Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

ابن ہشام انصاری مصری اور ان کی عربی زبان کی خدمات

ڈاکٹر عبد الحافظ حسن العسیلی ازھری

آپ کا نام جمال الدین بن یوسف بن عبد اللہ المصری اور ابن ہشام انصاری کے نام سے مشہور ہوئے، آپ کا شمار ۸ ہجری کے علماء میں ہوتا ہے، آپ کی قبر امام شافعی کی قبر کے پاس ہے، آپ قاہرہ میں پڑھاتے رہے ہیں آپ کو لغت اور نحو پر عبور حاصل تھا، اور اس میدان میں آپ نے بڑی محنت کی اور تدریس میں نام کمایا، اور آپ کی کئی تالیفات اور تصنیفات ہیں۔

آپ نے اس میدان میں کئی کتب لکھیں جن میں سے مغنی اللبیب بھی ہے جو کہ مفردات جمل اور تراکیب پر مشتمل بہت اہم کتاب ہے، اسی طرح ان کہ ایک کتاب ہے جس کا نام ہے أوضح المسالک، یہ الفیہ ابن مالک کی شرح ہے جو موجز میسر کے نام سے مشہور ہے اور طلباء کے لئے نہایت آسان انداز سے لکھی گئی ہے، اور اسی طرح ان کی کتاب ہے شذور الذہب فی معرفۃ کلام العرب وغیرہ۔

آپ کی یہ مؤلفات ابھی تک جامعہ ازہر اور ازہر اور مصر کی دیگر جامعات میں پڑھائی جاتی ہیں، محض اتنا ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں عربی اور اسلامی جامعات میں پڑھائی جاتی ہے۔

عربی ادب پر مہارت رکھنے کی وجہ سے آپ امام کہلائے اور آپ کا چرچا ہونے لگا کہ آپ عربی لغت پر بہت عبور رکھتے ہیں اس کی حسن تعلیل اور استنباط پر آپ کو ملکہ حاصل ہے، یہاں تک کہ امام ابن خلدون جو اپنے مقدمہ کی وجہ سے مشہور ہیں وہ کہتے ہیں کہ آپ میں نحو کے امام سیبویہ کے اوصاف پائے جاتے ہیں، آپ نے تالیف اور تدریس اہل موصل (عراق) کا طریقہ اپنایا جو کہ نحو میں امام ابن جنی کے طریقے کو اپناتے تھے، اپنی تعلیم میں ان کی اصطلاحات کو اپنایا، یہ خصوصیات آپ کے نہایت اعلیٰ ملکہ پر دلالت کرتی ہیں، اسی وجہ سے آپ کی شہرت پوری دنیا میں پھیل گئی مشرق سے مغرب آپ کا چرچا ہونے لگا۔

آپ کا منہج اور کتب فقط مصر تک ہی محدود نہیں ہیں، بلکہ مشرق سے مغرب تک آپ کی اقتدا کی جاتی ہے، اور آپ کے علم سے استفادہ کیا جاتا ہے اور یہ سلسلہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے، آپ کے پاس ہر طرف سے طلبہ آتے تھے آپ علمی حلقوں میں شرکت کرتے تھے اور لوگ آپ کی مباحث اور دقیق نحوی نقط سے استفادہ کرتے تھے، اور عربی لغت کے میدان میں آپ کے عقلی اور نقلی استبناط سے ذوق پاتے تھے۔

جس طرح آپ مہارت اور ذہانت کی وجہ سے اعلٰی نام رکھتے ہیں اور علامت سمجھے جاتے ہیں اسی طرح ایک سچے اور نیک اور پارسا مسلمان ہونے کے ناطے آپ میں زہد رقت قلب، اور طلاب اور مریدین کا درد کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا، اور ہمیشہ اپنے طلباء کو صبر کی تلقین فرماتے تھے اور ان کو علم میں رغبت کا درس دیتے تھے، نبی کریم ﷺ کے اس قول کی اقتدا کرتے ہوئے کہ: [جو علم کی تلاش میں نکلا اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت کا راستہ آسان بنا دیتا ہے]

ابن ہشام فرماتے ہیں:

جو علم کی راہ میں صبر کرتا ہے وہ اپنے مقصد کو پا لیتا ہے، جو اچھی بات کرتا ہے وہ جدو جہد میں صبر کرتا ہے

اور جو بلندی پانے کے لئے اپنے آپ کو خوار نہیں کرتا تو پوری زندگی رسوا رہتا ہے

اللہ تعالیٰ رحم فرمائے شیخ پر اور ان جیسے دیگر علماء اور ائمہ پر جن کو عربی کی خدمت کے لئے منخب فرمایا اور انہوں نے عربی کے قانون وضع کرکے اسے مزین  کیا، اور اسے بولنے سمجھنے اور ادائیگی کے قابل بنایا، اور عرب اور غیر عرب کے لئے بولنے اور سمجھنے میں اس کو آسان تر بنایا، اس غرض کی خاطر کہ قرآن و سنت کو سمجھ کر دین کی صحیح فہم حاصل ہو۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment