Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

آپکے خیال میں مرتد کو قتل کرنے کا حکم کیوں دیا گیا ہے؟

مرتد کے قتل کا اصل سبب کہ مرتد وہ ہوگا جو لوگوں پر اپنا ارتداد ظاہر کرے گا اور ان کے دین کو خراب کرنے کی کوشش کرے گا

اگر ایک مسلمان روزہ نہیں رکھتا رمضان میں تو ہم سمجھ سکتے ہیں کہ اس کا کوئی عذر ہوگا یا کوئی نماز نہیں پڑھتا تو ہم سمجھ سکتے ہیں کہ اس دو نمازوں کو اکٹھا کیا ہو گا لیکن جب کوئی کام کرے پھر اس پر قول کے ساتھ ثابت کرے لوگوں کے سامنے کہ اس نے یہ بغیر کسی رخصت و عذر کے کیا ہے اور جان بوجھ کر کیا ہے اور ہمارے سامنے اپنے آپ کو کھولے اور اپنے دلی انکار کو ظاہر کرے تو جو بات کرے اس نے زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کی اس نے اپنے معاملے کو چھپایا نہیں ہے بلکہ ظاہر کیا تاکہ لوگوں میں فساد پھیلائے ان کے دین کو خراب کرے اگر یہ آدمی اپنے گھر میں بیٹھتا اور نماز نہ پڑھتا تو کسی کو اس کے معاملے کے بارے میں پتہ نہ چلتا اور کوئی اسے تکلیف دیتا اور اس کا معاملہ اس کے رب کے سپرد ہوتا اور گھر میں بیٹھ کر رمضان کے روزے نہ رکھتا تو کوئی اس سے تعرض نہ کرتا اور کتنے ہی لوگ رمضان میں گھروں میں رہ روزے نہیں رکھتے نماز نہیں پڑھتے اپنے رب کے نافرمان ہیں تو کوئی بھی ان کو تکلیف نہیں دیتا اور نہ ان سے کراہت کرتا ہے

تو مرتد کو اس لیے قتل کیا جاتا ہے کے وہ زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کرتا ہے اس طرح اللہ تعالٰی کا فرمان ہےالبقرة

آیت نمبر 217

وَمَنۡ يَّرۡتَدِدۡ مِنۡكُمۡ عَنۡ دِيۡـنِهٖ فَيَمُتۡ وَهُوَ کَافِرٌ فَاُولٰٓئِكَ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ ‌‌ۚ وَاُولٰٓئِكَ اَصۡحٰبُ النَّارِ‌‌ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ ۞

اور جو کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھر (کر کافر ہو) جائے گا اور کافر ہی مرے گا تو ایسے لوگوں کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں برباد ہوجائیں گے اور یہی لوگ دوزخ (میں جانے) والے ہیں جس میں ہمیشہ رہیں گے یہ آیت ان لوگوں پر منطبق ہوتی ہے جو اپنے ارتداد کو چھپاتے ہیں اور اعلان نہیں کرتے تو جو اپنے کفر کی طرف لوگوں بلائے تو وہ ہے جس پر قصد ہے اور ہم اسکے ساتھ ان لوگوں کو جو عقل والے ہیں بچا رہے ہیں کہ لوگوں کی شک ڈالنے والی باتوں میں نہ آئیں اور ایمان کو اپنے دلوں میں استقرار دیں اور بغیر شک کے اللہ کی عبادت کریں

 

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment