Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

جامع مسجد عمر بن العاص

ڈاکٹر عبدالرحمن حماد الازہری

فتح مصر کے بعد مسلمانوں نے سب سے پہلے  مصر اور افریقہ کے  فسطاط شہر میں اس مسجد کی بنیاد رکھی۔ یہ مسجد “مسجد فتح،مسجد عتیق اور تاج الجوامع” کے ناموں سے بھی جانی جاتی ہے۔

 اس مسجد کا رقبہ 13800 میٹر پر محیط ہےاس کے ستونوں کی تعداد 365جو کہ سال کے دنوں کے برابر ہے۔ یہ مسجد دریائے نیل کے شمال مغرب میں واقع ہے۔ یہ مسجد شاندار اسلامی تاریخ کی عظمت کی یاد دلاتی ہے۔ اور یہ مسجد اپنے دیکھنے والے کو فتوحات اسلامی کی یاد تازہ کردیتی ہے۔

جب کوئی شخص اس سرزمیں پر قدم رکھتا ہے تو فورا ذہن جلیل القدر صحابی عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ کی فتح مصر اور اہل رومان کی باقیات کوختم کرنےکی طرف چلاجاتاہےجس کی وجہ سے  اہل مصرمیں وحدانیت  اور الفت کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ اور لوگ جوق در جوق اسلام کی آغوش میں داخل ہونا شروع ہوگئے۔ اور یہیں سے انسانی تہذیب افریقہ تک جاپہنچی۔

یہ ازہر، زیتونہ اور قیروان سے بھی زیادہ قدیم ہے۔ اسی لیے اکثر مورخین اس کو پہلا جامعہ ازہر شمار کرتے ہیں کیوں کہ طلبہ اس میں لغت عربی اور خالص اسلامی علوم یہاں سے حاصل کرتے تھے اور یہ اسلامی فتوحات کامصر پر پہلا اثر تھا۔ اور اس کے مشہور شاگردوں میں سے امام لیث بن سعد،امام شافعی،سیدہ نفیسہ،ابن حجر عسقلانی اور علما کے سردار عز بن عبدالسلام ہیں۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment