Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

حفظ عقل مقاصد شریعت میں سے ایک ہے

ڈاکٹر عبد الرحمن حماد ازھری

عقل اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت جس سے انسان کو نواز کر حیوان سے ممتاز کیا، جب انسان اپنی عقل کھو بیٹھے تو گمراہ اور حیوان بن جائے اور اسے پتا بھی نہ چلا اور ہلاکت اس کا مقدر بنے، اس لئے شریعت اسلامی نے عقل کو بہت بڑا درجہ دیا ہے اور حفظ عقل کو مقاصد شریعت میں سے ایک شمار کیا ہے، عقل کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگائیں کہقرآن کریم میں عقل کو صراحۃً اور اشارتاً تقریباً ۴۰ بار ذکر کیا گیا ہے، ان میں سے ایک اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: “لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ” ترجمہ شاید تمہیں سمجھ آجائے، اور دوسری جگہ ہے کہ: ” أَفَلاَ تَعْقِلُونَ” ترجمہ ’کیا تمہیں سمجھ نہیں‘ ایک اور جگہ پر ہے کہ: ” لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ” ترجمہ سمجھدار قوم کے لئے، ان آیات سے عقل کا ذکر صراحت سے کیا گیا ہے، اور دوسری ایسی آیات ہیں جن میں عقل کا ذکر صفات سے کیا گیا ہے کہ ایسی صفات ذکر کی گئی ہیں جو عقل پر دلالت کرتی ہیں جیسے علم، تفکر، تذکیر وغیرہ جس طرح کہ باری تعالیٰ کا قول ہے کہ: ” إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَةً لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ” ترجمہ [اس میں سمجھدار قوم کے لئے نشانیاں ہیں]، اور دوسری جگہ ہے کہ: ” إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِّقَوْمٍ يَعْلَمُونَ” ترجمہ [اس میں سمجھنے والی قوم کے لئے نشانیاں ہیں] اور ایک اور جگہ پر فرمایا: ” لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ” ترجمہ [شاید تم نصیحت پکڑو]، اس سب سے مقصد یہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے نزدیک عقل کی بڑی اہمیت ہے کیوں کہ یہ اللہ تعالی کی نشانیوں میں غور وفکر کا ایک وسیلہ ہے، انسان اس کے ذریعے عبرت پکڑتا ہے اور اپنےفائدہ والی چیز کو پاتا ہے اور نقصان سے خود کو بچاتا ہے۔

 اسی طرح نبی کریم ﷺ کی سنت میں بھی حفظ عقل کی تلقیں وارد ہوئی ہے کیونکہ یہ اللہ کی نعمت ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: [جس کے پاس عقل جیسی چیز ہو تو وہ اسے ہدایت کی طرف لے جاتی ہے، یا  اسے ہلاکت سے روکتی ہے] اور دوسری جگہ رسول اللہ ﷺ کا قول ہے کہ: [ہر عمل کا کوئی پیمانہ ہوتا ہے، انسان کے کام کا پیمانہ اسکی عقل ہے، اس کی عقل کے مطابق وہ اپنے رب کی عبادت کرتا ہے، کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا فرمان فاجروں کے بارے میں نہیں سنا: اگر ہم سنتے اور سمجھ پاتے تو ہم جہنمی نہیں ہوتے۔

اور عقل کی دو قسمیں ہیں: غریزی یہ عقل حقیقی اور اس کا تعلق تکلیف سے ہے، اسی عقل کے ذریعے انسان دوسری مخلوقات سے ممتاز ہوتا ہے، دوسری مکتسب ہے: جو کہ علم معرفت اور تجربے سے حاصل ہوتی ہے،  علماء کے ایک گروہ کا ماننا ہے کہ عقل کی جگہ دل ہے، اور وہ اللہ تعالی کے اس قول سے دلیل پیش کرتے ہیں: [تو کیا انہوں نے زمین میں سیر و سیاحت نہیں کی کہ (شاید ان کھنڈرات کو دیکھ کر) ان کے دل (ایسے) ہو جاتے جن سے وہ سمجھ سکتے] اور رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: [عقل دل میں ایک نور ہے جس کے ذریعے حق باطل سے جدا ہوتا ہے]، جب عقل کا انسان کے لئے یہ درجہ ہے تو اسی وجہ سے شریعت اسلامی اس کو اہمیت دی اور اس کی ہر حسی اور معنوی برائی سے حفاظت کی ذمہ داری عائد کی، حسی برائی جیسے شراب کا پینا عقل کے لئے، اسی وجہ سے اللہ تعالی نے اسے حرام کرتے ہوئے فرمایا: [بیشک شراب اور جُوا اور (عبادت کے لئے) نصب کئے گئے بُت اور (قسمت معلوم کرنے کے لئے) فال کے تیر (سب) ناپاک شیطانی کام ہیں۔ سو تم ان سے (کلیتاً) پرہیز کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ]  اسی طرح سنت نبی ﷺ میں بھی ہر نشے والی چیز جس عقل میں فساد واقع ہوتا ہے اس کی ممانعت اور اس کے بارے وعید آئی ہے،نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: ہر نشہ آور چیز شراب ہے، اور نشہ آور چیز حرام ہے، اور دوسری جگہ پر آپ ﷺ کا فرمان ہے: شراب سے بچو یہ فساد کی ماں ہے، رہی فساد عقل معنوی تو یہ غلط سوچ سے پیدا ہوتی ہے چاہے دنیوی ہا یا دینی، انسان کی عقل فکر سلیم جو کہ شرع کے موافق ہوتی ہے اور فرد اور معاشرے کی ترقی کا سبب ہوتی ہے سے معطل ہوجاتی ہے، اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے کفار پر عتاب فرمایا کہ وہ اللہ کی آیتوں میں تفکر نہیں کرتے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [کیا آپ یہ خیال کرتے ہیں کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے یا سمجھتے ہیں؟ (نہیں) وہ تو چوپایوں کی مانند (ہو چکے) ہیں بلکہ ان سے بھی بدتر گمراہ ہیں]، منقول ہے کہ ایک بار رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو تورات اٹھائے دیکھا تو آپ نے غصہ فرمایا، اس لئے کہ یہ تحریف شدہ ہے اور اس میں غلط افکار کا پرچار ہے جو کہ عقل کو خراب کر سکتی ہے اور حق اور باطل خلط ملط ہونے کا خدشہ ہے، عقل کی فضیلت میں اتنا کافی ہے یہ انسان کے پاس جو کچھ ہے سب سے قیمتی ہے، نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ: [احمق اللہ تعالیٰ کی مبغوض ترین مخلوق ہے، جب کہ اس کو اللہ کی حرام کی ہوئی چیزیں پسند ہوتی ہیں]، اسی وجہ سے شریعت اسلامی نے اسلام میں عقل کو فوقیت اور اہمیت دی ہے،  یہ ایسی عطیم نعمت ہے اللہ تعالی کی جس سے انسان کو سرفراز فرمایا ہے اور دوسری تمام مخلوقات سے ممتاز فرمایا ہے۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment