مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے شرکت کرتے ہیں۔

اسلامی مذاہب کے درمیان مصالحتی کاوشیں:

آپ مسلمانوں کے احوال کی وجہ سے پریشان رہتے تھے، خاص طور پر جو تنگی اور اختلاف مسلم گروہو میں پائے جاتے تھے انہیں بہت غمزدہ کرتے تھے، آپ چاہتے تھے کہ انہیں ایک کیا جائے اور ان کی صفوں کو منظم کیا جائے، ان میں سے آپ کی کچھ کوششیں یہ ہیں:

  • ازہر شریف میں مختلف مذاہب کی تعلیم کو داخل کیا جائے۔
  • اور ایسا مرکز بنایا جو مذہبی ہم آہنگی اور مسلمان کے گروہی اختلافات کو ختم کرنے کے کام آئے۔
  • اور ایک فتوی دیا کہ کسی بھی ایسے مذہب کے مطابق عبادت کرنا جائز ہے اس شرط پر کہ ان کے اصول صحیح منقول ہوں۔

شیخ محمود شلتوت اور جدت

        شیخ شلتوت کا شمار ذہین طلباء میں ہوتا ہے اور اپنے اصلاح پسند اساتذہ سے متاثر تھے جیسے کہ رفاعت الطہطاوی، محمد عبدہ، مصطفی مراغی، عبد المجید سلیم، اور مصطفی عبدالرزاق سے، یہ وہ شخصیات ہیں جنہوں نے اسلام کے پیغام کو اٹھایا، اور امت کی بیداری کا کام کیا اور ان کے جمود کو توڑنے کی کوششیں کیں، اور شیخ بھی انہی کے نقش قدم پر چلے، اور بتایا کہ اسلام علم وعقل کا دین ہے، اپنی فکر وبصیرت سےایمان کی دعوت دی، شیخ شلتوت نے کئی تجدیدی راہیں ہموار کیں، اور ان راہوں سے استفادہ کیا، خاص کر یہ جدید راہیں معاملات اور اقتصاد وغیرہ کے میدان میں تھیں۔

شیخ شلتوت نے فکری جدت پر زور دیا تا کہ اسلام کی عظیم تعلیمات کو دور حاضر کے مطابق پیش کیا جائے، اور دور کے مطابق لوگوں کی بھلائی کا کام کیا جاسکے اور مقاصد شریعت کو اجاگر کیا جائے، اور ان تشریحات اور تفسیرات اور دعوت کا راستہ روکا جائے جن سے تقلیدی جمود لازم آتا ہے۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment