Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

امن کی دعوت اور شدت پسندی کا رد

پروفیسر احمد عمر ھاشم ازھری

آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں ہمارے لئے یہ ضروری ہے ہم امن و امان اور سکون واطمنان کی طرف لوگوں کو دعوت دیں اىسا دور جس میں معاشرہ کو امن وسلامتی کی طرف لے جانا تعمیر کی ترغیب دیناترقی تمدن کی راہ پر گامزن کرنا بہت ضروری ہے، اور یہ امن و امان اللہ تعالٰی کی تعلیمات جو انسانی حقوق کی ضمانت دیتی ہیں اور رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی کی تعلیمات جو اتحاد واتفاق اور امن کی طرف بلاتی ہیں کی پیروی کے بغیر ممکن نہیں ہے. حضور اکرم کی دعوت کی خاصیت یہ ہے کہ وہ ہر ایک اور ہر زمانے کے لئے ہے جیسا کہ اللہ تعالٰی نے فرمایا:

 {وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِینَ} [الأنبیاء: 107],

آپ کی بعثت کی بشارت کتب سابقہ تورات وانجیل میں بھی دی گئی ہے اللہ تعالی نے فرمایا :

{الَّذِینَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ يَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ} [الأعراف: 157] 

اللہ تعالی نے حضرت عیسی کی حکایت کرتے ہوئے فرمایا :

  {وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ} [الصف: 6]

آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت کے  عمومیت اور ابدیت کی من جملہ خصوصیات میں سے ایک حرمت کی حفاظت بھی ہے چنانچہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم نے جان مال اور عزت کی حرمت کی تاکید فرمائی حدیث شریف میں ہے :

(إن دماءکم وأموالکم وأعراضکم علیکم حرام کحرمۃ یومکم ھذا فی شھرکم ھذا فی بلدکم ھذا ألا هل بلغت اللھم فاشھد).

آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی صورت اجازت نہیں دی کہ کوئی کسی دوسرے کو نقصان پہنچائے جب تک وہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا اقرار کرتا ہے اس لئے کہ یہ کلمہ توحید انسانی خون کا محافظ ہے. کسی ایسے مسلمان کا خون حلال نہیں جو اللہ کی وحدانیت اور رسول اللہ کی رسالت کا اقرار کرتا ہو مگر تین صورتوں میں وہ یہ کہ جان کے بدلے جان لی جائے گی اسی طرح شادی شدہ زانی اور جو شخص مرتد ہوجائے انہیں قتل کیا جائے گا. جنگ کے دوران بھی ایک کلمہ گو کی جان لینے کو حرام قرار دیا گیا ہے حضرت اسامہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے ہمیں ایک سریہ میں بھیجا جہاں میں نے ایک آدمی کو دبوچا اور اس نے کہا لا الہ الا اللہ لیکن میں نے اسے نیزہ مار دیا بعد میں مجھے یہ بات کھٹکی اور میں نے رسول اکرم سے عرض کی تو انہوں نے فرمایا کیا اس نے  لا الہ الا اللہ کہا اور تم نے پھر بھی قتل کردیا میں نے کہا اس نے یہ اقرار خوف کی وجہ سے کیا تھا آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کیا تم نے اس کا دل چیرا تھا جو تجھے پتہ چلا کہ اس نے خوف کی وجہ سے کیا تھا یا پھر کوئی اور وجہ تھی؟ پھر کہا قیامت کے دن اس کلمہ کا کیا کرو گے آپ صلی اللہ علیہ و سلم  بار بار اس بات کو دوہراتے یہاں تک کہ میں یہ خواہش کرنے لگا کہ کاش میں اس دن سے پہلے مر چکا ہوتا (مسند احمد،صحيح بخارى ومسلم وابوداود ،وسنن نسائى). 
حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی رسالت انسانی جان کے تحفظ کے لئے آئی ہے چاہے وہ انسان مسلم ہو یا غیر مسلم جو عہد وپیمان میں ہو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :

(ومن خرج علي أمتي برها وفاجرها, لا يتحاشي من مؤمنها ولا يفي لذي عهد عهده فليس مني ولست منه) 

آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسے لوگوں کو کبھی نقصان نہیں پہنچایا جن کو دارالاسلام میں امن ومعاھدے کے تحت رہتے ہیں جب تک انہوں نے خود مسلمانوں سے لڑائی نہ کی. جیسا کہ اللہ تعالٰی نے فرمایا :  

{لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ} [الممتحنة: 8].

ایک مرتبہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے سے جنازہ گزرا تو آپ اس کے لئے کھڑے ہوئے آپ سے کہا گیا کہ یہ یہودی کا جنازہ ہے اس پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ کیا وہ انسان نہیں؟ مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم انسانی جان کا احترام کرتے تھے چاہے اس کا کوئی بھی دین ہو چاہے غیر مسلم ہی کیوں نا ہو. 

حضور اکرم کی متنوع تعلیمات سے واقف شخص یہ جانتا ہے کہ اگر آپ نہ ہوتے تو زندگی کھلی گمراہی کا شکار ہوئی. آپ کی بعثت سے قبل انسانیت اندھی تھی انسانیت شکوک وشبہات اور ظلم وستم کا شکار تھی طاقتور کا قانون حکمران ہوتا تھا اور غلبہ بھی طاقتوروں کا ہوتا تھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت ہوئی آپ حق اور عدل لے کر آئے، لوگوں کو سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کی اور اندھیروں سے نکال کر اجالا میں لائے. 
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے آکر لوگوں کو امن وسلامتی کی طرف بلایا اور سختی وتشدد سے لوگوں کو دور کیا، اور ایک کامل مسلمان کی نشانی یہ بتائی کہ جس کی زبان اور ھاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں اور ایک کامل مؤمن کی یہ نشانی بتائی کہ جس سے لوگوں کی جان مال اور عزت محفوظ ہو. سو جس سے لوگ محفوظ نہیں وہ کامل مؤمن یا مسلم نہیں. لہذا انہیں چاہیے کہ وہ دین اسلام کے حقیقی منہج کی اتباع کریں جو امن وسلامتی کا داعی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزاریں جیسا کہ اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا ہے:

{لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا}.
Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment