Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

مذہبی رواداری

ڈاکٹر خالد فؤاد ازھری

مجھے ان کی ایک بات نے بھی حیران نہیں کیا جو اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اسلام میں رواداری کی تظبیق نہیں،   اسلام اس میں حقیقت سے تجاوز کرتا ہے،  جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: ((اللہ تمہیں اس بات سے منع نہیں فرماتا کہ جن لوگوں نے تم سے دین (کے بارے) میں جنگ نہیں کی اور نہ تمہیں تمہارے گھروں سے (یعنی وطن سے) نکالا ہے کہ تم ان سے بھلائی کا سلوک کرو اور اُن سے عدل و انصاف کا برتاؤ کرو،۔۔۔۔)) اس میں اللہ تعالٰی نے مقدس کلمہ (البر)  فرمایا اس میں سے  (بر الوالدين )  (والدین کے ساتھ بھلائی)ہے یہ بھلائی غیر مسلمانوں کے لئے ہے،  ۔ [یہاں پر آیت کریمہ مشرکین کے لئے ہے] قرآن کریم میں اس کا شرعی مطلب یوں ہے کہ : ((اور اگر آپ کا رب چاہتا تو ضرور سب کے سب لوگ جو زمین میں آباد ہیں ایمان لے آتے، (جب رب نے انہیں جبراً مومن نہیں بنایا) تو کیا آپ لوگوں پر جبر کریں گے یہاں تک کہ وہ مومن ہوجائیںo))  اور اگر کوئی یہ رواداری تاریخ اسلامی میں نہیں وارد تو امام بخاری اسماء بنت ابو بکری کا واقعہ روایت کرتے ہیں کہ سیدہ نے فرمایا: میرے پاس میری ماں آئیں اور وہ مشرکہ تھیں۔۔۔، تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا، میں نے کہا میری امی آئی ہیں اور وہ رغبت رکھتی ہیں، تو کیا میں انہیں نماز پڑھاؤں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں ماں کو نماز پڑھاؤ۔

نبی کریم ﷺ کے عظیم رہنمائی ہے کہ آپ ﷺ اہل کتاب یہود اور نصاریٰ کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آتے تھے،  ان کو دیکھنے جاتے اور ان کی عزت کرتے ان کے ساتھ اچھائی کرتے اور ان کے بیماروں کی عیادت تک فرماتے تھے۔

ان کی دینی رواداری میں سے اہم بات یہ ہے کہ آپ ﷺ نے  نجران کے عیسائیوں کے وفد کا مسجد میں استقبال کیا، جب ان کی نماز کا وقت ہوا تو  آپ ﷺ نے انہیں مسجد میں ادا کرنے کی اجازت دے دی باوجود اس کے کہ مسلمانوں نے انہیں منع کرنے کا سوچا، پھر بھی  رسول کریم ﷺ نے انہیں ادائیگی کی اجازت دی۔

سعید بن المسیب سے روایت ہے کہ ابو عبید نے مال کا ریکارڈ بنایا: تو رسول کریم ﷺ نے یہودی کے گھر والوں پر صدقہ کیا، وہ  ان پر چلتا رہا، ”یہ مالی جمع پونجی ان پر خرچ کی گئی۔ اور جب ایک یہودی کا جنازہ دیکھا آپﷺ اس کے لئے کھڑے ہو گئے ، صحابہ کرام نے کہا یہ تو یہودی کا جنازہ ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا ” کیا وہ ایک جان نہیں ہے؟!”

رسول کریم ﷺ نے اس طریقے کی پیروی کر کے دکھایاحضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہودیوں کے بچوں کو ہمیشہ بیت  المال سے خرچہ دینے کا حکم فرمایا، اور جب حضرت عمر بن خطاب کی وفات کا وقت ہوا تو بستر موت پر فرمایا “میں اپنے بعد کے خلیفہ کو ذمیوں سے اچھائی کی وصیت کرتا ہوں، اور انہیں ان کی طاقت سے زیادہ کی تکلیف نا دے،  حضرت ابن عمر کا پڑوسی یہودی تھا تو آپ انہیں قربانی اور صدقات دیا کرتے تھے، جب أم حارث ابن أبی ربیعۃ فوت ہوئیں اور وہ عیسائی تھیں تو اس پر رسول کریم ﷺ کے صحابہ نے افسوس کیا۔

تابعین  اور ائمہ اور فقہاء اس اعلیٰ راہ سے دور نہیں ہوئے اور حضرت جابر بن زید “صدقہ مساکین اور ذمیوں کو دینے کا کہتے تھے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ تاتاریوں کے بادشاہ قازان نے جب ساتویں ہجری کے آخر اور آٹھویں کے ابتدا میں  شام پر غارت کی ، اس نے بہت سے مسلمانوں کو قید کر لیا جس میں سے یہودیوں اور عیسائیوں کے ذمی بھی شامل تھے، تو شیخ الاسلام ابن تیمیۃ علماء کے ساتھ قیدیوں کو چھڑانے گئے تو انہوں نے قیدی دے دئے تو پھر انہوں نے عیسائی اور یہودی بھی طلب کئےتو تاتاری بادشاہ نے کہا آپ نے اپنے قیدی لے لئے تو أہل کتاب کیوں؟ تو انہوں نے کہا کہ: وہ مسلمانوں کے ذمے ہیں ہم انہیں نہیں چھوڑیں گے۔۔۔  اس کے علاوہ بھی باتیں ہیں جس کی جگہ میں گنجائش نہیں۔۔۔ لیکن رواداری ہمیشہ رہی ہے،  شہری اس چیز کو مانتے ہیں کہ ذمی مسلمانوں کا حصہ ہیں اور ان کی ذمہ داری ہیں۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment