Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

امام مالک رحمہ الله

بقلم: پروفیسر ڈاکٹر خالدعبدالرزاق

ترجمة:  د: أحمد شبل الأزهرى

     آپ کی کنیت ابو عبداللہ اور نام مالک بن انس بن مالک بن ابی عامر ہے۔ نسبت اصبحی ہے ۔ اور  لقب دار ہجرت (مدینہ منورہ ) کا امام ہے ۔ اہل سنت والجماعت کے چار اماموں میں سے دوسرے امام اور مالکی نامی فقہی  مذہب  کے بانی ہیں۔  راجح قول کے مطابق آپ مدینہ منورہ میں سن 93 ہجری کو پیدا ہوئے۔ تبع تابعین کے سرداروں ۔معززین اور نیک شخصیات میں سے ہیں ،نیز علم کی جستجو میں ہی  پرورش پائی ۔ اپنے وقت میں اہل حجاز کے امام اور اپنےزمانے میں مدینہ منورہ میں  فقہ مالکی  کے لیئے حجت سمجھے جاتے تھے۔علماء اسلام نے آپ کی صفات بیان کرتے ہوئے  کرتے ہوئے آپ کے شایان شان  بہت ساری  تعریف کی ہے ۔چنانچہ امام ابو حنیفہ نے کہا ۔  الله کی قسم۔میں نے زھد وتقوی میں کامل اور نہایت تیزی سے سچے جوابات دینے والا امام مالک سے بڑھ کر کوئی نہیں دیکھا۔ اسی طرح امام شافعی نے آپ کے بہت سے اوصاف جلیلہ بیان کیۓ ہیں۔ ان میں سے ایک قول یہ ہے۔جب علماء کا تذکرہ کیا جائے تو امام مالک ان میں روشن ستارہ معلوم ہوتے ہیں۔علاوہ ازیں ان کے بہت اعلی اوصاف اور نہایت شاندار خوبیاں مشہور ہیں ۔امام مالک کی وفات سن 179ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپ کی متعدد تصانیف ہیں ۔جن میں سے چند کتابیں مندرجہ ذیل ہیں ۔ تفسیر غریب القرآن ، وعظ و نصیحت پر مشتمل مختصر کتاب۔ ،منکرین تقدیر کی تردید پر مشتمل مختصر کتاب۔ جبکہ سب سے ذیادہ مشہور مؤطا ہے ۔ جس کی تحریروں کی  تحقیق اور کانٹ چھانٹ میں امام صاحب نے چالیس سال صرف کر دیئے ۔ علماء کے ایک قول کے مطابق اس کتاب کی تالیف کا سبب عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور کا یہ قول ہے ۔ اے امام صاحب ۔ لوگوں کی تعلیم و تربیت کے لیئے ایسی کتاب لکھ دیجئے جس پر میں لوگوں کو پابند کر دوں ۔ کیونکہ  آپ سے بڑا عالم  میں نے نہیں دیکھا ۔چنانچہ امام مالک نے اس کی ڈیمانڈ پر فقہ اور حدیث پر مشتمل، مؤطا امام مالک۔ نامی کتاب تصنیف کر دی ۔لیکن آپ نے یہ بھی فرما دیا کہ  لوگوں پر یہ پوری کتاب  زبر دستی طور پر  مسلط نہ کی جائے ۔          

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment