Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

معاملات میں آسانی کے لیے دعوت اسلام

الاقالہ، مخفی ثواب

دکتور عمر عبد الفتاح

ترجمة الدكتور أحمد شبل

اکثر لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ فقط عبادت ہی اخرت میں جزا کا سبب ہو گی -معزز بھائی! کیا آپ جانتے ہیں کہ بہت سی عادات اور معاملات ایسے ہیں جو آپکو عبادت سے زیادہ ثواب پہنچاتا ہے اور اس میں اسلامی شریعت کی عظمت کا اشارہ ہے کہ مسلمانوں کو ثواب دینے والے معاملات بنائے گئے ہیں۔ حالاں کہ عبادات تو اصل میں مباح ہوتی ہیں، لیکن اس کے باوجود بعض دفعہ معاملات پر بھی ثواب ملتا ہے، اور میں یہاں پر، معاملات کے بارے میں  بعض مقالات پیش کروں گا جس میں عبادت کا معنیٰ بھی پایا جاتا ہے بلکہ اس کا ثواب کبھی کبھی عبادات سے بھی زیادہ ہو جاتا ہے اور یہ ایسے نوادر ہیں کہ بہت سے لوگ اس کے مطلب سے نا واقف ہیں۔ مثال کے طور پر: کبھی کوئی انسان کوئی چیز خریدتا ہے تو  دکاندار اُسے مشتری  کی نظر میں  خوبصورت كرکے پیش کرتا ہے اور مشتری یہ سوچتا ہے کہ دنیا میں اس سے زیادہ خوبصورت چیز نہیں ہے۔

اور اگر میں اسے خریدوں تو مجھے بہت منافع ملے گا اور اگر یہ مجھ سے چھوٹ جائے تو مجھے بہت نقصان اٹھانا پڑے گا۔

اور تجارت کی بہت سے کمپنیاں لوگوں کی نظروں میں اپنی اشیاء مزین کر کے دکھاتے ہیں، لیکن جب انسان اُسے خریدتا ہے تو اُسے اپنی غلطی میں واقع ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ اور سب میری توقعات کے خلاف ہوا اور وہ خریدی ہوئی چیز کو سے بے نیازی محسوس کرتا ہے اور سوچتا ہے کہ اُسے اس چیز کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ مجھے جو اس کی خصوصیات بیان کی گئی تھی وہ اس طرح نہیں ہے پھر وہ غصے کا مظاہرہ کرتا ہے۔

پھر ندامت کے سبب ، اپنی انگلیاں کاٹتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ میں نے اس خریداری میں عجلت سے کام لیا ہے اور پھر وہ اُس چیز کو لوٹا بھی نہیں سکتا۔

کیوں کہ یہ دونوں فریقین کی رضا سے معاملہ طے پایا تھا۔

مشتری یہ تمنا کرتا ہے کہ کاش میں پچھلے وقت میں چلا جاؤں تو میں کبھی اس شے کا انتخاب نہ کروں۔ یہاں پر شریعت کی آسانی آ جاتی ہے کہ شریعت نے مشتری کے معاملے میں اقالہ کی اجازت دی ہے۔ تا کہ آپ کو آخرت میں اللّٰہ کی طرف سے

ثواب ہو جائے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“جو نادم کو اقالہ کرتا ہے اللہ اُس کی غلطی سے درگزر فرماتا ہے  اور اس کا مطلب یہ ہے کہ دکاندار چیز کی واپسی پر راضی ہو۔ مشتری کو اُس کی قیمت لوٹا دے۔

 فقہا نے کہا ہے کہ اقالہ کا مطلب  یہ ہے کہ عقد کو ختم کیا جائے اور بغیر کسی جرمانہ خريدی ہوئی چیز واپس ہو جائے۔

اللہ تعالی قیامت کے دن دکاندار کی غلطی کو معاف کر دے گا۔

اللہ تعالی نے اس آسانی کی طرف ہمیں دعوت دی ہے اور یہ لوگوں کے درمیان جاری عادات

میں، اطاعت کے ابواب میں سے ہے۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment