Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

شیخ علی احمد الجرجاوی

بقلم: ڈاکٹر محمد عبد العزیز الازہری

آپ کا نام علی بن احمد بن علی الجرجاوی،لیکن آپ کی پیدائش کاپوشیدہ ہے، لیکن آپ انیسویں صدی کی آخری تہائی میں  قرعان نامی گاؤں  جو سوہاج نامی قلعہ میں واقع ہے میں پیدا ہوئے، ابتدائی پڑھائی لکھائی اور حفظ قرآن کریم گاؤں کے مدرسہ سے حاصل کیا اورعلوم دینیہ بھی اپنے گاؤں کے بڑے علماء سے حاصل کیا اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لئے قاہرہ گئے اور ازہر شریف سے تعلیم حاصل کی،  اس وقت کے جید علماء سے تلمذ حاصل کیا پھر قضاء شرعی مدرسہ کے ابتدائی طلباء کی فہرست میں جانے جاتے ہیں، اپنی وفات تک جامعہ ازہر کی تعلیمی مراحل سے منسلک رہے۔

            ٹوکیو شہر میں کانفرنس کے انعقاد کے موقع پر جاپان کا سفر کیا ، جس کی اہتمام جاپان کے بادشاہ نے تمام ادیان کے علماء کے لئے کیا تھا  کہ وہ اپنے ادیان کے حقائق جاپانی قوم کے سامنے رکھیں،  آپ نے یہ سفر اپنے بل بوتے پر کیا سمندری راستے سے کیا،   جس سے دنیا کے  بہت سے ساحلی شہروں اور ملکوں سے متعارف ہوئے ۔

            آپ پہلے عربی ہیں جنہوں نے جاپان کی سرزمین پر قدم رنجا فرمائے، اور جاپان کی زمین پر پہلے داعی اسلام شمار ہوتے ہیں،  اور انہوں نے اور ایک ہندوستان کے داعی نے مل کر ٹوکیو شہر میں دعوت اسلامی مرکز کی بنیاد رکھی ، آپ کے ہاتھ پر بارہ ہزار جاپانی دائرہ اسلام میں داخل ہوئے، آپ کی کوششوں کی بدولت شاہ جاپان نے تحفے میں ایک قیمتی گھڑی دی۔

            اسی طرح شیخ صاحب وہ پہلے ہیں جنہوں نے مستشرقین کے گھڑے دعوؤں اور اسلام پر ہرزہ سرائی  کا پیچھا کیا ، اور کئی کتابیں تالیف کیں، ان میں سے : سفر جاپان جس میں آپ نے سفر جاپان کے مشاہدات اور واقعات کو درج کیا ہے ، اور: اس کا شرعی اور فلسفی حکم 

(حكمها التشريعي والفلسفي) ،

 ان کتابوں میں سے اسلام اور مسٹر سکٹ، اور اس کے علاوہ  بھی ہیں اور شعری مجموعہ بھی جریدہ الارشاد میں چھپا ہے، آپ رحمۃ اللہ علیہ کی وفات 1380 ھ بمطابق 1961 ء ہے۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment