Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

شیخ عبد المجید سلیم

بقلم: د/ یوسف مصطری الازہری

آپ جلیل القدر عالم ، اپنے جراتمندانہ آراء ، بہادری، اخلاص کے ساتھ اسلام اور قرآن وسنتِ نبیﷺ کا دفاع کرنے، اور ہر طرح زور وشور کے ساتھ شریعت اسلامیہ اور اس کی ثابت شدہ تعلیمات کی حمایت کرنے  کی وجہ سے مشور ہیں۔ آپ نے قضاء شرعی/ شرعی عدالت میں کام کیا، پس آپ عادل اور جرات مند منصف تھے، آپ نے دار الافتاء مصری میں مجتہد مفتی کی حیثیت سے ذمہ داریاں سر انجام دیں، پھر آپ کو شیخِ ازہر کے طور پر تعین کیا گیا تو آپ نے ازہر شریف کی اصلاح اور ترقی کے لئے کام کئے۔

شیخ عبد المجید سلیم کی ولادت 13 اکتوبر 1882ء میں گاؤں “میت شہالة” المنوفية شہر میں ہوئی۔ آپ نے اپنے بچپن ہی میں حفظ قرآن مکلمل کرلیا، بعد ازآں آپ ازہر شریف سے تعلیم شروع کی اور وہاں سے 1918ء میں فارغ التحصیل ہوئے۔ پھر آپ نے دینی مدارس میں تدریس کا کام شروع کیا، اور مدرسہ قضاء الشرعی میں بھی ذمہ داریاں سر انجام دیں۔

سن 1928ء میں دیار مصریہ کے مفتی کی حیثیت سے کام شروع کیا اور اور بیس سالوں تک منصف رہے، اور سال 1950ء میں شیخ الازہر مقرر ہوئے۔ ہر جگہ آپ نے علمی شجاعت کا مظاہرہ کیا، آپ کا مقصد حق کی نصرت اور عدل کی فراہمی تھا، آپ اللہ کی راہ میں حق بات بولنے میں ذرا بھی جھجک محسوس نہیں کرتے۔

حکومت نے جب ازہر کی سخت نگرانی شروع کی تو شیخ عبد المجید سلیم نے سخت غصہ کا اظہار کیا اوراور ایک مشہور جملہ کہا”یہاں تو بخل۔۔۔۔اوراسراف وہاں” وقت کا حکمران اس وقت اپنی گرمیوں کی چھٹیاں منانے کے لئے اٹلی جایا کرتے تھے۔ جب اسے یہ معلوم ہوا کہ شیخ عبدالمجید سلیم نے یہ جملہ کہا ہے تو فورًا ستمبر 1951ء میں آپ کو شیخ ازہر کے منصب سے معزول کرنے کا حکم صادر کیا گیا، اور فروری 1952ء میں دوبارہ تعینات کیا گیا، مگر اسی سال ستمبر میں حکومتی محل سے اختلافات کی وجہ سے آپ نے استعفی دے دیا، حکومت نے کئی کوششیں کیں کے آپ کا استعفی قبول نہ کیا جائے اور واپس کام پر تعینات کیا جائے مگر آپ اپنے موقف پر ڈٹے رہے اور اکتوبر 1954ء میں وفات فرمائی۔

اللہ پاک آپ پر رحم فرمائے اور انہیں اپنی رحمت سے کی گئی خدمات کا اجرِ عظیم عطا فرمائے۔ آمین

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment