Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

رسول کریم ﷺ کے بارے میں مستشرقین کے شبہات

ڈاکٹر عبد الرحمن حماد ازھری
«آپ ﷺ غار حرا میں عبادت کے لئے نہیں جاتے تھے۔»

مستشرقوں نے اسلام کے قوائم میں شک ڈالنے کی اپنی بڑی کوشش کی،  مسلمانوں کے دلوں میں عقیدے اور اور رسول کریم اور اصحاب کرام کے بارے  میں پھسلن ڈالنے کے طریقے سے،  ان کی یہ کوششیں ہیں کہ  سستی اور کمزوری ڈالی جائے اور مسلمانوں کا قرآن اور سنت پر جو یقین ہے اسے پھیرا جائے،  مستشرقوں نے مختلف طریقے سے اپنا زہر پھیلایا،  کبھی یہ پھیلاتے ہیں کہ اسلام مذہب تو ہے لیکن یہودیت اور عیسائیت کے اثر سے ہے،  اس سے ان کے مطابق ان کے لئے یہ آسان ہوجاتا ہے کہ یہ دعوت دیں کہ جن مذاہب کے اثرات سے اسلام آیا ان کی طرف لوٹ آؤ ، کبھی یہ انکار کرتے ہیں اور مفروضے پیش کرتے ہیں،  اور ان واقعات کا انکار کرتے ہیں جو مسلمانوں کے نزدیک ثابت ہیں،  اور مفروضے میں دوسرے واقعات سامنے لاتے ہیں  شک ڈالنے کے لئے، جن شبہات کے ذریعے مستشرقوں کے نبی کریم ﷺ کے گرد گھیرا کرنے کی کوشش کی ان میں سے  ہے ” نبی کریم ﷺ غار حرا میں عبادت کے لئے نہیں جاتے تھے۔۔۔  اور یہ فقط مکے کی گرمی سے نکلنا تھا،  اور آپ محتاج تھے آپ طائف کا چکر نہیں لگا سکتے تھے مکے کے مالداروں کی طرح”۔

تاریخ کی روشنی میں یہ شبہ من گھڑت ہے  جس کو رد کرنے کی ضرورت ہی نہیں، ایک کے علاوہ مؤرخین نے کہا ہے کہ  دینی خشک سالی کی وجہ سے مکہ مصیبت میں تھا،  آپ ﷺ کی بعثت سے پہلے روحانی طور سیراب تھا،  مکہ کی سرزمین پر رسول کریم ﷺ اکیلے ہی ایسے نہیں تھے روحانیت کی متلاشی تھے،  بلکہ وہاں تو بہت سے عظیم لوگ  تھے جو  مکہ کی سرزمین کو دینی طور خوشک محسوس کر رہے تھے،  اور دین حق کی تلاش میں نکل پڑے تھے وہاں سے،  ان میں سے ورقہ بن نوفل ، زید بن عمرو، عثمان بن الحویرث وغیرہ شامل تھے، انہوں نے جمع ہو کر بتوں کی پوجا نہ کرنے کا تہیہ تک کر لیا، اور یہ آپس فیصلہ کیا کہ مکہ سے نکل کر دوسرے ملکوں کی طرف دین کی تلاش میں جائیں گے، رہے ورقہ بن نوفل تو وہ شام کی طرف نکلے اور ایک راہب سے ملے اور عیسائیت میں داخل ہوگئے، اور زید بن عمرو اس تلاش سے مایوس ہوگئے اور کہا: اے اللہ اگر میں آپ کی کوئی صورت جانتا تو تجھ سے محبت کرتا اور تیری ہی عبادت کرتا لیکن میں تو نہیں جانتا،  یہ ظاہر ہے کہ مکہ کے معاشرے کی طبیعت بتوں کی پوجا کی تھی ہی نہیں سوائے اس کے کہ اپنے باپ داد  کی پیروی کرتے تھے،  اسی کا مظہر مایوسی اور حیرانگی اور دینی خوشک سالی ہے، اسی وجہ سے نبی کریم ﷺ انہی کی طرح دین کی تلاش میں نکلے،  اور مستشرقین کے بے بانگ بیکار دعوے کہ نبی کریم ﷺ غار حراء عبادت  کے لئے نہیں گئے تھے  بلکہ مکہ کے جنگی ماحول سے خود کو الگ کیا تھا، ان کے ایسے دعوے بیکار اور بے بنیاد ہیں دو وجہوں سے:

پہلا: نبی کریم ﷺ غار حرا ء اکیلے جاتے تھے، اور اس سے یہ بات ثابت ہی نہیں ہوتی کہ آپ بھاگ کر یا گرمی سے بچنے کے لئے گئے،  جو بھی اس وجہ سے نکلے تو اس کے ساتھ اس کی بیوی یا اس کے بچے یا اس کے دوست ہوتے ہیں۔۔۔ جبکہ نبی کریم ﷺ کا یہ حال تو تھا ہی نہیں۔

دوسرا: آپ ﷺ فقیر ونادار تھے ہی نہیں ، کیوں کہ آپ تو غار حرا سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کے بعد جانے لگے،  انہوں نے تو آپ کا سرمایہ دار بنا دیا تھا کیوں کہ وہ مکہ کے مالداروں میں سے اچھے پایہ کی تھیں،   ثابت ہوا کہ نبی کریم ﷺ غار حراء غریبی اور گرمی کی وجہ سے بھاگ کے نہیں گئے،  اور یہ واضح ہوگیا کہ مستشرقیں کے  نبی کریم ﷺ کے بارے غار حراء میں عبادت کے بارے فضول اور بے بنیاد ہیں،  اور یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے قول میں اس طرف اشارہ کیا ہے “تجھے بے یار مدد گار پایا تو راستے پر لایا”،  مطلب کہ آپ ﷺ حق کے متلاشی تھے تو اللہ نے آپ کو راستہ دکھایا، ہاں اگر مستشرق خود بھی حق پر پہنچنے کی تلاش میں ہیں تو ان کے لئے آسان ہے کہ اپنے باطل دعووں کو دیکھیں، اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment