Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

دلالت اسم اللہ (السلام) اور عصر حاضر میں معاشروں کو اس کی ضرورت

الدكتورة /سوسن الهدهد

ترجمة الدكتور /أحمد شبل

اللہ عزوجل ہی سلام ہے اللہ تعالٰی کا فرمان ہے الحشر آیت نمبر 23 : «هُوَ اللّٰهُ الَّذِىۡ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ‌ۚ اَلۡمَلِكُ الۡقُدُّوۡسُ السَّلٰمُ الۡمُؤۡمِنُ الۡمُهَيۡمِنُ الۡعَزِيۡزُ الۡجَـبَّارُ الۡمُتَكَبِّرُ‌ؕ سُبۡحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ ۞»

وہی خدا ہے جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں۔ بادشاہ حقیقی پاک ذات (ہر عیب سے) سالم امن دینے والا نگہبان غالب زبردست بڑائی والا۔ خدا ان لوگوں کے شریک مقرر کرنے سے پاک ہے۔

اور حدیث شریف میں ہے فإن الله هو السلام اللہ ہی سلام ہے صحیح بخاری سلام لغوی طور اس کی اصل سلم سے مشتق ہے اور سین میم لام بڑے معانی والا باب ہے اس سے صحت عافیت سلامتی اور براءة کے معنی آتے ہیں جیسا کہ ابن فارس نےکہا ہے تو اللہ تعالٰی سلام ہے أ- اس کی سلامتی کا مطلب اس کا مخلوق کو لاحق ہونے والی چیزیں جیسے عیب نقص اور فنا سے پاک ہونا ہے یعنی وہ وہ غیر کو لاحق ہونے والی مختلف آفات و فنا سے سالم و سلامت ہے وہ باقی و دائم ہے وہ مخلوق کو فنا کرتا ہے اور وہ فنا نہیں ہوتا

ب- اور اللہ تعالٰی اپنے افعال میں بھی ہر قسم کے نقص خطا اور شر سے سالم و سلامت ہے جیسا کہ ظلم وغیرہ سے بریء ہے ابن عاشور کہتے ہیں سلام مصدر مسالمہ کے معنی میں ہے یعنی ہر چیز سے بہت زیادہ سالم سلامت و پاک اللہ تعالٰی کو مصدر کے اس طریقہ وصف کے ساتھ متصف کیا گیا ہے کہ اس مصدر میں مبالغہ پایا جاتا ہے یعنی ذو السلام یعنی سلامت و سلامتی اور وہ اس طرح کے اللہ تعالٰی مخلوق پر ظلم و جور سے پاک و سالم ہے جیسے کہ اللہ تعالٰی کا فرمان ہے ولا يظلم ربك احدا اور تمہارا پروردگار کسی پر ظلم نہیں کرتا/ کرے گا (کھف 49) ج۔ جیسے کہ وہ سلام ہے یعنی سلامتی والا جو سلامتی کا مالک ہو سلامتی دینے والا ہو یعنی جو جبر فکر اور غم سے خلاصی دینے والہ ہو پس جو فکر غم اور تنگی میں اس کی طرف پناہ پکڑتا ہے سلامت ہو جاتا ہے سلامتی پا جاتا ہے

اور جب ہم اسم اللہ سلام پر تدبر کرتے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کس اس کے ساتھ امن و امان اور خون بندی کے معانی جڑے ہوئے ہیں اللہ تعالٰی نے اپنے آپ کو سلام کے نام سے موسوم کیا ہے آپ صل اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے إن السلام اسم من اسماء الله تعالى فأفشوه بينكم(البانی) سلام اللہ تعالٰی کے اسماء میں سے ہے اس کو عام کرو اور اللہ تعالٰی نے اسلام کا تحفہ سلام بنایا ہے انسان اس کے ساتھ خود بھی امن میں آ جاتا ہے اور دوسرے کو بھی امن دے دیتا ہے آپ صل اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے أفشوا السلام تسلموا سلام کو عام کرو تم سلامتی پا جاؤ گے(رواہ  احمد ) اللہ تعالٰی نے اس اسم کو زبانوں پر عام کیا ہے اور اس کی کثرت کی ہے جیسے کہ اللہ تعالٰی نے ہر نماز کے پہلے اور آخری تشہد میں بندے کو سلام کی ادائیگی کا مکلف بنایا ہے اور ہر نماز کے بعد دعا کی صورت میں اللهم انت السلام و منك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام(مسلم) تو اللہ سلامتی والا ہے اور سلامتی کا مالک ہے اور ہر تنگی سے خلاصی دیتا ہے اللہ تعالٰی کا فرمان ہے النمل آیت نمبر 62

«اَمَّنۡ يُّجِيۡبُ الۡمُضۡطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَيَكۡشِفُ السُّوۡٓءَ وَيَجۡعَلُكُمۡ خُلَفَآءَ الۡاَرۡضِ‌ ؕ ءَاِلٰـهٌ مَّعَ اللّٰهِ ‌ؕ قَلِيۡلًا مَّا تَذَكَّرُوۡنَ ۞»

بھلا کون بےقرار کی التجا قبول کرتا ہے جب وہ اس سے دعا کرتا ہے اور (کون اسکی) تکلیف کو دور کرتا ہے اور (کون) تم کو زمین میں (اگلوں کا) جانشین بناتا ہے (یہ سب کچھ خدا کرتا ہے) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے ؟ (ہر گز نہیں) مگر تم غور بہت کم کرتے ہو اور اللہ تعالٰی نے جنت کو دارالسلام کا نام دیا ہے کیونکہ وہ تمام آفات سے سلامتی کا گھر ہے اور یہ کہ وہ دارالسلام نہ منقطع ہونے والہ ہے نہ فنا ہونے والہ ہے اور وہ سلامتی والہ گھر ہے موت سے بڑھاپے سے بیماری سے جیسا کہ لسان عرب میں آیا ہے اور اللہ تعالٰی کا فرمان ہے الأنعام آیت نمبر 127: «لَهُمۡ دَارُ السَّلٰمِ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ‌ وَهُوَ وَلِيُّهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ۞» ان کیلئے ان کے اعمال کے صلے میں پروردگار کے ہاں سلامتی کا گھر ہے اور وہی ان کا دوست دار ہے۔

لہذا فرد کی سلامتی اس دنیا میں اللہ کے ذکر السلام سے جڑی ہوئی ہے اور اس اسم کے عملی دلالات کہ اس سے انسان خود بھی امن میں آ جاتا ہے اور دوسرے کو امن دے دیتا ہے اللہ تعالٰی خود بھی سلام ہے اور اسی کی وجہ سے سلامتی ہے اور وہی سلامتی کی طرف راہنمائی کرتا ہے جب ایک انسان اپنے افعال اقوال میں میں اپنے رب کا تقوی اختیار کرتا ہے تو وہ اسے سلامتی کے راستوں پر چلا دیتا ہے اپنے رب کے پاس سے سلامتی اپنے نفس کے ساتھ سلامتی اور غیر کے ساتھ سلامتی آج کل کے معاشرے سلامتی کے کتنے محتاج ہیں زمین ظلم و جور و قہر کے انتشار سے شکوہ کناں ہے اس زمانے میں کتنے معصوموں کا خون بہا ہے لیکن ہم اس نام عظیم کے دلالات سے غافل ہیں ہم پر واجب ہے کہ ہم اس نام کے دلالات کو پھیلائیں نشر کریں اس کے ساتھ عمل کریں حتی کہ سلامتی اور امن و امان پھیل جائے اسلام تو ہے ہی سلامتی والا دین سلامتی کی طرف بلانے والہ اور اس کی تاکید کرنے والہ اور مسلمانوں کو سلامتی پھیلانے پر ابھارنے والہ آپ صل اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے المسلم من سلم المسلمون من لسانه و يده مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان امن و سلامتی میں ہیں(مسلم).

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment