Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

سعادت کی کنجیوں میں سے ایک کنجی، نفسی اطمینان ہے

خالد عبدالرزاق

سعادت کی دوسری کنجی یہ ہے کہ انسان اپنے نفس کو ملامت کرنے سے باز رہے ۔

اور مسلمان اس کنجی کو حاصل نہیں کر سکتا جب تک کہ  وہ فضائل کے ساتھ اپنے نفس کا تزکیہ کرے اور اچھے اخلاق پر اپنی تربیت کرے اور اسی کی طرف اللہ نے اپنی کتاب میں اشارہ کیا ہے ، کہ نفس کا تزکیہ فلاح، نجات اور دنیوی اور اخروی کا ذریعہ ہے۔

اللہ نے فرمایا: جو نفس کا تزکیہ کرتا ہے وہ کامیاب ہو گیا اور جو  اس کو خراب کرے وہ ناکام رہا۔

اور اللہ فرماتا ہے : جس نے اپنا تزکیہ کیا وہ فلاح پا گیا۔اور اللہ فرماتا ہے : آپ اُن لوگوں کو انذار پیش کرتے ہیں جو غیب میں اللہ کی خشیت اختیار کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں پس جس نے نفس کو پاک کیا تو اپنے لیے ہی پاک کیا، اور اللہ کی طرف ہی لوٹنا ہے»

اور نفس کا تزکیہ دو طریقوں سے ہوتا ہے:

اول: کہ انسان اپنے آپ کو بری صفات سے آزاد کرے جن میں لالچ ، جہود، ناشکری، سر کشی، مایوسی، قنوط ، جلد بازی، بخل، جھگڑا، ظلم، جھل وغیرہ شامل ہے۔

اللہ تعالی فرماتا ہے:

بیشک انسان جلد باز پیدا کیا گیا ہے، جب اُسے تکلیف پہنچتی ہے تو گھبراتا ہے اور جب خیر پہنچتی ہے تو اُس کو روکنے والا بن جاتا ہے۔ «

«بیشک انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے اور بیشک وہ اس پر گواہ بھی ہے، اور بیشک وہ مال کی محبت میں بہت شدید ہے».

«ہر گز نہیں! بیشک انسان البتہ سرکشی کرنے والا ہے، وہ بے پرواہی برتنے والا ہے».

انسان خیر کی دعا سے تھکتا نہیں ہے، اور اگر اُسے شر پہنچے تو وہ مایوس اور قنوط ہو جاتا ہے»

اور اللہ فرماتا ہے: «انسان شر کو اپنی خیر کی دعا کی طرح مانگتا ہے اور انسان جلد باز ہے»

«بیشک انسان جلدباز پیدا کیا گیا ہے، جب اُسے شر پہنچتا ہے تو وہ گھبرا جاتا ہے اور جب خیر پہنچتی ہے تو اسے روکنے والا بن جاتا ہے، مگر وہ جو نماز پڑھتے ہیں»

لہٰذا یہ تمام بری صفات بد بختی کی طرف ایک راستہ ہے اور نفس کا تزکیہ اصل سعادت اور نجات کی طرف ایک سبیل ہے۔

اور دوسرا امر ، نفس کا تزکیہ, فضائل ، اچھی صفات اور اخلاق کو اپنانے سے ہے

اور وہ صفات جو اسلامی شریعت میں ذکر ہیں تا کہ اچھے اخلاق کے ساتھ انسان کا اکرام کیا جائے جیسا کہ اللہ نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔

«بیشک میں بہترین اخلاق کے اتمام  کے لیے معبوث کیا گیا ہوں»

اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ اخلاق ، سعادت کو محقق کر سکتے ہیں ، اور انسانیت کے اعلیٰ درجے تک پہنچا سکتے ہیں اور ایسا اپنے آپ کو ملامت سے دور رکھ کر کیا جا سکتا ہے جو کوئی شخص کسی زیادتی کی صورت میں ملامت کرتا ہے ۔

«ایسا نہ ہو کہ کوئی جان کہے ، حسرت ہے مجھ پر! جو میں نے اللہ کے ذمے میں زیادتی کی ہے».

لہٰذا تزکیہ کا راستہ، سعادت کو محقق کرتا ہے، جیسا کہ شاعر نے کہا ہے:

«انسان کا دنیا زیادہ کمانا اُس کا نقصان ہے، اور خیر کے سوا نفع چاہنا، خسران ہے۔ اور ہر وہ چیز جس کو ثبات نہیں ہے اُس کو حاصل کرنا، ایک فقدان ہے۔  اے وہ شخص جو دنیا کو آباد کرنا چاہتا ہے، اور اُس چیز کو آباد کرنے کی کوشش کر رہے ہو جو خراب ہونے والی ہے ۔ کیا جو چیز خراب ہونے والی ہے اُسے آباد کیا جا سکتا ہے؟

اے وہ شخص جو پیسے کمانے پر حریص ہے کیا آپ جانتے ہیں کہ مال کی خوشی غم ہوتا ہے

اور اپنے دل کو دنیا اور اُس کی زینت سے پھیر لو ، کیوں کہ اس کی صفائی ہی اس کی گندگی ہے اور اس کا ملنا ہی ہجراں ہے۔

اور غور سے سنو، میں مفصل مثال بیان کرتا ھوں ، جیسے یاقوت اور مرجان کو الگ الگ بیان کیا جاتا ہے۔

لوگوں کے ساتھ احسان کرو، تو اُن کے دل آپ کے لیے غلام بن جائیں گے۔ کیوں کہ احسان کی وجہ سے انسان آپکا غلام بن سکتا ہے۔

تم جسم کی خدمت کرنے ک

خالد عبدالرزاق

سعادت کی دوسری کنجی یہ ہے کہ انسان اپنے نفس کو ملامت کرنے سے باز رہے ۔

اور مسلمان اس کنجی کو حاصل نہیں کر سکتا جب تک کہ  وہ فضائل کے ساتھ اپنے نفس کا تزکیہ کرے اور اچھے اخلاق پر اپنی تربیت کرے اور اسی کی طرف اللہ نے اپنی کتاب میں اشارہ کیا ہے ، کہ نفس کا تزکیہ فلاح، نجات اور دنیوی اور اخروی کا ذریعہ ہے۔

اللہ نے فرمایا: جو نفس کا تزکیہ کرتا ہے وہ کامیاب ہو گیا اور جو  اس کو خراب کرے وہ ناکام رہا۔

اور اللہ فرماتا ہے : جس نے اپنا تزکیہ کیا وہ فلاح پا گیا۔اور اللہ فرماتا ہے : آپ اُن لوگوں کو انذار پیش کرتے ہیں جو غیب میں اللہ کی خشیت اختیار کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں پس جس نے نفس کو پاک کیا تو اپنے لیے ہی پاک کیا، اور اللہ کی طرف ہی لوٹنا ہے»

اور نفس کا تزکیہ دو طریقوں سے ہوتا ہے:

اول: کہ انسان اپنے آپ کو بری صفات سے آزاد کرے جن میں لالچ ، جہود، ناشکری، سر کشی، مایوسی، قنوط ، جلد بازی، بخل، جھگڑا، ظلم، جھل وغیرہ شامل ہے۔

اللہ تعالی فرماتا ہے:

بیشک انسان جلد باز پیدا کیا گیا ہے، جب اُسے تکلیف پہنچتی ہے تو گھبراتا ہے اور جب خیر پہنچتی ہے تو اُس کو روکنے والا بن جاتا ہے۔ «

«بیشک انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے اور بیشک وہ اس پر گواہ بھی ہے، اور بیشک وہ مال کی محبت میں بہت شدید ہے».

«ہر گز نہیں! بیشک انسان البتہ سرکشی کرنے والا ہے، وہ بے پرواہی برتنے والا ہے».

انسان خیر کی دعا سے تھکتا نہیں ہے، اور اگر اُسے شر پہنچے تو وہ مایوس اور قنوط ہو جاتا ہے»

اور اللہ فرماتا ہے: «انسان شر کو اپنی خیر کی دعا کی طرح مانگتا ہے اور انسان جلد باز ہے»

«بیشک انسان جلدباز پیدا کیا گیا ہے، جب اُسے شر پہنچتا ہے تو وہ گھبرا جاتا ہے اور جب خیر پہنچتی ہے تو اسے روکنے والا بن جاتا ہے، مگر وہ جو نماز پڑھتے ہیں»

لہٰذا یہ تمام بری صفات بد بختی کی طرف ایک راستہ ہے اور نفس کا تزکیہ اصل سعادت اور نجات کی طرف ایک سبیل ہے۔

اور دوسرا امر ، نفس کا تزکیہ, فضائل ، اچھی صفات اور اخلاق کو اپنانے سے ہے

اور وہ صفات جو اسلامی شریعت میں ذکر ہیں تا کہ اچھے اخلاق کے ساتھ انسان کا اکرام کیا جائے جیسا کہ اللہ نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔

«بیشک میں بہترین اخلاق کے اتمام  کے لیے معبوث کیا گیا ہوں»

اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ اخلاق ، سعادت کو محقق کر سکتے ہیں ، اور انسانیت کے اعلیٰ درجے تک پہنچا سکتے ہیں اور ایسا اپنے آپ کو ملامت سے دور رکھ کر کیا جا سکتا ہے جو کوئی شخص کسی زیادتی کی صورت میں ملامت کرتا ہے ۔

«ایسا نہ ہو کہ کوئی جان کہے ، حسرت ہے مجھ پر! جو میں نے اللہ کے ذمے میں زیادتی کی ہے».

لہٰذا تزکیہ کا راستہ، سعادت کو محقق کرتا ہے، جیسا کہ شاعر نے کہا ہے:

«انسان کا دنیا زیادہ کمانا اُس کا نقصان ہے، اور خیر کے سوا نفع چاہنا، خسران ہے۔ اور ہر وہ چیز جس کو ثبات نہیں ہے اُس کو حاصل کرنا، ایک فقدان ہے۔  اے وہ شخص جو دنیا کو آباد کرنا چاہتا ہے، اور اُس چیز کو آباد کرنے کی کوشش کر رہے ہو جو خراب ہونے والی ہے ۔ کیا جو چیز خراب ہونے والی ہے اُسے آباد کیا جا سکتا ہے؟

اے وہ شخص جو پیسے کمانے پر حریص ہے کیا آپ جانتے ہیں کہ مال کی خوشی غم ہوتا ہے

اور اپنے دل کو دنیا اور اُس کی زینت سے پھیر لو ، کیوں کہ اس کی صفائی ہی اس کی گندگی ہے اور اس کا ملنا ہی ہجراں ہے۔

اور غور سے سنو، میں مفصل مثال بیان کرتا ھوں ، جیسے یاقوت اور مرجان کو الگ الگ بیان کیا جاتا ہے۔

لوگوں کے ساتھ احسان کرو، تو اُن کے دل آپ کے لیے غلام بن جائیں گے۔ کیوں کہ احسان کی وجہ سے انسان آپکا غلام بن سکتا ہے۔

تم جسم کی خدمت کرنے کی وجہ سے بد بخت ہوگئے ہو

جس چیز میں نقصان ہیں آپ اُس میں فائدہ تلاش کر رہے ہیں۔

اپنے نفس کو توجہ دو ، اور اس کے فضائل کو پورا کرو، بیشک نفس کی خوبصورتی سے آپ انسان ہیں، جسم کی خوبصورتی سے نہیں۔

ی وجہ سے بد بخت ہوگئے ہو

جس چیز میں نقصان ہیں آپ اُس میں فائدہ تلاش کر رہے ہیں۔

اپنے نفس کو توجہ دو ، اور اس کے فضائل کو پورا کرو، بیشک نفس کی خوبصورتی سے آپ انسان ہیں، جسم کی خوبصورتی سے نہیں۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment