Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

شیخ عبد الحلیم محمود اور ان کی دعوتی خدمات

ڈاکٹر محمد عبد العزیز خضر ازھری

تاریخ میں ہمیں کم ہی ایسی شخصیات ملیں گی جن کو ایک ہو وقت میں فلسفہ فقہ اور تصوف پر عبور حاصل ہو، اس لئے کہ فلسفہ کمال عقل کی دلیل ہے، اور تصوف کمال خشوع وخضوع کی دلیل ہے، اور فقہ اللہ کے احکام کی سمجھ کی دلیل ہے، شیخ عبد الحلیم محمود رحمۃ اللہ علیہ ان چنیدہ لوگوں میں سے تھے جو بیک وقت فقہ فلسفہ اور علوم تزکیہ پر عبور رکھتے تھے، اور دین اور امت  کی خاطر ان علوم  کو اپنایا۔

آپ کا نام اور نسب: آپ عبد الحلیم بن محمود بن علی بن احمد، اور آپ کا سلسلہ نسب سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے۔

پیدائش اور تربیت:آپ جمادی الاول کی ۲ تاریخ ۱۳۲۸ ھ بمطابق ۱۰ مئی ۱۹۱۰ ء کو محافظہ شرقیہ کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے، اور آپ کی پیدائش معزز اور نیک وپارسا گھرانے میں ہوئی۔

تعلیم وتعلم: آپ نے ابتدائی عمر میں ہی قرآن مجید حفظ کر لیا تھا،۱۹۲۳ ء میں آپ ازہر گئے، اور ۱۹۳۲ ء میں عالمیہ کی ڈگری حاصل کی، پھر آپ نے فلسفہ میں ڈاکٹری کے لئے فرانس کا سفر کیا اور سربون یونیورسٹی میں داخلہ لیا، وہاں سے واپسی آپ نے فیکلٹی عربی ادب میں تدریس کے فرائض سرانجام دئے، پھر آپ کو ؁  ۱۹۵۱  میں اصول الدین میں فلسفہ کا پروفیسر مقرر کیا گیا، پھر ۱۹۶۴ ء میں فیکلٹی کے ڈین مقرر کئے گئے، پھر آپ کو مجمع البحوث الاسلامیہ کا ممبر بنایا گیا، پھر اس کا امین عام مقرر کیا گیا، پھر جامعہ ازہر کے ڈپٹی صدر مقرر ہوئے، اور بعد میں وزیر اوقاف لگا دئے گئے، ۱۹۷۳ ء میں آپ کو شیخ الازہر کے منصب سے نوازا گیا۔

اصلاحی اور دعوتی سرگرمیاں:

شیخ محمود کے مجمع البحوث الاسلامیہ کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد سے ان کا اصلاحی رجحان عیاں ہوتا ہے، انہوں نے مجمع کے لئے چنیدہ لوگوں کے ذریعے ٹیکنیکل اور اداریاتی انتظام منظم کیا، اور ایک بڑا علمی مکتبہ تیار کروایا، اور اچھے اور بڑے مصنفین اور مؤلفین اور محققین سے تعلقات استوار کئے تا کہ مجمع البحوث کا کام اعلی نہج پر پہنچے اور اس سے اصلاح کا کام ہو۔

اپنی وزارت کے اوقاف کے دوران مساجد پر اپنی خصوصی توجہ دی، اور کچھ نئی مساجد بنائیں، اور کئی مساجد کو اوقاف کے ماتحت کیا، اور بڑی اور تاریخی مساجد کی تجدید کروائی، جیسے جامع عمرو بن العاص، اور اس کی خطابت شیخ محمد الغزالی رحمۃ اللہ علیہ کے سپرد کی، جس سے اس میں نئی روح پڑی، اس کی رونقین بحال ہوئی، اور اپنی وزارت کے دوران مساجد میں تعلیمی کام شروع کیا جس میں طلباء اعدادیہ اور ثانویہ تک مستفید ہو سکتے تھے، اس طرح انہوں نے ہزاروں طلبہ کو مساجد میں لا کر دین سے جوڑ دیا۔

اور جب آپ شیخ الازہر کے منصب پر فائز ہوئے تو وہاں کی فیکلٹیوں میں اضافہ کیا، اور شہروں اور دیہاتوں میں خیراتی دعوتی مہم شروع کروائی کہ دینی فیکلٹیاں بنائی جائیں، اور لوگوں نے ان کی دعوت پر لبیک کہا، اور ان کے دور میں ازہر کی فیکلٹیاں اس قدر بڑھ گئیں کہ جن کا پہلے سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔

آپ دنیا کے تمام مسلمانوں کو مشکل میں مدد فراہم کرتے اور ان کے فیصلے کرتے، جس طرح کہ لبنان کا میں ایک بار شدت پسندی کی ایک ایسی لہر چل پڑی کہ مسلمانوں اور عیسائیوں میں خنریزی چل پڑی، عرب اور مسلمانوں کے زعماء  نے آپ کے اس مشکل مسئلہ کے حل میں معاونت کی اپیل کی جس کو آپ نے حل فرمایا اور لبنان کو مشکل سے چھٹکارا دلایا۔

جب الجزائز اور مغرب میں مغربی صحراء کو لے کر مشکلات کھڑی ہوئیں تو ان دونوں ملکوں نے اپنی مشکل کے حل کے لئے آپ کو دعوت دی، تاکہ سمجھداری اور حکمت کے تحت آپ ان کی مشکل حل کریں۔

شیخ کی تالیفات:

شیخ عبد الحلیم محمود کی کئی تالیفات ہیں، ان میں سے کئی ایسی ہیں جن کو آپ نے فرانسی سے عربی ترجمہ میں کیا ہے،  اور کئی قدیم کتب کی تحقیق کی، اور ان میں سے کئی ایسی ہیں جو آپ کی مستقل تالیف ہیں، ان میں سے کچھ یہ ہیں، “التفکیر الفلسفی فی الاسلام “،  “الاسلام والعقل” ، “الغزو الفکری والتیارات المعاویۃ للاسلام” ، “فتاوی عن الشیوعیۃ” ، اور  تحقیق کتاب “لطائف المنن” لابن عطاء الله السکندری، اور تحقیق کتاب “المنقذ من الضلال” لہجۃ الاسلام الغزالی وغیرہ کتب۔۔

اس کے علاوہ آ پ کے کئی مقالات ہیں جو مختلف مجلات اور جرائد میں چھپے، اور کئی ٹی وی ٹاک شوز ہیں۔

وفات:

آپ منگل کے دن ۱۰ ذی القعدہ ۱۳۹۷ ھ بمطابق ۱۷ اکتوبر ۱۹۳۷ ء کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے، اور اپنی ہمیشہ رہنے والی یادیں چھوڑ گئے۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment