Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

مسجد اقصی رسول اللہ ﷺ‎ کی احادیث کی روشنی میں

ڈاکٹر: محمدی عبدالبصیر

ترجمة ڈاکٹر: احمد شبل

مسجد اقصی ایسی سرزمین ہے جس میں اللہ تعالی نے برکت دی اور اس پہ اپنے انوار و اسرار بکیھرے۔

ان میں سے بعض کے متعلق لوگوں کو معلوم ہوۓ اور اقصی پر

اسی طرح خیر باقی رہے گی جو زمان و مکان میں چمکتی رہے گی اھل عدل اور محبت کرنے والوں کی نظریں اس کی طرف التفات کرتی رہیں گی۔

اللہ عزوجل نے اس روشن پہلو کو مسجد اقصی کے لئیے واضح بیان کیا

”بہت بابرکت ہے وہ ذات جو رات کے وقت اپنے بندے کو مسجد حرام سے مسجد اقصی لے گیا جس کے گرد ہم نے برکت رکھی تاکہ ہم اسے اپنی نشانیاں دکھائیں بے شک وہ سننے اور دیکھنے

والا ہے“

نبي ﷺ‎ کی احادیث میں مسجد اقصی کے بارے بہت باتیں ہیں جو اللہ سبحانہ وتعالی نے مسجد اقصی اور اور اس کے گرد برکتیں رکھیں تاکہ عالمی مجتمع اس مسجد کی حفاظت اور اس پر ظلم و زیادتی کرنے والوں کا ہاتھ روکیں۔

وہ حقائق جن پہ احادیث نبوی متکد ہیں ان میں درج ذیل ہیں۔

=مسجد اقصی کے قائم ہونے کی تاریخ اور بنیاد:

ابو ذر رضي اللہ عنہ سے واضح روایت ہے کہتے ہیں

میں نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ‎ زمین پہ سب سے پہلی مسجد کون سی بنی آپ علیہ السلام نے فرمایا:

مسجد حرام

میں نے کہا: اس کے بعد؟

کہنے لگے: مسجد اقصی

میں نے پوچھا ان دونوں کے درمیان کتنی مسافت ہے؟

آپ ﷺ‎ نے بتایا: ٤٠سال کی۔

اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مسجد اقصی کا وجود اللہ عزوجل کے نبی ابرھیم، داود اور سلیمان صلوات اللہ علیھم اجعین سے پہلے کا ہے۔

=اس کا مقام اس کی حمایت کو واجب قرار دیتا ہے

نبي ﷺ‎ مسجد اقصی کے مقام کے بارے واضح کرتے ہوۓ اس کے خصائص کو بیان کرتے ہیں جو دنیا میں آپ کی امت اور اسلام کے داعیوں پر اس کی حمایت و خیال کرنے کو ضروی قرار دیتے ہیں وہ خصائص یہ ہیں۔

* مسلمانوں اور اس کے درمیان تواصل نبي ﷺ‎ کا یہ قول اس کی تاکید کرتا ہے ”تین مساجد کے علاوہ کہیں اپنا رخت سفر نہ باندھو مسجد حرام، رسول ﷺ‎ کی مسجد اور مسجد اقصی

یہ اس کے اختصاص کی تاکید کرتی ہے کہ ان میں حاضر ہوتے رہنا چاھئیے تاکہ کوئی ان میں ظلم نہ کرے۔

اسی طرح نبی ﷺ‎ کا قول ہے”جس نے مسجد اقصی سے مسجد حرام تک حج یا عمرہ کیا اس کے سابقہ گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں“

اور آپ کا قول: جو مسجد اقصی میں فوت ہوا گویا اس کی وفات آسمان پہ ہوئی“

* مسجد اقصی انبیاء کی ملاقات کی جگہ ہے۔

زمانے کے مختلف اوقات میں انبیاء  مسجد اقصی میں آتے رہے

اس کیطرف ابن عباس رضی اللہ عنھما کے قول کا اشارہ ہے

”مسجد اقصی کو انبیاء نے تعمیر کیا اور انبیاء اس میں ٹھرے“

اس میں ایک  بالشت کی بھی ایسی جگہ نہیں جس میں کسی نبی نے نماز نہ پڑھی ہو یا کوئی فرشتہ کھڑا نہ ہوا ہو“

اس کے علاوہ اللہ تعالی نے اس کو دنیا کی سلامتی کے لئیے یکسانیت کا درجہ دیا اور اسے اصلی محور بنا دیا یہ اس وقت ہوا جب سیدنا محمد ﷺ‎ کا سفر معراج مسجد حرام اور مسجد اقصی کے درمیان ہوا اور جب آپ علیہ السلام نے اس میں انبیاء کی امامت کروائی۔

اللہ کا فرمان ہے:”بہت بابرکت ہے وہ ذات جو رات کے وقت اپنے بندے کو مسجد حرام سے مسجد اقصی لے گیا جس کے گرد ہم نے برکت رکھی تاکہ ہم اسے اپنی نشانیاں دکھائیں بے شک وہ سننے اور دیکھنے والا ہے“

اس میں اشارہ ہے کہ انبیاء کی دعوت سلامتی اور امن کی تحقیق کی طرف تھی اور سیدنا محمد ﷺ‎ کی رسالت انبیاء کی رسالات کے لئیے خاتمہ اور ان کو مکمل کرنے والی تھی اور آپ کی امت انبیاء اور رسل کی فکری اور سلوکی قیادت کی اتباع کی زیادہ حقدار ہے۔

نبی علیہ السلام کی احادیث میں بعض ایسے حقائق ہیں جو ان حوادث کے ساتھ متصل ہیں کے حاضر اور مستقبل میں کیسے

چلا جاۓ۔

رسول اللہ ﷺ‎ نے تین مرتبہ فرمایا:

شام کے لئیے خوشخبری ہو!

صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ‎ یہ کیوں؟

آپ علیہ السلام نے فرمایا: ”وہ فرشتے ہیں جو شام پر اپنے پر بچھاۓ ہوۓ ہیں“

شیخ الاسلام عز بن عبدالسلام رحمہ اللہ نے فرمایا:

رسول ﷺ‎ نے اس میں یہ اشارہ کیا کہ اللہ تعالی نے فرشتوں کو مقرر کیا جو اس کی چوکیداری و حفاظت کرتے ہیں۔

نبی ﷺ‎ کی دجال کے بارے حدیث میں وارد ہے

کہ دجال کا سلطان ہر جگ پہنچے گا: ”سواۓ بیت اللہ، مسجد نبوی، مسجد اقصی اور طور کے“

نبی ﷺ‎ کی بہت سی احادیث ایسے واقعات پہ دلالت کرتی ہیں

جو گزر چکیں اور جو ان ممالک اور مسجد اقصی میں سے گزرے تساعد فی بیان کثیر من خفایاھا وما یؤول الیھا امرھا

 

اور ان احداث کے باوجود جو ان ممالک میں واقع ہوۓ اور اس کے حالات کی وجہ سے کوئی یہ تصدیق نہیں کرتا کہ اقصی محفوظ و موجود ہے اور اس میں نمازیں حتی کہ یہود کے جرائم اور دہشت گردی کے باوجود ١٤٤٢ھ ٢٠٢١ء میں نماز تراویح بھی ادا کی گئیں۔

ضروری ہے کہ اس میں ایسے عوامل ہیں جو انسانی طاقت سے

باہر ہیں۔

آخر میں میمونة رضی اللہ عنہ نبی ﷺ‎ کی زوجہ سے روایت ہے

کہتی ہیں میں نے کہا:

اے اللہ کے رسول ﷺ‎ ہمیں بیت المقدس کے بارے فتوی دیں

آپ نے کہا:

محشر و منشر کی جگہ یعنی قیامت کے قریب اس کی جانب اکٹھ ہو گا، اس میں آؤ اور نماز ادا کرو، بے شک اس میں نماز میں ادا کرنا کسی اور مسجد میں ہزار  نمازیں ادا کرنے کی طرح ہے۔

میں نے کہا: اگر میں اس کی استطاعت نہ رکھوں؟

”آپ علیہ السلام نے کہا: تو آپ اس کے لئے تیل بھیجیں جو اس میں چراغ کے لئیے استعمال ہو پس جس نے ایسا گویا وہ اس میں حاضر ہوا“

ایک روایت میں ہے

”کیسے ہو گا کہ روم ابھی تک اس میں ہیں“

یہ مسجد اقصی کی برکات کی صورتیں ہیں واللہ ولی التوفیق.

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment