Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

شیخ الأزھر شیخ عبد اللہ بن حجازی بن ابراھیم الشرقاوی

اپنی قوم سے محبت کرنے والے

وہ جامعہ ازہر کے محترم استاد تھے اور ملکی عدالت کی صدارت ان کے سپرد تھی، اسی اعتبار سے ہم آپ کے سامنے امام شرکاوی رحمۃ اللہ کا تاریخی پس منظر بیان کر رہے ہیں، وہ اسلامی اور قومی قیادت کے روشن ستارہں میں سے ایک تھے ، انہوں نے اپنی حب الوطنی کی وجہ سے فرانسیسیوں کو مشتعل کر دیا تھا،

وہ مصر اور اسکی بہترین عوام کا سا تھ دینے کے لئے ان فرانسیسیوں کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہو گئے تھے،

پیدائش کے ریکارڈز کے لحاظ سے شیخ عبداللہ بن حجازی سن ۱۱۵۰ ھجری میں طویلہ نامی گاﺅں میں پیدا ہوئے جو شرقیہ صوے کے مرکز فاقوس میں واقع ہے انہوں نے قرین نامی گاﺅں  میں قرآن کریم حفظ کیا اور اپنی ذہانت ، بلند ہمتی اور ثابت قدمی اور حب الوطنی کی وجہ سے سب میں الگ شناخت رکھتے تھے، اور تنگ دستی کے باوجود انہوں نے دینی اور عربی علوم پر مکمل دسترس حاصل کی، ان کے محترم اساتذہ میں شیخ ملوی ، شیخ جوہری اور شیخ دمنھوری رحمھم اللہ شامل ہیں۔

اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد شیخ شرقاوی نے جامع مسجد ازہر اور دیگر مساجد میں پڑھانا اور درس دینے کی ابتدا کردی، خطابت اور کتابت میں مہارت رکھنے کے ساتھ وہ امام شافع کے فقہی مسلک کے لحاظ سے فتوے بھی دیا کرتے تھے، اور شیخ احمد موسی عروسی کے بعد جامعہ ازھر کے مہتمم کا عہدہ شیخ شرقاوی کے پاس آ گیا ، ان کا شمار اس سلسلے کے مشائخ میں جنہوں نے ازھر شریف کے ذمے داری سمبھالی تھی گیارہویں نمبر پر کیا جاتا ہے۔

مصر سے فرانسیسیوں کے جانے کے بعد شیخ شرقاوی نے ملکی دفاع کے لئے اور ترکی حکومت / خلافت عثمانیہ کی طرف سے مصری عوام کو پہنچنے والی ہر زیادتی کو ختم کرنے کیلئے کوئی کسر باقی نہیں رکھی ، لہذا جب ترک گورنر خورشید پاشا نے قاہرہ کے عوام پر ایک نیا ٹیکس لاگو کیا/ نافذ کیا، جبکہ اس سے پہلے گورنر خورشید نے علماء سے بھی یہی مطالبہ کیا تھا، اس ٹیکس سے مصری عوام طیش میں آگئی ، مصری قائدین اور علماء کے سامنے کوئی بچاو٘ کا راستہ نہیں تھا سوائے اس بات کے کہ وہ 1220 ہجری کے دن قاضی کے گھر / کی رہائش گاہ میں جمع ہو گئے اور ان میں سب سے آگے اور نمایاں شیخ شرقاوی تھے، ان سب نے ملکر یہ طے کیا کہ وہ ترکی گورنر کے خلاف اٹھیں گے ، جب عوام کو اس فیصلے کا علم ہوا تو چالیس ہزار کے لگ بھگ افراد جمع ہو گئے اور انہوں نے ترکی خلافت کی اس کھلی زیادتی کے خلاف ایک جلوس نکالا /ریلی نکالی/ عثمانی خلافت کے خلاف مظاہرہ کیا، اس کے بعد اس وقت کے قاضی نے /جج نے گورنر کی طرف کے وکیلوں کو طلب کر لیا اور جب وہ لوگان کے پاس آ گئے تو ایک مجلس منعقد کی گئی جس میں قوم پر کئے گئے مظالم کو پیش کیا گیا، اور ان کی طرف سے یہ مطالبے رکھےگئے:

1 :  علماء اور رہنماو٘ں کی منظوری سے پہلے قاہرہ کی عوام پر کسی قسم کا کوئی بھی ٹیکس لاگو نہیں کیا جائے گا۔

2 :قاہر سے فوج کا انخلاء کیا جائے اور انکو جیزہ کی طرف منتقل کیا جائے۔

3 :اسلحے کے ساتھ کسی بھی فوجی کو قاہرہ میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔

جیسے ہی قاضی صاحب کا یہ مطالبوں والا خط خورشید پاشا تیک پہنچا اسکو اپنی گورنری / پوزیشن / حالت خطرے میں محسوس ہوئی لہذا اس نے علما کو فوری ملاقات کے لئے بلوایا مگر وہ حضرات نہیں گئے کیونکہ وہ گورنر کی چالاکی اور سازش کو بھانپ گئے تھے۔

پس جب خورشید پاشا نے مصری عوام کے تمام مطالبے مسترد کر دیے تو علماء اور قوم کے وکلاء ۱۳ صفر ۱۲۲۰ ہجری کے دن کمرہ عدالت/کورت میں جمع ہوئے اور عوام کے ساتھ اس بات پر متفق ہو گئے کہ خورشید پاشا کو معزول کر دیا جائے اور محمد علی کو مصر کا نیا گورنر منتخب کر لیا جائے، اور ان لوگوں نے یہ پیغام محمد علی کو بھیج دیا، ابتدائی مرحلے میں محمد علی نے اس عہدے کو قبول کرنے میں تردد سے کام لیا، لیکن جب شیخ شرقاوی اور محترم عمر مکرم نے انکو واضح طور پر بتایا کہ یہی مصری عوام کی چاہت ہے/رغبت ہے/ پسند ہے ۔ پھر ان دونوں حضرات نے محمد علی کو  گورنری کا / ولایت کا لباس خلعت پہنایامصر کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تها کہ ایک گورنر کو معزول کرکے اسکی جگہ عوام نے اپنی طاقت اور اپنے ادارے سے اپنے لئے کسی گورنر کو مننتخب کیا .

یہ ہیں وہ عظیم استاد اور مصری عالم عبد اللہ شرقاوی ، جنہوں نے علم کی خدمت کرتے ہوئے اپنی زندگی گزاری اور اپنی عوام کا ہمیشہ دفاع کیا / حمایت کی ، اور ان کے ساتھ روا رکهے جانے والا ہر ظلم مسترد کیا ،یہی وہ محترم عالم ہیں جو جامعہ ازہر کی ترقی پسند تحریک کے رہنما ہیں ، اور مختلف اقسام کے کئی عملی اثاثوں کے مالک ہیں جو انکی ذہانت اور علم نافع پر دلالت کرتے ہیں .امام جبرتی رحمہ اللہ شیخ شرقاوی کے بارے میں فرماتے ہیں : انکی تالیفات انکی علمی گہرائی پر دلالت کرتی ہیں ، ان تالیفات میں سے یہ نام قابل ذکر ہیں

  1. التحریر پر شرح
  2. شرح نظم یحیی العمریطی
  3. شرح العقائد المشرقیۃ بمعہ متن
  4. فقہ عقائد میں شرح مختصر
  5. شرح رسالۃ عبد الفتاح العادلی
  6. مختصر الشمائل
  7. رسالۃ فی لا إلہ إلا اللہ
  8. رسالۃ فی التصوف و شرح ورد سحر بالبکری
  9. مختصر المغنی فی النحو

اللہ تعالی شیخ عبداللہ شرقاوی پر رحمت فرمائیں .

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment