Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ اور ان کی دینی اور ادبی خدمات

ڈاکٹر یوسف مصطفی ازھری

آپ کا نام إمام الحافظ  أبو الفضل جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین أبی المناقب أبی بکر بن ناصر الدین محمد بن سابق الدین أبی بکر بن محمد فخر الدین عثمان بن ناصر الدین محمدبن الشیخ ھمام الدین الھمام الحضیری الأسیوطی.

آپ قاہرہ میں ۸۴۹ ھ بمطابق ۱۴۴۵ ء میں پیدا ہوئے اور آپ جلال الدین سیوطی کے نام سے مشہور ہوئے، آپ اس خاندان کے چشم وچراغ تھے علم جن کی زندگی کا زیور تھا، آپ کے والد صاحب ایک عظیم استاد اور مربی تھے جن سے بہت سے اہل علم نے علم کی تشنگی بجھائی اور عظیم مراتب پر فائز ہوئے، آپ چھ سال کے تھے کہ آپ کے والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا، اور اپنے والد کی علمی میراث کو سنبھالا اور تحصیل علم میں لگ گئے، آپ نے آٹھ سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کیا، اور ساتھ ہی کافی کتابیں بھی یاد کیں، جیسے العمدۃ، منہاج الاصول والفقہ، اور الفیہ ابن مالک، ان کا یہ شوق ہی ان کی علمی پروان کا سبب بنا، اور آپ علماء سے انتہا کی محبت رکھتے تھے اور ان کی مجلسوں میں حاضر ہوتے تھے اور ان میں سے کافی ان کے والد کے دوست بھی تھے، ان میں سے کمال بن ہمام الحنفی سیوطی میں بڑا اثر ورسوخ رکھتے تھے، اس دور میں ان کے علم اور تقوی کا چرچا تھا، اور آپ امراء اور سلاطین کے پاس بڑا رسوخ رکھتے تھے، اور یہ درجہ بعد میں امام سیوطی نے بھی پایا۔

ان کی علمی فوقیت پر کوئی دو رائے نہیں، اور وہ خود فرماتے تھے کہ مجھے الحمد للہ سات علوم میں تبحر حاصل ہے، جن میں تفسیر، حدیث، فقہ، معانی، بیان اور بدیع شامل ہیں۔

ان کا علمی منہج یہ تھا کہ آپ ایک وقت میں ایک شیخ سے حصول علم کرتے اور اس کے ساتھ رہتے یہاں تک کہ ان کا انتقال ہوجاتا تو پھر دوسرے کے پاس جاتے۔۔۔

امام سیوطی جن سے سب سے زیادہ متاثر تھے وہ ان کے شیخ محی الدین الکافیجی ہیں، آپ ان کے ساتھ چودہ سال رہے اور ان کو استاذ الوجود کا نام دیا۔ ان کے علاوہ بھی آپ کے بہت سے شیوخ ہیں، ان میں سے: تقی الدین الشبلی، جلال الدین محلی، شرف الدین المناوی، اور الاقصرانی وغیرہ ہیں۔۔۔

حصول علم کے بعد آپ تدریس میں لگ گئے اور بہت ہی اعلٰی طریقے سے تدریس کے فرائض انجام دئے، آپ کے مشہور تلامذہ میں سے کچھ یہ ہیں، شمس الدین الداودی طبقات المفسرین والے، اور مورخ کبیر ابن ایاس کتاب بدائع الزہور والے، اور شمس الدین الشامی سیرۃ شامی والے۔

امام سیوطی کی کئی تصنیفات ہیں جن میں بروکلمان نے ۴۱۵ کا دعوی کیا ہے، اور حاجی خلیفہ نے اپنی کتاب کشف الظنون میں ۵۷۶ کے قریب شمار کی ہیں، اور اپ کے تلمیذ رشید ابن ایاس نے چھ سو شمار کروائیں ہیں، اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان میں سے زیادہ ابھی تک محفوظ ہیں، اگرچہ کسی اسلامی مکتبہ میں تمام کتب موجود نہیں ہیں تاکہ اس بحر سے مستفید ہوا جا سکے، آپ ؁ ۹۱۱ ھ بمطابق ۱۵۰۵ میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے اور آپ کا جنازہ مثالی تھا، اس بارے آپ کے شاگرد الشاذلی کہتے ہیں اتنا ہجوم تھا کہ رش کی وجہ سے لوگ تابوت تک نہیں پہنچ پا رہے تھے۔۔۔ اور آپ کو قاہرہ میں باب قرافۃ کے باہر دفن کیا گیا، اور اس قبرستان کا نام بھی ان کے نام کی نسبت سے مشہور ہے۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment