Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

تفسیر میں تجدیدی کام کرنے والی شخصیات (إمام محمد عبدہ)

ڈاکٹر محمد عبد الوہاب راسخ ازھری

شرح اور تفسیر میں نامور اور مشہور تجدیدی کام کرنے والوں میں سے امام محمد عبدہ بن حسن خیر اللہ ایک ہیں، آپ ۱۲۶۶ ہجری میں مصر کے محافظۃ غربیہ میں پیدا ہوئے، آپ نے ابتدائی تعلیم جامع الأحمدی طنطا سے حاصل کی، پھر آپ تعلیم کے لئے ازہر گئے وہاں سے تصوف اور فلسفہ سیکھا، آپ تعلیم اور تعلم سے منسلک رہے یہاں تک کہ آ پ کو مفتی مصر مقرر کیا گیا اور آپ اپنی وفات ؁ ۱۳۲۳ ہجری تک اس منصب پر فائز رہے۔

امام محمد عبدہ نے تفسیر میں جدید منہج اپنایا اور اپنے آپ کو اس پرانے اور کھوکھلے طریقے سے دور کیا جس کی وجہ سے انسان قرآن مجید کے ہدایت والے راستے سے دور چلا جائے، اور ایک نئی راہ پر چل پڑےیعنی آپ نے معاشرتی بیماریوں کا علاج ایجاد کیا، اور آپ نے سیاسی اور خاندانی مشکلات کا حل نکالا، آیات کی توضیح کرتے ہوئے جو نتائج آپ نے اخذ کئے ان پر ایک نظر ڈالتے ہیں اور اس جدید طرز کی تفسیر سے کچھ عام مسائل کا استنباط کرتے ہیں، اور اسے چند حصوں میں تقسیم کرتے ہیں:

پہلا: اعتقاد کی ضرورتکیونکہ تفسیر کا اہم مقصد اللہ کے پاک کلام کی فہم ہے، اس لئے کہ یہ وہ دین ہے کہ جو انسان کو دنیا اور  آخرت کی بھلائی کی طرف رہنمائی کرتا ہے، اس کے علاوہ جو بھی مباحث ہیں وہ اس کے تابع ہیں یا اس کے حصول کا وسیلہ ہیں۔

دوسرا: ایک ہی موضوع کے ساتھ وابستگی: امام محمد عبدہ کا خیال ہے کہ جو کچھ قرآن پاک میں ہے اگرچہ اس کی جگہیں مختلف ہیں اور سورتیں اور احکام ایک نہیں ہیں ان میں ایک وحدت پائی جاتی ہے عملی طور پر ان کو الگ کرنا اچھا نہیں، نہ یہ کہ کچھ کو چھوڑ کے کچھ کو لیں۔

تیسرا: قرآن کی جامعیت: قرآن مجید کے معانی عام ہیں کسی شخص کے ساتھ اس کو خاص نہیں کیا جاسکتا۔

چوتھا: کلام میں غیر ضروری کو ترک کر دینا، اس میں جو قرآن مجید میں مبہم ہو۔

پانچواں:قرآن کریم کی تفسیر میں معاشرتی اصلاح کا خیال رکھنا، اہم بات جس نے امام محمد عبدہ کی سوچ کو مشغول رکھا وہ یہ کہ اجتماعی زندگی کا نظم اور اس کی اصلاح کی بنیاد قرآن پاک کی رہنمائی سے ممکن ہے،

چھٹا: قرآن مجید اور حقائق علمی میں موافقت۔

اور اسی طرح ان عام خصوصیات کا تجزیہ کرنے کے بعد ہم کہ سکتے ہیں امام محمد عبدہ کا تفسیر میں منہج ادبی اور اجتماعی ہے، بسبب جو اس نے بلاغت قرآن اور اس کے اعجاز کو آشکار کیا ہے، اور جو اس نے معانی اور اس کے اہداف کی وضاحت کی ہے، انہوں نے اس کے اس عظیم دنیا کے طریقوں کی وضاحت کی ہے اور نظم اجتماعی کو بیان کیا ہے اور خاص کر امت اسلامیہ کی مشکلات کا علاج کیا ہے، عمومی طور پر تمام امتوں کی مشکلات کا ادراک کیا ہے، جس کی رہنمائی قرآن کریم فرماتا ہے علم و ہدایت سے، اور قرآن مجید نے دنیا اور آخرت کی بھلائی کو جمع کیا ہے، قرآن کریم نے ان نظریات کی موافقت کی ہے جن کو علم کے صحیح نظریات نےثابت کیا ہے، اور لوگوں کے لیے آشکار کیا ہے کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی دائمی کتاب ہے، جو تطور زمانہ اور انسان کے مطابق چلنے کی استطاعت رکھتی ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالی نے انسان کو زمیں اور جو کچھ اس پر ہے اس کا وارث بنایا ہے، اور قرآن کریم پر جو شبہات کئے گئے ان کا رد کیا، شک اور وہم کی بنا پر جو اعتراضات کیے گئے ان کا بھی دفاع کیا، مضبوط دلیلوں کے ساتھ اور باطل کو کچل کر رکھ دیا، یہاں تک کہ باطل ختم ہو گیا۔۔۔ یہ دلچسپ انداز پڑھنے والے کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور شوق دلاتا ہے، اور اس کے دل میں گھر کر لیتاہے، ضروری ہے کہ کتاب اللہ میں اس رغبت کے ساتھ غور کریں کہ اس کے معانی اور اسرار پر بھی واقفیت حاصل کریں۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment