Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

نوجوانوں کو درپیش مسائل

عبد السلام (ایوبی)، باحث ایم فل ، شعبہ دعوۃ ثقافت اسلامی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد

اس میں کوئی شک نہیں کہ جوان قوموں کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں جو اس کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرتے ہیں،  اپنے مصمم ارادوں سے بڑی کامیابیاں حاصل کرتے ہیں بشرطیکہ کہ  ان سے اچھی خدمت لی جائے، مشکل وقت میں وہی کام آتے ہیں یہاں تک کہ ددسری قوموں  تک کی تمام اختلافات کے باوجود معاونت  کرتے ہیں، مشکلات کاسامنہ صرف کسی ایک میدان ہی میں نہیں ہوتا بلکہ علمی اور عملی اور معاشرتی ہر میدان میں سامنہ کرنا پڑتا ہے،  ہم ان امور کی نشاندھی کرنا چاہتے ہیں کہ کن امور میں  ہمیں مشکلات کا سامنہ ہیں، ان میں باتیں سر فہرست ہیں،  خالی/تنہائی کی پریشانی، تعریف اور اسباب اور نقصانات اور ان کا علاج اور اس کا خلاصہ:

تعریف: فرصت  (کام سے) اور خالی مکان۔ ہر  کام سے دوری اور تنہائی۔

اسباب:  1۔ بری صحبت جس سے زیادہ تر حفظ نہیں ہوتا سواء ان کے جن کو اللہ سلامت رکھے۔

2۔   جوانی کے جوبن کا مرحلہ اور اس سے جو جذبات ملتے ہیں، اس کے بعد خود کو شادی کی فکر کے معاملے بے بس پاتاہے،  اور مستقبل کے خواب وغیرہ ، اور ان کاموں میں لگ جانا جو وقت کے ضیاع کا سبب ہیں۔

3۔  عمر کے اس مرحلے میں بڑوں کی سرپرستی نہ ہونا، اس صورت میں  ان کی سوچ کا رخ ٹھیک رکھنا، اس طرح ان کا کاموں میں مصروف ہونا شخصیت سازی اور مستقبل کے اہداف کے سلسلے میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔

4۔سرپرستوں کی جانب سے  وقت کی قدر نہ ہونا۔

نقصانات: جوانی کے مرحلے میں خالی الذہن فارغ ہونا خطرناک بیماری ہے، اور اس کی برائی لمبی پھیلنے والی ہوتی ہے، جس کے جوبن سبب نوجوان کو بہت  مہارتوں کا فن ہوتا ہے، جو کہ عمر کے باقی حصے سے مختلف ہوتی ہیں، جوانی انسان کو خراب بھی کر سکتی ہے اگر اس کا رخ اچھائی کی طرف نہ موڑا جائے تو، شاعر نے خوب کہا ہے: (جوانی فرصت اور کوشش                      انسان کو بگاڑنے کا سبب ہے کسی بھی برائی سے)

جوان کی فراغت  میں مشکلات درپیش آتی ہیں وہ  کچھ یوں ہیں: 1۔ قوم کی کمزوری اور بے بسی، 2۔ جوان کا فائدے سے نقصان کی طرف مڑنا۔۔۔ اور فرمانبرداری سے نافرمانی کی طرف میلان، 3۔ جوانی کے نتیجے میں قوم کو ذاتی، اجتماعی اور اقتصادی مشکلات کا سامنہ کرنا پڑتا ہے، خاندانی لحاظ سے وہ فردی اور اجتماعی بنا پر کافی پروان ہوتے ہیں۔

علاج: اسلام فراغت میں کام پر ابھارتا ہے کہ اس میں منافع بخش اور ثمرات آمیز لوازمات پر توجہ دینی چاہئے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: (پانچ کو پانچ پر غنیمت جانو: زندگی کو موت سے پہلے، صحت کو مرض سے پہلے، اور فراغت کو مصروفیت سے پہلے، اور جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، اور مالداری کو فقر سے پہلے) یہ لائحہ عمل مندرجہ ذیل اقدامات کی صورت میں ممکن ہے:

وقت کے ضیاع سے بچو اس لئے کہ وقت کا ضیاع بغیر وجہ انسان کو کھا جاتا ہے /  ایک کام سے فارغ ہو کر اپنے دوسرے کام پر توجہ دو/ فراغت کے نقصان کو جان لو/  فراغت سے فائدہ اٹھاؤ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر/ اس کے علاج کا حل خاندان کی صورت میں یا  جس ماحول میں پیدا ہوئے اس کی بنیاد کی بنا پر،  اپنی فرصت کو کام میں لا کر۔ اس کا یہ مقصد ہر گز نہیں کہ خود کام میں کھو  دو، بلکہ نبوی طریقہ پر ابتدا کرو “ایک ایک لمحہ”  کیوں کہ جوانی کو بہت حوصلہ ہوتا ہے جب اپنے فرصت کے وقت کو ترقی کے  کام میں لائیں گے تو ترقی کے عروج کو پہنچیں گے، خود کو بھی فائدہ دیں گے اور اپنی قوم کو بھی،  اپنی فرصت میں کئی تحقیقات کے ذریعے فائدے حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment